محمد مصطفی علی سروری
کیتھرینا امالیا پٹرکسن کارمن وکٹوریہ نے اس مہینے اپنی عمر کے 18 برس مکمل کرلیے قارئین یہ اتنے لمبے نام والی لڑکی کون ہے۔ وہ بھی جان لیجئے۔ کیتھرینا کا تعلق نیدر لینڈ سے ہے اور وہ وہاں کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور ایک شہزادی ہے۔ جو کہ ڈچ شاہی خاندان کی وارث بھی ہے۔ لیکن خاص بات یہ ہے کہ وہ ایک شہزادی ہونے کے باوجود عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کرتی ہے۔
امالیا کی تعلیم ایک سرکاری اسکول میں ہوئی اور اسکول جانے کے لیے وہ سائیکل چلاتی تھی۔ شہزادی امالیا کے والد بھی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک پائیلٹ کے طور پر KLM ایر لائنس میں کام کرتے ہیں۔ امالیا کو شاہی خاندان کے فرد ہونے کے ناطے 18 لاکھ ڈالر کا بجٹ سرکار سے ملتا ہے لیکن امالیا اس سرکاری فنڈس کو استعمال نہیں کرتی ہیں۔
بی بی سی نیوز نے 12؍ دسمبر کو ’’شہزادی امالیا: ڈچ تخت کی 18 سالہ وارث جو عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتی ہیں۔‘‘ کی سرخی کے تحت تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں بتلایا گیا کہ ڈچ شہزادی امالیا نے کہا کہ وہ سرکاری خزانہ کی رقم نہیں لینا چاہتی ہیں کیونکہ اس طرح وہ اپنے آپ کو بہت بے آرام محسوس کریں گی۔
قارئین یہ تو ڈچ شہزادی کی بات تھی جو مفت میں ملنے والی سرکاری رقم سے بھی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتی ہیں اور اس طرح سے وہ اپنے لیے سکون حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن ہمارے اطراف و اکناف، ہمارے ماحول اور سماج میں ہر دوسرا فرد ہے تو کچھ بھی نہیں نہ بینک بیالنس ہے نہ قارون کا خزانہ، نہ گھر ہے نہ اثاثہ مگر شاہی زندگی گزارنا چاہتا ہے تاکہ زندگی کی حقیقتوں سے دور بھاگا جاسکے۔
جو لوگ یوروپ کی اس شہزادی کی مثال کو غیر موزوں سمجھتے ہیں ان کے لیے ہمارے ملک ہندوستان سے ہی مثال ہے کہ کامیاب اور پرسکون زندگی کا راز تو یہ ہے کہ زندگی کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔
ٹکٹکی داس کی عمر 26 برس ہے۔ وہ مغربی بنگال کے ضلع 24 پرگنہ سے تعلق رکھتی ہے۔ سال 2020ء میں اس لڑکی نے انگلش میں پوسٹ گریجویشن کا کورس مکمل کرلیا۔ قارئین آپ حضرات سونچ رہے ہوں گے کہ اگر ایک لڑکی نے پی جی کرلیا ہے تو اس میں کیا خاص بات ہے۔ یوں تو ہر برس ہزاروں بلکہ پورے ملک میں لاکھوں بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
دراصل ٹکٹکی داس کی خاص بات یہ ہے کہ اس نوجوان لڑکی نے ایم اے انگلش کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین اور گھر والوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے سرکاری نوکری حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس لڑکی کو کوئی سرکاری نوکری نہیں ملی۔
اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع 20؍ نومبر 2021ء کی رپورٹ کے مطابق اپنے طالب علمی کے دور سے ہی ٹکٹکی نے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا تھا اور جب اس کو کوئی سرکاری ملازمت نہیں ملی تو اس پوسٹ گریجویٹ لڑکی نے خود اپنا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس لڑکی نے کونسا کاروبار شروع کیا اس کے متعلق انڈین ایکسپریس اخبار نے لکھا کہ ٹکٹکی داس نے چائے کی دوکان کھولنے کا فیصلہ کیا اور پھر یکم؍ نومبر 2021ء کو اس لڑکی نے انگلش چائے والی کے نام سے اپنی چائے کی دوکان ایک ریلوے پلیٹ فارم پر شروع کردی۔
چائے کی دوکان شروع کرنے کے لیے بھی اس لڑکی نے اپنے گھر والوں سے ایک روپیہ نہیں لیا بلکہ ٹیوشن پڑھاکر جو پیسے جمع کیے تھے اسی میں سے 10ہزار خرچ کرتے ہوئے چائے کی دوکان کھول لی اور اب اپنی دوکان سے منافع کماکر بڑی خوش ہے۔ وہ کہتی ہے کہ لوگ چائے کے کاروبار کو کم تر سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
قارئین ہمارے ملک ہندوستان میں ایسی کئی مثالیں ملیں گی جس سے پتہ چلے گا کہ محنت کرنے والوں کے لیے کبھی بھی راستے بند نہیں ہوتے ہیں۔ چائے کے حوالے سے تو آپ نے پڑھ لیا کہ کیسے ایم اے انگلش لڑکی چائے بیچ کر منافع کما رہی ہے۔ آیئے سموسے کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں چائے کے بعد دوسرا سب سے مقبول عام نام سموسے کا ہے۔
قارئین آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ کاروبار کرنے کے لیے سنجیدہ افراد نے ہندوستان میں سموسے کی مارکٹ پر بھی باضابطہ ریسرچ کی اور اخبار بزنس اسٹانڈرڈ کی 8؍ دسمبر 2021ء کی دیپ شیکھر چودھری کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک ہندوستان میں ہر روز اندازاً 60 ملین سموسہ بنتا اور بکتا ہے۔
سموسے بنانا اور بیچنا یقینا غیر منظم شعبے کا کاروبار ہے لیکن آپ حضرات کو یہ جان کر دلچسپی ہوگی کہ صرف ہندوستان میں سموسہ بنانے اور فروخت کرنے کی مارکٹ کے متعلق اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ 3.65 تین اعشاریہ چھ پانچ بلین ڈالر کی صنعت ہے۔
بزنس اسٹانڈرڈ کی رپورٹ میں ایسے ہی ایک کمپنی کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سموسہ بنانے کا ہی کاروبار کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا نام سموسہ پارٹی ہے اور سال 2017ء میں اس کا آغاز کیا گیا تھا۔ بنگلور اور گڑگائوں دو شہروں میں یہ کمپنی اپنے سموسے فروخت کرنے کے لیے 15 آئوٹ لیٹ چلاتی ہے اور روزانہ ایک ہزار سموسے فروخت کرتی ہے۔
کمپنی کے حوالے سے بتلایا گیا کہ کمپنی ابھی تک 12 ورائٹی کے 25 لاکھ سموسے فروخت کرچکی ہے۔ سموسہ پارٹی کے مالکان دو نوجوان دیکشا پانڈے اور امت ناتوانی اب اپنی کمپنی کو ملک کے 100 شہروں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ابھی تک اپنے کاروبار کے وینچر کے لیے 2 ملین ڈالر کی رقم اکٹھا کرلی ہے۔
یہ تو سموسے کے کاروبار کی بات رہی جو ثابت کر رہی ہے کہ محنت کرنے کے لیے ہزار راستے ہیں اور سموسے فروخت کر کے بھی دولت کمائی جاسکتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کی زندگیاں اور اس سے جڑی کہانیاں محنت کرنے کی ترغیب دلاتی ہیں۔ روس کے صدر ولادیمر پوٹین کا شمار آج دنیا کے طاقتور ترین سربراہان مملکت کے طور پر ہوتا ہے۔
آج سے 30 برس قبل جب سویت یونین بکھرگیا تو سارے روس کے عوام معاشی مسائل میں گھر گئے تھے۔ بی بی سی ڈاٹ کام کی 13؍ دسمبر کی رپورٹ کے مطابق آج دنیا کے طاقتور ترین رہنمائوں میں شمار ہونے والے پوتین کے لیے وہ ایک مشکل وقت تھا۔
سویت یونین کے بکھرنے کے بعد معاشی بحران نے عام روسیوں کی زندگی کو شدید متاثر کردیا تھا اور لوگ پیسہ کمانے کے لیے ایک سے زیادہ نوکریاں کرنے پر مجبور ہوگئے تھے پوتین کا شمار بھی ایسے ہی روسیوں میں ہوتا تھا جن کو پیسوں کی ضرورت تو تھی اور ایک نوکری سے ملنے والے پیسے بس نہیں ہوتے تھے تو انہوں نے ٹیکسی چلانا شروع کردیا تھا۔ یہ دنیا کے طاقتور حکمران کی مثال ہے۔
مسلم نوجوان بھی کمانا چاہتا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے لیکن وہ کیسے کمانا چاہتا ہے ذرا غور کریں۔
21 سال کا ایک نوجوان نالا سوپارہ، ممبئی میں رہتا ہے۔ آئی ٹی انجینئرنگ کے تیسرے سال کا یہ طالب علم چاہتا تھا کہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کچھ کمائی بھی کرے تاکہ والدین کی مدد کرسکے۔
آج کل کے نوجوانوں کی طرح اس انجینئرنگ کے طالب علم نے بھی کمانے کے لیے محنت کی اور محنت کیا تھی وہ بھی جان لیں۔ یہ نوجوان انٹرنیٹ پر تلاش کر رہا تھا کہ گھر بیٹھے پیسے کیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد اس نوجوان کو ایک ایسے ایپلی کیشن کا پتہ چل گیا جس کو ڈائون لوڈ کر کے پیسے کمائے جاسکتے تھے۔
نوجوان نے اس ایپ کو ڈائون لوڈ کر کے اپنا رجسٹریشن کروالیا۔ اس کے بعد نوجوان کو ایک خاتون کا فون آتا ہے جو اس کو App کو استعمال کرنے کا طریقہ بتلاتی ہے۔ نوجوان خاتون کی ہدایت پر عمل کرتا ہے اور ایک Chopstick کی خریداری کرتا ہے۔ جس کے بارے میں بتلایا گیا کہ 300 کی چیز دو سو روپیوں میں مل گئی اور ساتھ ہی نوجوان کو بتلایا گیا کہ اس کے App کے اکائونٹ میں 300 روپئے جمع ہوگئے ہیں۔
یعنی 200 روپئے خرچ کرنے پر ایک چیز تو مل گئی مگر ساتھ اصل قیمت بھی اکائونٹ میں جمع ہوگی۔ اس طرح کے منافع پر خوش نوجوان نے اب بڑی تیزی سے آن لائن خریداری شروع کردی۔ اپنے ماں باپ کی مدد کرنے اور بھاری منافع حاصل کرنے کے لیے اس نوجوان اپنے والدین سے ڈھائی لاکھ روپئے لے کر وہ ساری رقم آن لائن کاروبار میں لگادی۔
اس طرح جب نوجوان کا منافع چار لاکھ ننانوے ہزار تک پہنچ گیا تو نوجوان نے App میں جمع پیسہ اپنے اکائونٹ میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست کی تو کمپنی کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اپنے منافع کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ مزید 75ہزار روپئے کی رقم دے۔ جب نالا سوپارہ کے اس انجینئرنگ کے طالب علم نے واضح کردیا کہ وہ مزید 75 ہزار جمع نہیں کرسکتا ہے تو اس کے بعد کمپنی کے اہل کاروں سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا۔
پریشان ہوکر اب نوجوان پولیس اسٹیشن کے چکر لگا رہا ہے اور پولیس سے مدد مانگ رہا ہے کہ اس کو منافع نہ صحیح کم سے کم اس کے والدین کے ڈھائی لاکھ روپئے واپس کردیئے جائیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کے لیے محنت کے راستے پر چلنے اور حلال روزی کمانے کے کام کو آسان کردے اور جو صراطِ مستقیم پر گامزن ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمادے۔ (آمین یارب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



