کویت ،۷؍ جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کویت میں ایک فوجداری عدالت نے منگل کے روز ایک شادی شدہ خاتون کے بہیمانہ قتل کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا ہے اور30 سالہ قاتل کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔قاتل فہدصبحی محمدنے رمضان المبارک میں خاتون فرح حمزہ اکبرکو ان کے بچوں سمیت دن دہاڑے اغوا کرلیا تھا۔پھر #صباح #السالم شہرمیں لے جاکر خاتون کو بچوں کے سامنے بے دردی سے چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا اور اس کی لاش ایک اسپتال کے دروازے پر چھوڑ کر فرار ہوگیاتھا۔
اس قاتل کاباپ کوئی غیرملکی اورماں #کویتی شہری ہے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق #فہد #صبحی کو #قتل کے واقعہ کے فوری بعد گرفتار کرلیا گیا تھا،اس نے رشتہ سے انکار پر #خاتون کی جان لی تھی اور عدالت کے روبرو اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔اب عدالت نے اس کو سزائے موت سنا دی ہے لیکن ابھی اس کو تختہ دار پر لٹکانے کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
کویتی میڈیا کے مطابق مقتولہ نے اس مبیّنہ قاتل کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ بھی دائر کررکھا تھا۔اس شخص نے مقتولہ کا رشتہ مانگا تھا لیکن اس کے خاندان نے انکار کردیا تھا۔چند ماہ قبل قاتل کو مقتولہ کی بہن کی درخواست پرگرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں عدالت نے اس کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔سیکڑوں کویتیوں نے #ٹویٹراور #سوشل میڈیا کے دوسرے پلیٹ فارمز پرخاتون کے بہیمانہ قتل پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے ’’صباح السالم جرم‘‘ اور ’’میں آئندہ نشانہ ہوں‘‘ کے عنوان سے ہیش #ٹیگ کے تحت اپنے جذبات کااظہار کیا تھا۔
کویت:رشتہ سے انکارپرعورت کا بہیمانہ قتل، سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار
بہت سے صارفین نے لکھا تھاکہ جب یہ #قاتل خاتون کو دھمکیاں دے رہا تھا، تو پھر حکام نے اس کو کیوں ضمانت دی،اس کو توزیرحراست رکھا جانا چاہیے تھا۔اپریل میں کویت میں خاتون کے اس اندوہناک قتل سے صرف دو ماہ قبل ہی خواتین نے جنسی ہراسیت کے خلاف ملک گیر مہم شروع کی تھی اور حکومت سے خواتین کے خلاف تشدد آمیز جرائم کی بیخ کنی کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔



