نوجوانی میں جدا، بڑھاپے میں یکجا: چالیس سال بعد ادھوری محبت نے شادی کی صورت اختیار کر لی
نہ کہہ سکے محبت، نہ بھلا سکے یادیں: 40 سال بعد قسمت نے جے پرکاش اور رشمی کو ملا دیا
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کہا جاتا ہے کہ ہر محبت اپنی منزل تک نہیں پہنچتی، کچھ محبتیں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں اور کچھ حالات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ مگر کبھی کبھی زندگی خود ادھوری کہانیوں کو مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ کیرالہ سے تعلق رکھنے والے جے پرکاش اور رشمی کی کہانی بھی ایسی ہی ایک مثال ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا پر لوگوں کے دلوں کو چھو رہی ہے۔
منڈکل کے رہنے والے جے پرکاش اور رشمی نوعمری کے دنوں میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ جے پرکاش کے دل میں رشمی کے لیے جذبات تو تھے، مگر وہ ان کا اظہار کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ وقت گزرتا گیا اور حالات بدلتے چلے گئے۔
اسی دوران رشمی کی شادی ہو گئی جبکہ جے پرکاش روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک چلے گئے۔ دونوں کی زندگیاں الگ الگ راستوں پر چل پڑیں۔ کچھ برس بعد جے پرکاش نے بھی شادی کر لی اور ایک خاندان بسا لیا۔ زندگی معمول کے مطابق آگے بڑھتی رہی۔
وقت نے ایک بار پھر سخت امتحان لیا۔ تقریباً دس سال قبل رشمی کے شوہر کا انتقال ہو گیا جبکہ پانچ سال پہلے جے پرکاش کی اہلیہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ تنہائی سے لڑنے کے لیے رشمی نے ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور مختصر فلموں میں اداکاری کرنے لگیں۔
یہیں سے تقدیر نے ایک نیا موڑ لیا۔ جے پرکاش نے رشمی کو ایک مختصر فلم میں دیکھا اور اپنے خاندان کے ذریعے ان سے رابطہ کیا۔ برسوں پرانی یادیں، دبے ہوئے جذبات اور ادھوری محبت ایک بار پھر زندہ ہو گئی۔
اس کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ رہا کہ دونوں کے بچوں نے اس رشتے کو خوش دلی سے قبول کیا۔ سب کی رضامندی کے بعد کوچی میں ایک سادہ مگر پُر وقار تقریب کے ذریعے جے پرکاش اور رشمی نے شادی کر لی۔
شادی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے ساتھ لکھا تھا کہ “ایسا نصیب کن بچوں کو ملتا ہے؟” اس تصویر نے ہزاروں لوگوں کو جذباتی کر دیا۔
جے پرکاش اور رشمی کی یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر محبت سچی ہو تو وقت چاہے جتنا بھی گزر جائے، وہ اپنی منزل ضرور پا لیتی ہے۔ کبھی کبھی دیر ہو جاتی ہے، مگر محبت ہار نہیں مانتی۔



