قومی خبریں

ماؤنواز مبینہ لنک کیس: سائی بابا جیل میں ہی رہیں گے،سپریم کورٹ کا فیصلہ

دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا کو 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اپنی گرفتاری سے قبل پروفیسر جی این سائی بابا دہلی یونیورسٹی کے رام لال آنند کالج میں پروفیسر تھے۔

نئی دہلی ، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ماؤنواز روابط کیس میں جیل میں بند دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر سائی بابا کو بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے بری کر دیا تھا۔ تاہم مہاراشٹر حکومت نے اس کو لے کر سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی،۔ اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کے حکم کو معطل کردیا ہے۔ ایسے میں جی این سائی بابا اب جیل میں ہی رہیں گے۔

بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے جی این سائی بابا کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف قبائلی عدالت کی درخواست بھی منظور کر لی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت نے اس مقدمے میں پانچ دیگر ملزمان کو بھی بری کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔

دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا کو 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اپنی گرفتاری سے قبل پروفیسر جی این سائی بابا دہلی یونیورسٹی کے رام لال آنند کالج میں پروفیسر تھے۔ وہ وہاں انگریزی پڑھاتے تھے۔ان کی گرفتاری جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم ہیمنت مشرا کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی۔ ہیمنت مشرا نے تفتیشی ایجنسیوں کو پوچھ تاچھ کے دوران بتایا تھا کہ وہ چھتیس گڑھ کے ابوجماد کے جنگلات میں ماؤنوازوں اور ایک پروفیسر کے درمیان کورئیر کا کام کرتا ہے۔

اس کے ساتھ سائی بابا پر 2012 میں نکسلائٹس کی ایک کانفرنس میں تقریر کرنے کا بھی الزام تھا۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے رہائی کے خلاف کئی دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی یو کے سابق پروفیسر نے قوم کے خلاف جرم کیا ہے۔اس سے قبل جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور ہیما کوہلی کی سپریم کورٹ بنچ نے ان کی رہائی کو مسترد کر دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں بنچ نے مہاراشٹر پولیس کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواست دے سکتے ہیں۔ جس کے بعد حکومت کی جانب سے درخواست دائر کی گئی جس کی آج سماعت ہوئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button