وقت پر نماز پڑھنا فرض ہے
ایک ڈاکٹر صاحب تھے، ان کی بیوی نے بتایا کہ میرے شوہر ویسے تو بہت اچھے ہیں لیکن مطب کے اوقات میں نماز نہیں پڑھتے، میں ان سے کہتی ہوں کہ مطب کے اوقات کے دوران جب نماز کا وقت آئے تو نماز پڑھ لیا کرو، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ میں تو لوگوں کی خدمت کررہا ہوں اور یہ حقوق العباد میں سے ہے۔مطب میں مریض بیٹھے ہوں اور میں اپنی نماز شروع کردوں؟ چنانچہ وہ مطب بند کرکے رات کو جب گھر آتے ہیں تو عصر، مغرب، اور عشاء تینوں نمازیں اکٹھی پڑھ لیتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں تو خدمت خلق کرتاہوں اور خدمت خلق کے دوران نمازیں قضا ہوجائیں تو اس میں کچھ حرج نہیں۔
بھائی! خدمت خلق تم پر اس طرح فرض عین نہیں جس طرح نماز فرض عین ہے۔ دوسرے اس خدمت خلق کے ساتھ نماز کا کوئی تعارض بھی نہیں ہے، اگر تم عصر کی چار رکعت پڑھ کر دوبارہ مریضوں کو دیکھنا شروع کردو تو اس میں کوئی تکلیف ہوگی؟ لہٰذا نفس نے نمازیں قضا کرنے کا ایک بہانہ تلاش کرلیا کہ خدمت خلق ہو رہی ہے ۔
یہ سب افراط اور تفریط ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ دین کی صحیح فہم اور سمجھ نہیں۔ اسی لئے حضرت فرماتے ہیں کہ دوسرے کی دل شکنی سے بچنے کی خاطر اپنے دین کو توڑ دینا ٹھیک نہیں ۔ لہٰذا یہ خیال کرنا کہ میں اگر اس کو غیبت سے روکوں گا تو اس کا دل برا ہوگا ،یا میں اٹھ کر چلا جائو ں گا تو اس کا دل برا ہوگا، یاد رکھئے! اگر معصیت سے بچنے کے نتیجے میں دوسرے کا دل برا ہوتا ہے تو ہونے دو، اس کی پرواہ ہی مت کرو۔ تم اس حد تک مکلف ہو کہ جائز حدود میں رہ کر اس کی دل شکنی سے بچو، لیکن جہاں دل شکنی سے بچنے کے لئے کسی گناہ کا ارتکاب کرنا پڑے تو پھر دل ٹوٹتا ہے تو ٹوٹنے دو، اس کی پرواہ نہ کرو۔
دوسروں کی دنیا بنانے والا
ایک حدیث شریف میں جناب رسول اللہ e نے ارشاد فرمایاکہ جو شخص دوسرے کو دنیا کا فائدہ پہنچانے کے لئے اپنی آخرت خرا ب کرے تو اللہ تعالیٰ اس دوسرے شخص کو دنیا ہی میں اس پر مسلط کردیتے ہیں کہ تو نے اس کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت خراب کی تھی۔
اب یہ تیری دنیا کو بھی خراب کرے گا۔ جو لوگ بیوی بچوں کو آرام اور راحت پہنچانے کی خاطر حرام آمدنی میں مبتلا ہوتے ہیں تو تجربہ یہ ہے کہ وہی بچے اس باپ کے سر پر جوتے بجاتے ہیں ،اس لئے کہ اس نے بیوی بچوں کو راضی کرنے کی خاطر اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا، اور ان کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت خراب کی، تو پھر دنیا کے اندر ہی ان کو مسلط کردیا جاتا ہے۔ اس لئے دوسرے کی دل شکنی سے بچنے کے لئے اپنی دین شکنی مت کرو۔
شیخ خادم ہوتا ہے تبرک نہیں
دیکھئے انہوں نے لکھنو میں کام شروع کیا ہے انشاء اللہ کام ہوگا اور جب یہ لوگ کام شروع کریں گے تو میں بھی خادم ہوں جیسا میں نے ایک دن بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود uپر یہ وحی فرمائی کہ : یَا دَاؤُدُ اِذَا رَأَیْتَ لِیْ طَالِبًا فَکُنْ لَہٗ خَادِماً ’’یعنی اے دائود جب تمہارے پاس ہمارا کوئی طالب آئے تو تم اس کے خادم بن جانا۔ اسی طرح کہتا ہوں کہ آپ کام کیجئے میں بھی خدمت کے لئے حاضر ہوں۔ البتہ تبرک نہیں بننا چاہتا‘‘۔
اصل کام دینی ماحول وفضا بنانا ہے
الہ آباد سے لوگ اب بہت بلارہے ہیں سمجھتے ہوں گے کہ کہیں وہیں نہ رہ جائیں۔ میں نے کہا تم لوگ کچھ سمجھتے ہوگے تو میں بھی کچھ سمجھتا ہوں ۔ ایک دفعہ میں نے لوگوں سے وہاں کچھ کہا تھا عمل واخلاص وغیرہ کا مطالبہ کیا ہوگا۔ اس پر سب لوگوں نے کچھ کچھ کہا ایک وکیل صاحب نے بہت عمدہ بات کہی آخر وکیل ہی تھے کلام کا سلیقہ آتا تھا، کہا کہ تمہارے یہاں آنے کی وجہ سے ہم لوگو ں کو بہت بہت نفع پہنچا اور وہ یہ کہ یہاں ایک دینی ماحول پیدا ہوگیا مجھے ان کی یہ تعبیر بہت پسند آئی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کہیں امام ہو، مسجد ہو، نماز ہو لیکن دینی ماحول غائب ہو۔
یہ سب چیزیں پہلے سے تھیں مسلمان رہتے ہی تھے اس لئے نماز روزہ سب کچھ تھا مگر سمجھتے تھے کہ دینی ماحول نہیں ہے، جواب ان کے آنے کے بعد پیدا ہوا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے یہ بھی کہا کہ تمہارے ہی خیال کے لوگ ہیں یعنی مسلک سب کا ایک ہے مگر سب ایک دوسرے سے الگ الگ اور بیگانہ ہیں۔ کسی کو کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور باہم کوئی ہمدردی نہیں ہے کوئی کسی کا پوچھنے والا نہیں، بہر حال کام میں مشکلات ہیں اسلئے جب کام کرو گے تب جماعت بنے گی یا ایسے ہی بن جائے گی؟
کام کرنے سے پہلے کام کا طریقہ سیکھنا چاہئے
لیکن کام کرنے کے لئے پہلے کام جاننے والوں سے سیکھنا ضروری ہے اس کے بعد کام کیا جائے تو اللہ تعالیٰ چونکہ اپنے دن کے خود محافظ ہیں۔ مدد کریں گے کام جاننے والا کام کو سمجھتا ہے اور اس کا طریقہ جانتا ہے اس لئے پہاڑ کو ہٹادیتا ہے ۔ لہٰذا جب کام سیکھ کر کام کیا جائے گا تو کام کیو ںنہ ہوگا۔
اپنی اصلاح کے بعد دوسروں کی اصلاح
مگر آدمی کو چاہئے کہ پہلے کام خود کرے اور دوسروں کو بعد میں کہے انسان خود ہی واعظ ہوتا ہے اور خود ہی مستمع ۔روح المعانی میں ہے کہ انداز بعد تفقہ اور تحلی بالفضائل کے مناسب ہے (یعنی علم دین اور فضائل اخلاق سے آراستہ ہونے کے بعد وعظ وتذکیر مناسب ہے) اس لئے کہ اسی کے نافع ہونے کی امید ہے ۔ کسی نے اسی کو خوب کہا ہے۔ ؎
یَا اَیُّہَا الرَّجُلُ الْمُعَلِّمُ غَیْرَہُ
ہَلاَّ لِنَفْسِکَ کَانَ ذَا التَّعْلِیْمُ
تَصْفُ الدَّوَائَ لَّذِی السِّقَامِ وَذِی الضَّنَی
کَیْمَا یَصِحَّ بِہِ وَاَنْتَ سَقِیْمُ
اَبْدَاْ بِنَفْسِکَ فَنْہَہَا عَنْ غَیِّہَا
فَاِذَا انْتَہَتْ عَنْہُ فَاَنْتَ حَکِیْمُ
فَہُنَاکَ تُعْذَرُ اِنْ وَعَظْتَ وَیُقْتَدٰی
بِالْقَوْلِ مِنْکَ وَیُنْفَعُ التَّعْلِیْمُ
یعنی اے شخص جو دوسرو ںکو سبق دے رہا ہے خو داپنے نفس کو کیوں نہیں تعلیم دیتا۔ تو دوسرے مریضوں او رلاغروں کو دوا بتاتا ہے تاکہ وہ اسکے ذریعہ صحت مند ہوجائیں اور حال یہ ہے کہ تو خود بیمار ہے۔تعلیم اور تبلیغ کو اپنے نفس سے شروع کر یعنی اس کو اس کی برائیوں سے روک۔ جب وہ باز آجائے گا اس وقت تو حکیم ہوگا اور اس وقت تیرا کہا ہوا سنا جائے گا اور تیرے قول کی اتباع کی جائے گی اور تیری تعلیم نفع دے گی۔
(ماخوذ: از افادات حکیم الامتؒ صفحہ: 98 تا 103 مؤلفہ حضرت از حبیب الامت)٭
⇦ Join Urdu Duniya WhatsApp Group.https://chat.whatsapp.com/JBmc63JLoOS1vj9SSY2QZp https://play.google.com/store/apps/details?id=com.urdu.urduduniya |



