محمد مصطفی علی سروری
ضرورت ہے ایسے مرد و خواتین کی جنہوں نے دسویں یا بارہویں پاس کیا ہو اور جنہیں کھیتوں میں کام کرنے کا تجربہ ہو ۔ ماہانہ تنخواہ 74,900 تا 1,12,300 ہندوستانی روپیوں کے درمیان دی جائے گی۔ حکومت کیرالا کی بیرون ملک ملازمت کی نشاندہی کرنے والی ایجنسی کی جانب سے جب اس طرح کا اشتہار جاری کیا گیا تو 5000 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔
حالانکہ ضرورت صرف 100 کام کرنے والوں کی تھی لیکن درخواست گذار بہت زیادہ تھے۔حالانکہ اشتہار میں امیدواروں سے صرف دسویں کامیاب ہونا ضروری کیا گیا تھا لیکن اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کئی ایک امیدوار پوسٹ گریجویٹ تھے۔
جنہوں نے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔قارئین کرام اخبار ٹیلی گراف کی یکم ؍ نومبر کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے کھیتوں میں پیاز کی کاشت کرنے کے لیے100 لوگوں کی ضرورت تھی جن کو امریکی ڈالرس میں ایک ہزار سے پندرہ سو ڈالر کی تنخواہ کی پیش کش کی گئی تو پیاز کی کاشت کا کام کرنے کے لیے 32 سال کے کے ایس کرن نے بھی درخواست داخل کی۔
کرن نے ایم بی اے کورس مکمل کیا اور گذشتہ برس کی کویڈ کی پہلی لہر کے دوران اس کی نوکری چلی گئی۔ اس نے اخبار کو بتلایا کہ وہ بے روزگار ہے اور حصول روزگار کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہے اور بیرون ملک ساوتھ کوریا میں اس کو پیاز کے کھیت میں کام کرنے کا آفر اچھا لگا تو اس نے درخواست داخل کردی ہے۔
حکومت کیرالا کی بیرون ملک روزگار کے حصول میں مدد کرنے والے ایجنسی کے ایم ڈی انوپ نے پیاز کے کھیت کا کام کرنے والے درخواست گذاروں کی تین زمروں میں تقسیم کی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزگار کے حوالے سے نوجوانوں کی فکر اور سونچ کیسے کام کر رہی ہے۔
مسٹر انوپ کے مطابق 5 ہزار درخواست گذاروں میں سے 90 فیصدی درخواست گذار کہیں نہ کہیں پہلے ہی سے نوکری کر رہے ہیں لیکن یہ لوگ بہتر سے بہتر کی تلاش میں ہے اور پرکشش تنخواہ حاصل کرنے کے لیے اپنی موجودہ نوکری چھوڑ کر سائوتھ کوریا جانے اور کھیتوں میں بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسرا گروپ ایسے نوجوانوں کا ہے جنہیں سائوتھ کوریا جانے میں اس لیے دلچسپی ہے کہ وہاں جاکر جدید زراعت کے طریقے سیکھنا چاہتے ہیں تاکہ بعد میں وہ اپنے وطن واپس آکر ان طریقوں کو استعمال کر کے اپنی زراعت کو اپنے وطن میں ہی ترقی دے سکیں۔
تیسرے زمرے میں درخواست دینے والے وہ لوگ ہیں جو آئی ٹی اور مینجمنٹ کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں وہ پیاز کے کھیتوں میں کام کے آفر کو ایسا موقع سمجھتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ سائوتھ کوریا جاکر وہاں کی جاب مارکٹ میں اپنے لیے دوسرے مواقع ڈھونڈنا چاہتے ہیں کیونکہ کوریا کا جاب ویزا مشکل سے ملتا ہے۔ اس لیے وہ کھیتوں میں کام کرنے کے ویزے سے فائدہ اٹھاکر وہاں کے سسٹم کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
قارئین کرام روزگار کی تلاش میں جس طرح سے لوگوں میں جستجو ہوتی ہے ذرا غور کیجئے گا کہ مسلمانوں میں خاص کر نوجوانوں میں اس حوالے سے کیا صورت حال ہے۔
پارتھیو ٹھاکر ایک ایسے ہندوستانی ہیں جو شکاگو میں Motel چلایا کرتے تھے۔ ان کی بیوی اور چھوٹی بچی احمد آباد میں رہتی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ سال2019ء کے آغاز میں پارتھیو کی بیوی کو کینسر ہوگیا۔ بس بیوی کی پریشانی دیکھ کر وہ فوراً احمد آباد واپس آگیا۔ ادھر وہ ہندوستان آیا ادھر کرونا کی وباء نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کئی ممالک میں لاک ڈائون لگادیا گیا۔
فلائٹس بند ہوگئیں اور پارتھیو اب ہندوستان میں ہی پھنس گیا۔ ادھر شکاگو میں اس کا Motel بھی بند ہوگیا۔ ادھر بیوی کا کینسر کا علاج کروانے کے دوران پارتھیو کے ہاں بینک بیالنس بھی ختم ہوگیا اور اس کے ہاں کوئی نوکری بھی نہیں تھی۔ وہ لندن و شکاگو میں اسٹیج شوز کرتا تھا وہ بھی بند ہوگئے۔ آمدنی ہر طرف سے بند ہوگئی۔
پارتھیو تنائو کا شکار ہوکر ڈپریشن میں جارہا تھا اس کی بیٹی نے تب اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ وہ امریکہ میں کاروبار کرسکتا ہے تو انڈیا میں کیوں نہیں۔ بس پارتھیو کو آگے بڑھنے کا راستہ نظر آنے لگا۔ اس نے IIM احمد آباد کے قریب سال 2020ء میں اپنے کھانے کی دوکان کھول لی۔
جتنے پیسے بچے تھے سب اس دوکان میں لگادیئے جو پکوان امریکہ میں کھاتا تھا وہی پکوان اور ڈشز انڈیا میں بناکر بیچنا شروع کردیا۔ اپنی پرانی ماروتی 800 گاڑی کو پکوان کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا اور ایک سال میں پکوان اور کھانوں کی یہ دوکان چل پڑی۔ جو پیسے لگائے تھے وہ تو واپس آگئے اب آمدنی ہونے لگی تھی۔ پارتھیو نے Brut انڈیا کو دئے گئے اپنے انٹرویو میں بتلایا کہ حالات سے ڈرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔
حالات کا سامنا کرنے سے آگے کا راستہ نظر آتا ہے۔ میری بیوی کی طبیعت بھی بہتر ہونے لگی اور کاروبار بھی چل پڑا اور میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوگیا ہوں۔پرمیشوری ایک گرہست خاتون ہیں۔ اس کا شوہر قصاب کا کام کرتا ہے لیکن قصاب کے کام سے جو آمدنی ہورہی ہے وہ گھر کے اخراجات کو بمشکل پورا کر رہی تھی۔
ایسے میں پرمیشوری نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی کچھ نہ کچھ کام کرے گی تاکہ اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاسکے۔ محلے کے بچوں نے بتلایا کہ Septik ٹینک کی صفائی کے کام میں آمدنی اچھی ہے بس پرمیشوری نے اسی کام کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پرمیشوری کو اس کام کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ تو اس نے قرضہ لیا اور Septik ٹینک صاف کرنے کا ایک ٹرک خریدا اور خود ہی لوگوں کے Septik ٹینکوں کو صاف کرنے کے لیے جانے لگی۔
پرمیشوری کا شوہر اگرچہ قصاب تھا لیکن اس نے گھر کے خرچہ کو پورا کرنے میں اپنے شوہر کی مدد کرنے کی ٹھانی اور دنیا کی پرواہ نہیں کی۔ اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی 29؍ اکتوبر 2021ء کی رپورٹ کے مطابق پرمیشوری نے اپنی بڑی لڑکی کو انجینئرنگ کا کورس کروایا۔
دوسری لڑکی لاء کا کورس کر کے وکیل بن رہی ہے اور اس کا لڑکا بھی انجینئرنگ کر رہا ہے اور سب بچے اچھی طرح سے ترقی کر رہے ہیں۔
پرمیشوری کہتی ہے کہ لوگ مجھے گندگی صاف کرنے والی کہتے تھے۔ مجھے اور میرے کام کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن مجھے اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، ان کی ترقی کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ میں نے محنت کی اور بچوں کو پڑھایا۔
کورونا کے بعد عام آدمی کے حالات بہت بدل گئے۔ عام آدمی تو دور بڑے بڑے اداروں اور تو اور حکومتوں کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت پڑگئی ہے۔ جاب مارکٹ کے چیالنجس ہوں یا تعلیم کے دیگر اقوام اس حوالے سے فکر کر رہی ہیں اور عملی اقدامات بھی تاکہ بدلتے ہوئے حالات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرسکیں۔
قارئین کرام یہ بات ہمیں سمجھ لینی ہوگی کہ آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ ہونا ہے۔ یقینا مسلمانوں میں حصول تعلیم کے حوالے سے ترجیحات بدلی ہیں لیکن روزگار اور معاش کے حوالے سے آج بھی فرسودہ خیالات اور روایاتی منصوبہ بندی بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
اس ضمن میں کیرالا کی مثال موزوں معلوم ہوتی ہے کہ کس طرح سے کیرالا کے ملیالی نوجوان بہتر ذریعہ معاش کے لیے جنوبی کوریا جاکر وہاں پر پیاز کے کھیتوں میں بھی کام کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے تاکہ بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کے حرکت کی جائے۔ کچھ نہیں تو کھیتوں میں ہی کام کر کے تجربہ حاصل کیا جائے۔
اس کے علاوہ پرمیشوری کی بھی مثال ہے جس کا شوہر بطور قصاب کام کر رہا ہے، آمدنی سے گھریلو ضروریات کو پورا نہیں کر رہی ہے تو گھر کی عورت نے حالات کا رونا رونے کے بجائے آگے بڑھ کر کام کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور پھر اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق لوگوں کے septik ٹینکوں کی صفائی کر کے ایک خاتون اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کو یقینی بناتی ہے۔
دوسری طرف جب کسی قوم میں آمدنی کے لیے کچھ بھی کرنے کو جائز سمجھا جانے لگتا ہے حلال و حرام کی تمیز مٹ جائے تو کم عمر بچے بھی بڑے بڑے جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں۔
اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی 2؍ نومبر 2021ء کی رپورٹ کے مطابق بنجارہ ہلز حیدرآباد کی پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک 13 سالہ ساتویں کا اسٹوڈنٹ اپنے ہی کلاس میٹ کو مجبور کر تا ہے کہ وہ گھر سے ایک لاکھ روپئے چوری کر کے اس کو لاکر دے اور ذرا خبر کی تفصیل بھی پڑھئے گا۔
ساتویں جماعت کا کم عمر لڑکا والد کے ہاں سے رقم چوری کرکے اپنے کلاس میٹ کو لے جاکر دیتا ہے اور اخبار ٹائمز آف انڈیا کی اس واقعہ میں رپورٹنگ میں بتلایا گیا کہ جو لڑکا اپنے کلاس میٹ سے ہی گھر میں چوری کرواتا ہے وہ یہ رقم اپنے ماموں اور ماں کے حوالے کرتا ہے اور یہ لوگ نہ تو لڑکے سے کوئی سوال کرتے ہیں اور نہ یہ معلوم کرتے ہیں کہ ساتویں جماعت کا بچہ لاکھوں کی رقم کہاں سے لایا ہے۔
بنجارہ ہلز پولیس کے مطابق ان دو افراد خاندان ماں اور ماموں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 411 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔قارئین کرام یقینا اکل حلال کے لیے دعا کرنی چاہیے ساتھ ہی اپنے بچوں کو یہ سبق بھی پڑھانا ضروری ہے کہ پیسے کمانے کے لیے محنت ہی واحد راستہ ہے۔
اس کے علاوہ دوسرا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ کورونا نے یقینا مسائل بڑھادیئے ہیں۔ لیکن نہ تو حرام طریقے سے کمانا جائز ہوا ہے اور نہ ہی اولاد کی تربیت سے ماں باپ کو چھٹی ملی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ محنت کے راستے پر چل کر اکل حلال کمانا آسان کرے۔ نفع والا علم عطا فرمائے۔ برکت والی روزی روٹی سے نواز دے۔ دنیا اور آخر ت ہر طرح کی ذلت و رسوائی سے بچالے۔ اپنی اولاد کی تربیت کے حوالے یس ہم سب کی مدد فرما۔ (آمین یارب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



