قومی خبریں

ملکارجن کھرگے کا گجرات سے متعلق بیان، شدید تنقید کے بعد معذرت

"میرے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، تاہم میں افسوس کا اظہار کرتا ہوں" ملکارجن کھرگے

نئی دہلی 08 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے گجرات کے عوام سے متعلق اپنے متنازع بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا کسی کو مجروح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، تاہم اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ اس پر مخلصانہ افسوس کرتے ہیں۔

ملکارجن کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کی تقریر کے کچھ حصوں کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ گجرات کے عوام کا احترام کرتے آئے ہیں اور ان کے دل میں ان کے لیے عزت موجود ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ملکارجن کھرگے نے کیرالہ میں ایک انتخابی جلسے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے، اور اس تناظر میں گجرات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کیرالہ کے عوام کو تعلیم یافتہ اور باشعور قرار دیا تھا۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے شرمناک اور توہین آمیز قرار دیا۔ پارٹی کے سینئر رہنما روی شنکر پرساد نے ملکارجن کھرگے سے معافی کا مطالبہ کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا کانگریس کے دیگر سینئر رہنما، بشمول راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا، بھی اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں۔

آئندہ انتخابات کے پیش نظر اس معاملے نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ میں شدت آ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button