
اسرائیلی انتخابات میں نتن یاہو اتحاد کو برتری، حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں حاصل نہ ہو سکیں
حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا اہم کردار
یروشلم 30 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اسرائیل کے عام انتخابات میں وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی قیادت والے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد نے اپوزیشن کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کرلی ہیں، تاہم پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ حتمی نتائج کے مطابق ملک میں نئی حکومت کی تشکیل ایک پیچیدہ سیاسی مرحلہ بن گئی ہے، جبکہ دوبارہ انتخابات کا امکان بھی موجود ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی مجموعی 120 نشستوں میں سے نتن یاہو کے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ ان کی جماعت لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی انفرادی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں۔
انتخابی نتائج میں عرب سیاسی جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ نے بھی اہم حیثیت حاصل کرلی ہے۔ دونوں جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتی ہیں۔ کسی بھی بڑے سیاسی اتحاد کے پاس 61 نشستوں کی مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث ان جماعتوں کا کردار حکومت سازی میں فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
نتائج کے بعد اسرائیل میں حکومت تشکیل دینے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہوگئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر جماعتیں کسی قابلِ قبول اتحاد پر متفق نہ ہو سکیں تو ملک کو ایک بار پھر انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ پارلیمانی تقسیم کے باعث نئی حکومت کا استحکام بھی ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔
انتخابی عمل کے دوران نتن یاہو کی جماعت لیکود نے الزام عائد کیا کہ عرب اسرائیلی گروپوں کو ووٹنگ پر اثر انداز ہونے کے لیے بیرونی مالی معاونت فراہم کی گئی۔ ان الزامات میں قطر کا نام بھی سامنے آیا، تاہم عرب جماعتوں اور قطر نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔
لیکود نے رعام سے متعلق الزامات کو انتخابی عمل میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اسے ایک بڑے سیاسی تنازع کا نام دیا۔ دوسری جانب رعام کے سربراہ منصور عباس نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی اور تحقیقات کا خیرمقدم کیا۔
جوائنٹ لسٹ نے بھی نتن یاہو اور ان کے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عرب ووٹروں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے اشتعال انگیز مہم چلائی گئی۔
اسرائیل کی داخلی سلامتی سروس شِن بیٹ نے کہا ہے کہ وہ ووٹنگ کے دوران سامنے آنے والی مشتبہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا کہ تحقیقات کا مقصد کسی پورے طبقے کو نشانہ بنانا یا قانونی طریقے سے ووٹ ڈالنے والے شہریوں پر اجتماعی الزام عائد کرنا نہیں ہے۔
مرکزی انتخابی کمیشن نے بھی صورتحال پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق وسیع تر الزامات کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیون نے متعلقہ دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔
حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا اہم کردار
جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبرین نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت نتن یاہو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ تعاون کرسکتی ہے، تاہم وہ نئی حکومت میں براہِ راست شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے بھی نتن یاہو پر الزام لگایا کہ مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے کے بعد وہ انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گادی آئزن کوٹ نے کہا کہ لیکود اور نتن یاہو کی جانب سے نتائج کو متنازع بنانے کے لیے منظم مہم چلائی جارہی ہے۔
قطر نے بھی اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیا ہے۔ موجودہ نتائج کے بعد اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد سازی کے مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔



