آج کے اردودنیا کے اس کالم کی شروعات واٹس ایپ کے ایک مکالمے سے کرنا چاہوں گا۔ جو کہ ایک طالب علم کا اپنے ٹیوشن ٹیچر کے ساتھ ہوا ہے۔
گڈ آفٹرنون
کیا یہ آشا میم کا نمبر ہے؟
جی ہاں
ہیلو میم میں سال 2019-20 کے دوران دسویں جماعت میں آپ کا طالب علم تھا۔ میں آپ کو یہ مسیج اس لیے بھیج رہا ہوں کہ آپ کو معلوم ہوسکے میں نے آج اپنا بارہویں کا امتحان بھی کامیاب کرلیا ہے اور مجھے اچھے مارکس ملے ہیں۔ جس کی بنیاد پر مجھے اپنی پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ مل سکا ہے۔ اور میں نے اسی کورس میں داخلہ لیا ہے جو مجھے پسند تھا۔ میں آپ کو شکریہ بولنے کے لیے یہ مسیج نہیں بھیج رہا ہوں بلکہ یہ آگاہ کرنے کے لیے کر رہا ہوں کہ آپ اگلی مرتبہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا برتائو کریں۔ خاص طور پر ان طلبہ کے ساتھ جو آپ سے مدد مانگتے ہیں۔ آپ نے تو کہدیا تھا کہ میں کامیاب ہی نہیں ہوسکتا ہوں۔
اخبارHindustan Times نے ایک طالب علم کے اس مسیج کے حوالے سے 26؍ جولائی 2022ء کی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ زبان اور الفاظ کا اثر بہت دور رس ہوتا ہے۔ ہمت افزائی کے الفاظ ہوں یا دل شکنی کے۔ وقت گذرنے کے بعد بھی ان کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔اس لیے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ سے گفتگو کے دوران الفاظ کا محتاط استعمال کریں۔
یقینا اساتذہ کرام کا درجہ قابل احترام ہوتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ اساتذہ جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں کہ اس کو طلبہ تا عمر نہیں بھلا سکتے ہیں۔ ایک ایسے وقت جب طلبہ برادری پر بہتر سے بہتر مظاہرہ کرنے کے لیے دبائو بڑھتا جارہا ہے طلبہ برادری کی کونسلنگ کی اہمیت اور ضرورت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کیا سو فیصدی نشانات کا حصول ہی کامیابی ہے؟
شاہد چودھری ایک آئی اے ایس آفیسر ہیں۔ انہوں نے اپنے دسویں جماعت کے مارکس شیٹ کو شیئر کرتے ہوئے طلبہ پر واضح کردیا کہ اگرچہ وہ آج ایک آئی اے ایس آفیسر ہیں لیکن دسویں کلاس میں ان کا تعلیمی مظاہرہ بالکل غیر متاثر کن تھا۔
انگلش کے مضمون میں 70، میاتھس میں 55، ہندی/ اردو میں 71، سائنس میں 88 اور سوشیل اسٹڈیز میں 55۔ اس طرح شاہد چودھری نے 500 کے منجملہ 339 نشانات حاصل کیے تھے۔ کتنے ایسے اساتذہ تھے ہوں گے جنہوں نے شاہد چودھری کے اوسط مارکس پر تبصرہ کیا ہوگا۔ لیکن جن اساتذہ نے ان اوسط مارکس کے باوجود شاہد کی ہمت افزائی کیے ہوں گے یقینا ان کے لیے شاہد کے جذبات خوشگوار ہوں گے۔
خیر سے ہمارا موضوع اساتدہ نہیں بلکہ طلبہ کی ہمت افزائی ہے۔ تو موجودہ دور میں جس طرح سے طلبہ پر بہتر سے بہتر مارکس حاصل کرنے کے لیے دبائو بڑھتا جارہا ہے وہ نہایت تشویشناک ہے۔ پڑوسی ریاست تاملناڈو سے گذشتہ ایک مہینے کے دوران 4 طلبہ کی جانب سے خود کشی کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
21؍ جولائی 2022 کو شہر حیدرآباد کے ایک طالب علم کی خود کشی کی خبر سامنے آئی۔ تفصیلات کے مطابق 23 سال کا طالب علم آئی آئی ٹی ایم، گوالیار سے تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق طالب علم نے اپنی تعلیمی کارکردگی پر مایوس ہوکر خود کشی کرلی۔
ماہرین نفسیات کے مطابق مسابقت کے موجودہ ماحول میں طلبہ برادری نہ تو اپنی تعلیمی زندگی میں ناکامی کے لیے تیار ہے اور نہ زندگی کے امتحان میں فیل ہونا چاہتی ہے۔ حالانکہ تعلیمی ناکامی ہو یا زندگی کے کسی تجربے میں ناکامی، یہ سب آگے بڑھنے کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں ہیں۔ راستے بند ہونے کی نشاندہی نہیں۔
یہ 17؍ جولائی 2022ء کی بات ہے جب میڑچل پولیس کو ایک شکایت موصول ہوئی کہ ایک لڑکی جس کی عمر 19 برس ہے کالج جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئی اور رات دیر گئے تک بھی گھر واپس نہیں ہوئی۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کے والدین کو کالج کی سہیلیوں سے یہ پتہ چلا کہ کالج میں تو اس دن ٹسٹ تھا لیکن لڑکی نے ٹسٹ نہیں لکھا اور کالج چھوڑ کر چلی گئی۔ والدین طرح طرح کے خدشات اور تحفظات لے کر پولیس سے رجوع ہوئے کہ کہیں ان کی لڑکی کا کسی نے اغواء تو نہیں کرلیا، وغیرہ کیونکہ لڑکی کے پاس اس کا موبائل فون بھی نہیں تھا اور نہ ہی کچھ پیسے۔
کچھ دنوں بعد پولیس کو پتہ چلا کہ لڑکی ممبئی میں ہے اور پولیس اس کو وہاں سے شہر حیدرآباد واپس لانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ پولیس کے حوالے سے ٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ لڑکی دراصل اپنی تعلیم کو لے کر تنائو کا شکار تھی۔ اس لیے اس نے اپنی مرضی سے گھر اور کالج چھوڑ کر ممبئی کا رخ کرلیا تھا۔ (بحوالہ۔ ٹائمز آف انڈیا۔ 11؍ جولائی کی رپورٹ)
سکندرآباد کے بوئن پلی علاقے کی رہنے والی ایک 17 سالہ لڑکی صرف اس بات سے ناراض ہوگئی کہ اس کے والدین نے اس سے معذرت کرلی کہ وہ اس کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کنیڈا نہیں بھیج سکتے اور بس اسی بات پر لڑکی نے اپنے اسکول کی بلڈنگ سے چھلانگ لگاکر خود کشی کی کوشش کی۔ پولیس کے حوالے سے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 22؍ جولائی 2022 کی ایک رپورٹ میں لکھا کہ لڑکی کے والد خانگی ملازم ہیں ۔
انہوں نے چار برس قبل اپنے بڑے لڑکے کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کنیڈا بھیجا تھا۔ اب ان کی دوسری لڑکی بھی گریجویشن کے لیے کنیڈا جانا چاہتی تھی۔ لیکن ان کے معاشی حالات انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے تو انہوں نے لڑکی کو بتلایا کہ وہ اپنا گریجویشن انڈیا میں ہی پورا کرے۔ پھر آگے تعلیم کے لیے کوشش کی جائے گی۔ بس والدین کی بات پر ناراض 17 سالہ لڑکی نے اپنے اسکول بلڈنگ کی دوسری منزل سے کود کر خود کشی کی کوشش میں اپنی ایک ٹانگ تڑوا بیٹھی اور اب دواخانے میں زیر علاج ہے۔
دھرمیندر پردھان، مرکزی وزیر تعلیم ہیں۔ سی بی ایس ای کے نتائج جاری کرنے کے بعد اپنے سرکاری ٹوئیٹراکائونٹ کے ذریعہ انہوں نے طلبہ کی ہمت افزائی کے لیے اپنے تجربات شیئر کیے اور کہا کہ میں بھی ایک اوسط طالب علم تھا۔ دنیا ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ جہاں پر تعلیمی میدان اوسط مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے زندگی کے دیگر شعبوں میں زبردست نام کمایا ہے۔ 22؍ جولائی 2022ء کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی طلبہ کے نام ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ بعض طلبہ اپنے امتحانی نتائج سے خوش نہیں ہوں گے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ صرف ایک امتحان سے ان کی کامیابی کا پتہ نہیں چل سکتا ہے۔ آگے آنے والے وقت میں یقینا وہ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
قارئین کرام جس طرح کے دبائو اور تنائو کا سامنا آج کے طلبہ سامنا کر رہے ہیں اس کا ہم میں سے بہت سارے احباب کو شاید احساس بھی نہیں۔ ہم تو بس اپنے بچوں کی کارکردگی کو فیصد اور مارکس کے پیمانے پر ہی پرکھتے ہیں۔
آئی اے ایس آدیو ناشی شرن کی مثال یہاں موزوں معلوم ہوتی ہے۔ سال 2009ء کے کیڈر سے تعلق رکھنے والے شراون نے خود اپنے دسویں کلاس کے مارکس کو شیئر کرتے ہوئے بتلایا کہ دسویں کے بورڈ امتحانات میں انہوں نے 700 میں سے صرف 314 مارکس حاصل کیے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے سخت محنت کی اور پڑھ لکھ کر UPSC کا امتحان پاس کیا اور ایک آئی اے ایس آفیسر بنے۔
ان کے مطابق صرف تعلیمی کارکردگی کسی کی کامیابی کی ضامن نہیں ہوتی ہے۔ (بحوالہ DNA ، 9؍ جولائی 2022ء کی رپورٹ)
امتحانات، نتائج، رینکس اور نمایاں کامیابی کی ڈھیر ساری خبروں اور بہت سارے اشتہارات کے بیچ ایسے سینکڑوں، ہزاروں طلبہ موجود ہیں جو اوسط مارکس کے ساتھ کامیابی حاصل کیے یا جنہیں امتحان میں کامیابی کے لیے ایک مرتبہ پھر سے امتحان لکھنا ہے۔ ان کے متعلق بھی سونچنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے اطراف و اکناف میں موجود ایسے طلبہ کی ہمت افزائی کیسے کرسکتے ہیں۔
کیونکہ یہ امتحانات تو ہر سال ہوتے رہتے ہیں۔ فیل ہونے والوں کے لیے سپلیمنٹری امتحانات بھی ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ زندگی سے منہ موڑ لیتے ہیں ان کے لیے سب دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ نہ تو دنیا میں کچھ ملا اور نہ آخرت کی پکڑ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو زندگی کے صحیح معنی سمجھنے کی کوشش عطا فرمائے اور ہمارے بچوں کو دونوں جہاں کے امتحانات میں سرخروئی عطا فرمائے۔ (آمین۔ یارب العالمین)
بقول اسمٰعیل میرٹھی
چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھائو بھرا
لگا جو زخم زبان کا رہا ہمیشہ ہرا




