سیاسی و مذہبی مضامین

مجروح سلطانپوری – اردو غزل کے نغمہ نگار، شاعر اور الفاظ کے سلطان

اعزازات اور نغمے جو امر ہوگئے

ابتدائی زندگی اور تعلیم

مجروح سلطانپوری 17 جون 1920ء کو اترپردیش کے ضلع سلطانپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اسرار الحسن خان تھا۔ والد ایک سب انسپکٹر تھے۔ انہوں نے صرف ساتویں جماعت تک رسمی تعلیم حاصل کی، مگر اس کے بعد عربی و فارسی میں مہارت حاصل کی اور درسِ نظامی کا کورس مکمل کرکے عالم بنے۔ بعد ازاں لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طب کی تعلیم حاصل کرکے حکیم بن گئے۔


🌿 شاعری کی ابتدا اور تخلص کا انتخاب

ابتدائی دنوں میں وہ حکیمی دواخانہ چلاتے تھے مگر ساتھ ہی مشاعروں میں شرکت ان کی پہچان بننے لگی۔ سلطانپور کے ایک مشاعرے میں ان کی غزل نے سامعین کو مسحور کر دیا۔ تبھی انہوں نے اپنا تخلص "مجروح” رکھا، اور اسی سے وہ مجروح سلطانپوری کے نام سے مشہور ہوئے۔


🎵 فلمی دنیا میں آمد

سال 1945ء میں بمبئی کے ایک مشاعرے میں ان کی ملاقات فلم ساز اے آر کاردار سے ہوئی جنہوں نے انہیں فلمی نغمہ نگاری کی پیشکش کی۔
پہلے تو انہوں نے انکار کیا، مگر جگر مراد آبادی کے اصرار پر آمادہ ہوئے۔
کاردار نے ان کی ملاقات موسیقار نوشاد سے کرائی، جنہوں نے پہلی دھن سنائی اور نغمہ لکھنے کی فرمائش کی۔
یوں مجروح کا پہلا نغمہ وجود میں آیا:

"جب اس نے گیسو بکھرائے، بادل آیا جھوم کے…”
یہ نغمہ فلم تاج محل میں شامل ہوا اور غیر معمولی کامیابی ملی۔


  کامیابی کے سنگِ میل

اسی سال انہوں نے فلم شاہجہاں (1945) کے لیے مشہور گیت

“غم دیے مستقل”
تحریر کیا، جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
ان کے بعد کے گیت —
“جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے”
نے انہیں فلمی نغمہ نگاروں کی صفِ اول میں لا کھڑا کیا۔


  فکری اور سماجی جہت

مجروح کی شاعری میں سماج کا درد، زندگی کی کشمکش، اور انسانی احساسات جھلکتے ہیں۔
وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور سماجواد کے پرچم بردار شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے اردو شاعری کو نیا زاویہ اور تازگی عطا کی۔


🎬 یادگار فلمیں اور نغمے

مجروح نے فلمی دنیا میں ادبی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے کئی لازوال نغمے تخلیق کیے۔
ان کے نمایاں فلمی کارنامے:

  • "پھر وہی دل لایا ہوں”

  • "تیسری منزل”

  • "بہاروں کے سپنے”

  • "خاموشی”

  • "کارواں”

ہر فلم کے گیت فلم کی کامیابی کی ضمانت بنے۔


🏆 اعزازات اور نغمے جو امر ہوگئے

سال 1949 میں راج کپور نے ان سے نغمہ لکھنے کی درخواست کی، جس پر انہوں نے لکھا:

“ایک دن بک جائے گا مٹی کے مول، جگ میں رہ جائیں گے پیارے تیرے بول”
اس نغمے کے لیے راج کپور نے انہیں 1000 روپے دیے، اور بعد میں اسے فلم دھرم کرم (1975) میں شامل کیا۔

مجروح کو فلم "دوستی” کے نغمے

“چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے”
کے لیے فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
زندگی بھر کی خدمات کے اعتراف میں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔


🌹 وفات

24 مئی 2000ء کو مجروح سلطانپوری ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے۔
لیکن ان کے الفاظ، ان کے نغمے، اور ان کی شاعری آج بھی زندہ ہیں۔


مجروح سلطانپوری نے کہا تھا:

"میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا”
واقعی، ان کی زندگی اور شاعری اردو ادب کا ایک قافلہ تھی — جو آج بھی سفر میں ہے۔

مجروح سلطانپوری کے مشہور فلمی نغمے

نمبر نغمہ کا عنوان فلم کا نام سال
1 جب دل ہی ٹوٹ گیا، ہم جی کے کیا کریں گے شاہجہاں 1946
2 چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے دوستی 1964
3 ایک دن بک جائے گا مٹی کے مول دھرم کرم 1975
4 تم نے مجھے دیکھا، ہو کر مہربان تیسری منزل 1966
5 آجا آج سے پہلے، آج سے زیادہ کارواں 1971
6 او حسینہ، ذلفوں والی، جانے جہاں تیسری منزل 1966
7 پھر وہی دل لایا ہوں پھر وہی دل لایا ہوں 1963
8 دل ڈھونڈتا ہے، پھر وہی فرصت کے رات دن موسم 1975
9 بہاروں پھول برساؤ سجا سجایا گھر 1966
10 چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو چودھویں کا چاند 1960

متعلقہ خبریں

Back to top button