سیاسی و مذہبی مضامین

سوچ بدلنی ضروری ہوگئی ہے۔✍️محمد فاروق دانش

طلبہ کوئی بھی ہو لڑکے یا لڑکیاں، دنیا بھر میں یہ دونوں صنف پڑھنے کی جانب بھرپور انداز سے مائل ہیں اور اپنی ترقی کے لیےکوشاں ہیں۔ سب اپنے اپنے طور پر مصروف عمل ہیں لیکن ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں پڑھائی کی طرف زیادہ مائل ہیں اور اپنی دلچسپی کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔

جبکہ لڑکوں میں ایسے بھی ہیں جو بزور والدین پڑھائے جارہے ہیں ورنہ ایسی تعداد بھی ہے کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ پڑھنے کے علاوہ دنیا کے تمام مشاغل اپنانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی بقا اور ترقی کے لیےمرد اور عورت دونوں کا کردار اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ عورت کو مرد کا نصف کہا جاتا ہے۔

جب اس نصف کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا تو وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے گی۔ تعلیم و تربیت کا فقدان ہو تو سماج کا یہ نصف فکر اور شعور سے محروم رہ جائے گا۔

تعلیم کے معاملے میں اکثر والدین لڑکوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں بہ نسبت لڑکیوں کے! ان کا ایک خیال یہ ہوتا ہے لڑکے ہی ان کا مستقبل ہیں اور وارث ہیں اس لئے ان کو پڑھا لکھا کر قابل بنایا جانا چاہئے۔

اردو دنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.urdu.urduduniya

اس کے باوجود لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں پڑھائی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ والدین کی سوچ لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں تبدیل ہوئی ہے لیکن ذہنی پسماندگی کا تناسب زیادہ ہے۔ ماں، باپ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں پھر زیادہ تعلیم کیوں…؟ یہ یاد رکھئے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔

ضروری نہیں کہ بہت اونچے، کھاتے پیتے گھرانے میں بیاہنے سے لڑکی کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا، یہ ایک عمومی سوچ ہے۔ ایک پڑھی لکھی، پراعتماد لڑکی یقیناً حالات کا مقابلہ کرسکتی ہے اور اپنا اور اپنے کنبے کو سہارا دے سکتی ہے۔

موجودہ معاشرے میں لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا اشد ضروری ہے ،تاکہ وہ کسی پر انحصار کرنے کے بجائے ایک ذمہ داری شہری بنیں اور ملک و ملت کیلئے ایک اثاثہ ثابت ہوسکیں۔ تعلیم کے بغیر معاشرے میں سدھار کا تصور فضول ہے۔

تعلیم ہی وہ زیور ہے ،جس کے ذریعے اخلاق وکردار کو سنوارا جاسکتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم ہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا سبب بن پائے گی۔ گھر گرہستی سے جنگ کے میدان تک، تعلیم سے عدالت، شفا خانوں میں مسیحائی تک اور سائنس کے میدان میں ایجادات تک تاریخ اس کے کردار اور کارناموں سے مزین ہے۔

کیا خواتین صرف ہانڈی، چولھا کرنے اور ہر ایک کی خدمت کرنے کیلئے ہی پیدا ہوئی ہیں؟ یہ درست ہے کہ گھر اور ہانڈی، چولھا عورت سنبھالتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی زندگی کا صرف یہی ایک مقصد ہے اور وہ اس کے سوا کچھ نہ کرے۔ وہ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے اگر اس قابل ہے کہ اپنی خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ اپنی ضروریات اور تعلیمی قابلیت کے مطابق کوئی کام کرسکے تو اسے پابند کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔

یاد رکھئے! اگر قوم کی بیٹی علم کے زیور سے آراستہ ہوگی، وہ کبھی بھی کشکول لے کر غیر کے در پر نہیں جائے گی۔ مردوں کی طرح تعلیم عورت کا بھی مکمل حق ہے اور ہم میں سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ حوا کی بیٹی کو اس کے اس بنیادی حق سے محروم کردیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button