ہندستانی فلموں کی پہلی تعلیم یافتہ اداکارہ،کامنی کوشل-سلام بن عثمان
فلمی دنیا میں پہلا قدم: نیچا نگر سے شہرت تک
93 سالہ اداکارہ کامنی کوشل آج بھی متحرک، کامیابی کی منفرد داستان
آج ہم جس اداکارہ کے بارے میں بتانے جارہے ہیں وہ 93 برس کی ہو گئی ہیں اور آج بھی وہ بہت چاق و چوبند ہیں۔ وہ اپنے کام خود کرتی ہیں۔ جی ہاں، ہم مشہور اداکارہ کامنی کوشل کی بات کر رہے ہیں۔
16 جنوری 1927 کو لاہور، پنجاب (پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے ہی شرارتی، شوخ، نڈر اور ہر کام کو جب تک صحیح نتیجہ پر نہ پہنچا لیں، فیصلہ نہیں کرتیں۔ اس فیصلے کی پختگی نے ان کی فطرت میں "ہمیشہ اول رہنا” شامل کر دیا۔
چاہے تعلیمی میدان ہو، سوئمنگ، اسکیٹنگ، اسٹیج ڈرامہ یا ریڈیو آکاشوانی پر کہانی سنانا—کامنی کوشل بچپن سے ہی اپنا ذہن بنا لیتی تھیں اور اسے پورا بھی کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر میدان میں اول آئیں۔
کامنی کوشل کا اصل نام اوما کیشپ ہے۔ لاہور کے ایک کالج سے انگریزی میں بی اے کیا۔ ان کے والد شیورام کیشپ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بوٹنی کے مشہور پروفیسر تھے۔ جب کامنی کوشل صرف سات سال کی تھیں، ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔
انگریزی میں بی اے مکمل کرنے کے فوراً بعد مشہور فلم ساز چیتن آنند نے انہیں فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی، لیکن کامنی نے انکار کر دیا کیونکہ ان کے گھر میں فلموں میں کام کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔
کامنی کے بڑے بھائی، جو چیتن آنند کے اچھے دوست تھے، ایک گھریلو تقریب میں چیتن آنند نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی بہن کو فلم میں کام کرنے کی اجازت دیں۔ چیتن آنند نے بتایا کہ وہ "نیچا نگر” نامی فلم بنا رہے ہیں اور کامنی کو بطور ہیروئن لینا چاہتے ہیں۔ آخرکار، بڑے بھائی کے اصرار پر کامنی کوشل نے فلم کے لیے رضامندی ظاہر کی۔
1946 میں فلم "نیچا نگر” ان کی پہلی فلم تھی۔ فلم کو بے حد سراہا گیا اور کامنی کو اس میں نئی ابھرتی ہوئی اداکارہ کا ایوارڈ بھی ملا۔
اس کے بعد وہ لاہور واپس آگئیں۔ لیکن اچانک ایک روز ان کی بڑی بہن ایک کار حادثے میں انتقال کر گئیں۔ ان کی دو چھوٹی بیٹیاں تھیں۔ بچیوں کی پرورش کے پیش نظر، کامنی کوشل نے ایک بڑا فیصلہ کیا اور اپنے بہنوئی برہم سوروپ سود سے شادی کر لی۔
ان کے شوہر ممبئی پورٹ ٹرسٹ میں چیف انجینئر تھے، جس کی وجہ سے انہیں بمبئی منتقل ہونا پڑا۔ شادی کے بعد ان کے تین بیٹے ہوئے: راہل، ویدور اور شراون۔
فلم "نیچا نگر” میں پنڈت روی شنکر نے موسیقی دی تھی۔ یہ ہندوستان کی پہلی فلم تھی جسے کانز فلم فیسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔
شادی کے بعد کامنی کوشل کو کئی فلموں کی پیشکشیں ہوئیں، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ مگر فلمی آفرز بڑھتے دیکھ کر ان کے شوہر نے انہیں اجازت دے دی۔ یوں کامنی کوشل دوبارہ فلموں میں نظر آئیں اور وہ ہندوستان کی پہلی اداکارہ بن گئیں جنہوں نے شادی کے بعد بھی بطور ہیروئن کئی سال کام کیا۔
انہوں نے راجیشوری بھارتیہ ناٹیاکلا مندر سے بھرت ناٹئیم سیکھا۔ فلم "نیچا نگر” کی کامیابی کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اُس دور کی مشہور اداکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔
کامنی کوشل نے اس وقت کے کئی بڑے اسٹارز کے ساتھ کام کیا، جیسے:
راج کپور، دلیپ کمار، اشوک کمار، دیو آنند، راج کمار و دیگر۔
کالج کے دوران لاہور جنگ ریلیف فنڈ کے موقع پر ان کی ملاقات اشوک کمار اور لیلا چٹنس سے ہوئی، لیکن انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اشوک کمار کے ساتھ بطور ہیروئن فلموں میں کام کریں گی۔
کامنی کوشل اور دلیپ کمار کی جوڑی کئی فلموں میں سپرہٹ رہی۔
کامیاب فلمیں:
ندیا کے پار، شہید، پگھری، شبنم، آرزو اور مزید۔
فلموں کے دوران دلیپ کمار نے کامنی کوشل سے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا، لیکن کامنی کوشل نے انکار کرتے ہوئے کہا:
"میں شادی شدہ ہوں اور اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہوں۔”
اس بیان کے بعد اخباروں میں یہ خبریں چھپنے لگیں کہ کامنی کوشل دلیپ کمار کی پہلی محبت تھیں۔
1947 میں ریلیز ہونے والی فلم "دو بھائی” کا گانا "میرا سندر سپنا بیت گیا” بے حد مشہور ہوا، اور خاص بات یہ تھی کہ یہ گانا ایک ٹیک میں مکمل کیا گیا تھا۔
1948 میں دیو آنند کے ساتھ ان کی پہلی فلم "ضدی” آئی، اور یہی وہ فلم تھی جس میں پہلی بار لتا منگیشکر نے کسی ہیروئن (کامنی کوشل) کے لیے گانا گایا۔ اس سے پہلے لتا نے کسی اداکارہ کے لیے گانا نہیں گایا تھا۔
کامنی کوشل کے لیے شمشاد بیگم، گیتا دت، للیتا دولکر اور سریندر کور جیسی مشہور گلوکاراؤں نے بھی گانے گائے۔
کامنی کوشل: وہ ہیروئن جس کا نام فلم میں ہیرو سے پہلے آتا تھا!
کامنی کوشل نے شادی کے بعد بھی 1946 سے 1963 تک بے شمار فلموں میں بطور ہیروئن کام کیا۔ ان کی آخری فلم بطور ہیروئن "گئودان” تھی۔
وہ بالی ووڈ کی ان منفرد اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہیں لوگوں نے ہر دور میں پسند کیا۔ انہوں نے اپنی اداکاری کی مہارت سے ایسا مقام بنایا جو آج تک کسی اور ہیروئن کو نصیب نہیں ہوا۔
ان کا نام فلم کے پردے پر ہیرو سے پہلے لکھا جاتا تھا — اور انہیں اس کا علم بھی ایک انٹرویو کے ذریعے ہوا۔
1963 کے بعد انھوں نے کیریکٹر رولز کرنے شروع کیے، جیسے: بھابھی، بہن، بڑی بہو، ماں، ساس — اور ہر کردار کو بے مثال انداز میں نبھایا۔
کامنی کوشل نے اپنے چار دہائیوں پر مشتمل فلمی کیریئر کے بعد 1989 سے 1991 تک بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں۔
ان کی کہانیاں:
"بنٹی”، "چھوٹا بھائی”، "موٹا بھائی” وغیرہ، بچوں کے رسالے "پراگ” میں شائع ہوئیں۔
بعد ازاں وہ ٹی وی پر بھی متحرک رہیں۔
دوردرشن پر ان کے ٹی وی شوز:
"چاند ستارے”، "میری پری” ریلیز ہوئیں۔
جبکہ "شانو کی شادی” اور "ادھیکاری برادر” جیسے سیریلز میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔
کامنی کوشل نے فلموں میں بے پناہ کام کیا اور کئی فلموں کو کامیابی دلائی۔
انہیں فلم انڈسٹری سے متعدد ایوارڈز ملے، جیسے:
-
نئی ابھرتی اداکارہ ایوارڈ
-
بہترین اداکارہ
-
بہترین معاون اداکارہ
-
کلکار لائف ٹائم اچیومنٹ
-
ایکسیلینس فلم فئیر ایوارڈ
-
فلم فئیر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ
-
اور کئی دیگر اعزازات
انہوں نے بطور فلم ساز دو فلمیں بنائیں:
"پونم” اور "چالیس بابا اور ایک چور”
یہ دونوں فلمیں خاص کر بچوں میں بے حد مقبول ہوئیں۔
کامنی کوشل ان فلموں کی کامیابی کا کریڈٹ بچوں کو دیتی ہیں۔
کامنی کوشل کی آخری فلم، اگر آج کی بات کی جائے، تو "چننائی ایکسپریس” Laal Singh Chaddha (2022) Kabir Singh -(2019) ہے۔
آج بھی وہ چاق و چوبند ہیں، اور ان کے دل میں وہ تمام خوبصورت لمحات اور یادیں تازہ ہیں۔
خوبصورت چمکدار آنکھوں والی بالی ووڈ اور بنگالی فلموں کی بہترین اداکارہ-ریمی سین


