بین ریاستی خبریںسرورق

شوہر بیوی کو گھریلو کام یا ساس سسر کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتا: کرناٹک ہائی کورٹ

والدین کی ذمہ داری اولاد پر ہے

بنگلورو، 28 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) کرناٹک ہائی کورٹ نے ازدواجی زندگی میں شوہر اور بیوی کے حقوق و ذمہ داریوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو گھر کے کام کاج یا اپنے والدین کی دیکھ بھال کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ عدالت نے کہا کہ گھریلو امور اور خاندانی ذمہ داریاں صرف عورت کی ذمہ داری نہیں بلکہ شوہر اور بیوی دونوں کو ان میں برابر کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

جسٹس چلاکور سمالتا نے یہ ریمارکس ایک ایسے مقدمے کی سماعت کے دوران دیے جس میں شوہر نے تمکورو فیملی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ فیملی کورٹ نے اسے اپنی بیوی کے لیے 5 ہزار روپے اور نابالغ بیٹی کے لیے 4 ہزار روپے ماہانہ گزارہ الاؤنس ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔

شوہر نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ مزدوری کرکے اپنے خاندان کا خرچ چلاتا ہے اور اس کے لیے مقررہ رقم ادا کرنا مشکل ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے اپنے بزرگ والدین کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی نبھانی پڑتی ہے۔

مقدمے کے دوران شوہر کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ شادی کے چند ماہ بعد اس کی بیوی نے گھر کے کام کرنے اور ساس سسر کی خدمت سے انکار کردیا تھا۔ شوہر نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی کئی مرتبہ اس کی یا اپنے ساس سسر کی اجازت کے بغیر میکے چلی گئی۔

ہائی کورٹ نے شوہر کی ان دلیلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی باتوں سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے اس نے اپنی بیوی کو گھر کے کام اور اپنے والدین کی خدمت کے لیے رکھا ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف بہو ہونے کی وجہ سے کسی خاتون کو شادی کے بعد ساس سسر کی خدمت کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے والدین کی دیکھ بھال کے معاملے پر بھی اہم بات کہی۔ ہائی کورٹ کے مطابق والدین کی دیکھ بھال کی بنیادی ذمہ داری ان کے اپنے بیٹے یا بیٹی پر عائد ہوتی ہے، اسے بہو یا داماد پر لازمی طور پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے خاتون کے اپنے والدین سے تعلق اور ملاقات کے حق کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ کسی عورت کا اپنے میکے یا والدین سے ملنے جانا اس کا بنیادی حق ہے۔ اس کے لیے اسے شوہر یا سسرال والوں سے اجازت لینے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔کرناٹک ہائی کورٹ نے شوہر کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیملی کورٹ کے حکم میں مداخلت سے انکار کردیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button