محمد حسین ساحل
افواہ (انگریزی: Rumour) در حقیقت واقعات کی لمبی توجیہات ہیں جو ایک شخص سے دوسرے شخص تک گشت کرتے ہیں اور یہ کسی شے، واقعے یا عوامی دلچسپی کےموضوع سے متعلق ہو سکتی ہے۔کوئی وبا پھیل رہی ہے اس وجہ سے بچوں اور طالب علموں کو حفاظت کے نام پر گھر میں نظر بند رکھنا ایک بہت بڑی غلطی ہے ،غلط فہمی ہے۔
افواہوں کو کئی بار "غلط معلومات فراہمی” اور "بد دیانتی معلومات” کے ضمن میں موضوع بحث بنایا جا چکا ہے (جن میں سے اول الذکر صرف غلط معلومات ہیں جب کہ ثانی الذکر کو دانستہ طور پر غلط معلومات فراہمی کے طور پر دیکھا گیا ہے، حالانکہ یہ حکومت جسے کسی باوثوق ذرائع کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو دی جاتی ہے یا پھر کسی بیرونی حکومت کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے)۔
اس بات سے لوگ بے خبر ہیں کہ دُنیا میں نیو ورلڈ آرڈرپر تیزی سے عمل کیا جا رہا ہے، اس نئے ورلڈ آرڈر کو قائم کرنے کے لیے عالمی سرمایہ داروں کی تنظیم ورلڈ اکنامک فورم نے 2015 میں UNO کے ذریعے ایجنڈا 2030 پاس کیا اور اس ایجنڈے پر 193 ممالک کی حکومتوں نے دستخط کرکے اسے قبول کیا ہے۔
اس ایجنڈے کو سمجھدار والدین اور شہریوں نے سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم اس ایجنڈے کے نفاذ کے لیے منتخب کردہ 17 شعبوں میں سے ایک ہے۔نیا عالمی تعلیمی نظام دُنیا بھر میں کی پالیسی کے مطابق نافذ کیا جا رہا ہے۔
ہر ملک کی حکومت اس پالیسی کو اپنے اپنے ممالک میں مختلف ناموں سے نافذ کر رہی ہے۔ ہندوستان میں اس پالیسی کو ‘تعلیمی پالیسی 2020’ اور ‘قومی تعلیمی پالیسی 2020’ کے نام سے عمل پیرا ہے۔
NEP 2020 کے نفاذ کا فیصلہ ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں سمیت تمام سرمایہ دار شیئر ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت یا تبادلہ خیال کے بعد کیا گیا ہے۔سمجھدار والدین، شہریوں کو بھی اس ‘تعلیمی پالیسی 2020’ کا تھوڑا سا مطالعہ کرنا چاہیے۔
اس تعلق سےدو اہم چیزیں ہیں ایک ‘آن لائن تعلیم’ اور دوسری ‘100% مدافعتی ویکسینیشن۔بہت سے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کو ابھی تک اس کا علم نہیں ہے کہ کورونا کی وبا ایک افواہ ہے اور اس افواہ کو صرف نیو ورلڈ آرڈر 2030 کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے ” ایک مرکزی سوچ“ ‘سینٹر پوائنٹ بنایا گیا ہے۔
تمام پالیسیاں اس سینٹر پوائنٹ کی بنیاد پر انتہائی بد نیتی سے منظّم طور پر نافذ کی جا رہی ہیں۔
جعلی یا فرضی وبائی امراض کے خوف نے طلباء کو گھروں میں گویا نظر بند رکھا ہوا ہے اور طلباء اور والدین دونوں کو آن لائن سیکھنے کی عادت ڈالنے پر مجبور کر دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے مدافعتی نظام کو بڑھانے کے نام پر ‘امیون ویکسینیشن’، جو کہ نئی ویکسین کی ایک انتہائی خطرناک شکل ہے، 2030 تک ہر سال نا فذ کی جائے گی۔
ویکسینیشن کا کسی بھی وبا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ویکسینیشن ایجنڈا 2030 کی پالیسیوں کے اہم ترین نکات میں سے ایک ہے۔ 2015 سے ویکسی نیشن مہم کو اس ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے اور اس مہم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے میڈیکل کے شعبے کا غلط استعمال کرکے2021 سے جعلی وبا پیدا کردی گئی ہے۔
اس طرح 2030 تک اس وبا کو مرکز بنانے کے لیے متعدد حکمت عملیوں پر عمل کیا جائے گا۔2023 سے تمام اسکول، کالج، تعلیمی ادارے مرحلہ وار مکمل طور پر بند ہو جائیں گے اور دیکھا جا رہا ہے کہ تعلیمی عمل یونیورسٹیوں سے ہی شروع ہو گا۔ کیونکہ اس حوالے سے یونیورسٹیوں سے تجاویز طلب کی جا رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مزید تعلیم زیادہ سے زیادہ آن لائن ہوگی۔
اسکولس اور کالجوں کی جگہ اب سرمایہ دارانہ ‘نجی تعلیمی کمپنیاں’ لے لیں گی۔ کیونکہ یہ بنیادی طور پر عالمی تسلط پسند سرمایہ دار گروہ کا کارپوریٹ ایجنڈا ہے، نجی معاشی تنظیم جسے ورلڈ اکنامک فورم کہتے ہیں۔
دائمی غلامانہ ذہنیت میں رہنے والے والدین اور شہریوں کو اس طرح کے استحصالی نظام کے بارے میں کوئی سنجیدگی یا تشویش نہیں ہے۔ ایسے لوگ صرف اس نظام یا سسٹم کو ایڈجسٹ کرنے ، برداشت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور بالآخر ایسے لوگوں کو شاید اندازہ بھی نہ ہو کہ نئی تعلیمی پالیسی میں آپ کا مقام کہاں ہوگا۔
سمجھدار والدین غور کریں کہ نجی تعلیمی کمپنی کی داخلہ فیس بہت ہی زیادہ ہوگی۔ جلد ہی 5G انٹرنیٹ لانچ کیا جائے گا، اس کا ریچارج آج کے موجودہ قیمت سے مہنگا ہوگا، 5G انٹرنیٹ شروع ہونے کے بعد آپ کو اپنا پرانا 4G موبائل فون اور 4G سم پھینک کر مہنگا 5G فون لینا پڑے گا۔
ایک گھر میں جتنے بچے ہوں گے اتنے ہی موبائل فون یا لیپ ٹاپ ہوں گے۔ ہر کسی کو وقتاً فوقتاً مہنگے ریچارج کرنے پڑیں گے۔ کتنے لوگ اس قسم کا مستقل اخراجات کو برادشت کرنے کے اہل ہونگے ؟ اس کے علاوہ اتنی تگ و ُدو کرنے کے باوجود آپ کے بچے آن لائن تعلیم میں کس قسم کی تعلیم حاصل کریں گے؟
اُن کا کس قسم کا معیار بڑھنے والا ہے؟کیا اس تعلیم سے اُن کی صلاحیتیں پروان چڑھے گی؟ جیسے بیشمار مسائل پیش آنے والے ہیں۔
طلباء اور والدین کو ایک ہی وقت میں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیمی نظام پر ایک بار سرمایہ دارانہ اجارہ داری آ جائے تو طلباء اور والدین کی وقعت اور اہمیت ختم ہو کر رہ جائے گی۔ مزید یہ کہ مرد وخواتین کو ہر سال ویکسین کی ایک خوراک دے کر جسم کو کیمیکل لیبارٹری میں تبدیل کر دیا جائے وہ بھی ایک اہم قابل تشویش اور قابل غور باب ہے ۔
کیا ایسے منصوبہ بند انتظامات کے زیر اثر ہم مستقبل میں ذہنی اور جسمانی طور پر معذور نسل کو جنم دیں گے؟ والدین اورذمہ دار شہریوں کو ان سوالات کے جوابات اپنی سوچ و فکرمیں تلاش کرنا چاہئیے۔
عقلمند لوگ جنہوں نے صحیح جوابات تلاش کیے ہیں، تاہم، وبائی افواہوں اور زبردستی کی پالیسیوں کے خلاف دُنیا بھر میں احتجاج کے لیے سڑکوں پر آ رہے ہیں۔



