جہانگیرپوری تشدد: ایک خاندان کے تمام مرد افراد پر پولیس کا شکنجہ ، 5 گرفتار ، ایک نابالغ حراست میں
نئی دہلی،19؍اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جہانگیرپوری تشدد کیس کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے۔ پولیس کی جانب سے ایک ہی خاندان کے تمام مرد افراد پر ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ پولیس نے خاندان کے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیز ایک ہی خاندان کے ایک نابالغ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت سکن سرکار، ان کے بھائی سریش سرکار، سکن کے دو بیٹے نیرج، سورج اور سکن کے بہنوئی سوجیت کے طور پر کی گئی ہے۔ 16 اپریل کو پیش آنے والے اس واقعے میں پولیس نے اب تک کل 23 افراد کو گرفتار کیا ہے اور دو نابالغ پولیس کی تحویل میں ہیں۔گرفتار ملزمان کے لواحقین نے پولیس کی گرفتاری کی مخالفت کی ہے۔
سکن سرکار کی بیوی درگا سرکار نے کہا کہ میرے شوہر، بہنوئی، تین بیٹوں اور میرے بھائی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ سب بے قصور ہیں۔ نیزاس نے کہا کہ وہ جلوس اور پتھرائو کے دوران رتھ پرسوار تھے ،اس دوران ان کے شوہر پر اینٹ پھینکی گئی۔ اس کے بھائی کے سر پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس نے ہنومان کی مورتی کو بچا لیا۔
درگا سرکار نے کہا کہ اس کے شوہر واقعے کے بعد گھر آئے تھے اور کہا کہ دوسری کمیونٹی کے لوگوں نے پہلے اس سے بحث شروع کی اور پھر پتھراؤ شروع ہو گیا۔ سرکار نے کہاکہ میرا شوہر اپنی جان بچانے کے لیے اس جگہ سے بھاگا ہے۔ وہ ایک چھوٹی سی نوکری کرتا ہے اور میرا بیٹا 12ویں جماعت کا طالب علم ہے، اس کے بورڈ کے امتحانات ہیں۔
اگر اسے رہا نہ کیا گیا تو اس کی زندگی برباد ہو جائے گی۔ایک اور گرفتار ملزم سوجیت کی بیوی مینو نے کہا کہ میرے شوہر کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ شوبھا یاترا میں رتھ کھینچ رہے تھے۔
اس دوران مسجد سے 5-6 لوگ آئے اور ان سے لاؤڈ اسپیکر بند کرنے اور جئے شری رام کا نعرہ لگانا بند کرنے کو کہا۔ جب جلوس میں شامل لوگوں نے لاؤڈ اسپیکر بند کرنے سے انکار کیا تودیگر برادریوں کے سینکڑوں لوگ تلواریں لے کر نکل آئے اور جلوس پر حملہ کر دیا۔ میرے شوہر کسی طرح جان بچا کر وہاں سے فرار ہو گئے۔



