مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی-نقی احمد ندوی
مولانا محمد قاسم نانوتوی دارالعلوم دیوبند کے بانی
انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں پر اپنی زمین تنگ کر دی۔ وہ قوم جس نے ہندوستان کو ایک نئی تہذیب، ایک نئی ثقافت، ایک نئی زبان اور ایک نیا آئین دیا تھا، اور جس نے ہندوستان کی تعمیر و ترقی کی بے مثال تاریخ لکھی تھی، اسی قوم کی تہذیب و ثقافت اور حقوق کو پامال کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ ان کی زمین اور جاگیریں سلب کر لی گئیں، ان کی زبان کو غیر سرکاری قرار دیا گیا، ان کے ادارے اور انسٹیٹیوشنز بند کر دیے گئے، سرکاری نوکریوں سے انھیں بے دخل کر دیا گیا، اور یہی نہیں بلکہ ان کے دین و مذہب پر بھی انگریزی یلغار شروع ہوئی۔ ایک طرف مسلمانوں کا وجود خطرے میں تھا تو دوسری طرف ان کا مذہب اور دین انگریزوں کے بھیانک نشانہ پر تھا۔
ایسے حالات میں شاملی کا مردِ مجاہد مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اٹھا اور ہندوستان میں مسلمانوں کے دین و مذہب کی حفاظت کا بیڑہ اپنے سر اٹھا لیا۔ مدارس و مکاتب کے قیام کے ذریعے انہوں نے ایک ایسی تعلیمی تحریک کا آغاز کیا جو ہندوستان کے مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے روشن باب بن گئی۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے کئی شہروں میں مدارس کے قیام کی تحریک چلائی۔ چنانچہ دیوبند میں دارالعلوم دیوبند، مرادآباد میں مدرسہ قاسمیہ شاہی، گولاوٹی میں مدرسہ منبع العلوم اور امروہہ میں مدرسہ جامع مسجد امروہہ قائم کیا، جہاں سے آج بھی علمِ دین کی ضیاپاشی کا سلسلہ جاری ہے۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سہارن پور کے قریب ایک گاؤں نانوتہ میں 1833ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام اسد علی صدیقی تھا۔ ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ 1843ء کے آخر میں مولانا مملوک علی نانوتوی آپ کو اپنے ساتھ دہلی لے گئے، جہاں آپ نے منطق، فلسفہ اور علمِ کلام پر متعدد کتابیں ان سے پڑھیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ مطبع احمدی میں ادارت کے فرائض انجام دینے لگے اور ساتھ ہی درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اسی دوران آپ کا تعلق مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے بھی ہوا جو آخری دم تک قائم رہا۔
1860ء میں آپ نے حج کیا، اور حج سے واپسی کے بعد میرٹھ کے مطبع مجتبیٰ میں نوکری کی جہاں کتابوں کے نسخوں کا تقابل اور نظرثانی کا کام کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد دوبارہ حج پر روانہ ہوئے اور واپسی پر مطبع ہاشمی میں ملازمت اختیار کی۔ میرٹھ کے قیام کے دوران ہی آپ نے 1857ء میں شاملی کی جنگ میں حصہ لیا۔ آپ کی گرفتاری کا حکم صادر ہوا اور اس دوران آپ نے پوشیدہ زندگی گزاری۔
جب 1858ء کے نومبر میں انگریز حکومت نے عام معافی کا اعلان کیا تو آپ نے اپنی علمی، دعوتی، تحریکی اور انقلابی سرگرمیوں کا دوبارہ بھرپور آغاز کیا۔ چنانچہ 1866ء میں جب دارالعلوم دیوبند کا مدرسہ معرضِ وجود میں آیا تو آپ نے وہیں قیام اختیار کیا اور اپنے آخری سانس تک اس کی تعمیر و ترقی میں مصروف رہے۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ایک عظیم مجاہد، ایک مخلص مصلح، ایک بہترین مصنف، ایک یگانہ روزگار متکلم، ایک بے باک خطیب، ایک بے مثال استاد و مربی، اور ایک بے لوث خادمِ دین و ملت تھے۔ آپ کے خلوص، للہیت، زہد و استغنا کی گواہی آپ کے معاصرین نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ دی ہے۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے عظیم الشان کارناموں میں سب سے عظیم کارنامہ دارالعلوم دیوبند کا قیام ہے۔ مصر کے جامع ازہر کے بعد دارالعلوم دیوبند کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے حاجی عابد حسین، مولانا مہتاب علی اور شیخ نہال احمد کے ساتھ مل کر 13 مئی 1866ء کو سہارن پور کے ایک چھوٹے سے قصبے دیوبند میں اس کی بنیاد رکھی۔ اس کا آغاز دیوبند کی چھتیہ مسجد سے ہوا اور ایک درخت کے نیچے ایک استاد اور ایک طالب علم کے ذریعہ اس کی شروعات ہوئی۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے خلوص، للہیت اور جدوجہد نے اسے بہت ہی مختصر مدت میں ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ آپ نے آخری سانس تک اسی بے غرض علم و فن کی آبیاری کی اور اس کی تعمیر و ترقی میں مشغول رہے۔ دارالعلوم دیوبند ایک مدرسہ نہیں بلکہ ایک مشن، ایک تحریک تھی، جس کا خواب مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دیکھا تھا، اور وہ خواب یقینا پورا ہوا۔
مولانا نے دیوبند کے ایک چھوٹے سے شہر میں جو شمع جلائی تھی، اس سے ہندوستان اور بیرونِ ملک تقریباً ہر بڑے شہر میں اسی طرح کی شمعیں جلتی چلی گئیں کہ پورا برصغیر علمِ دین کے ان قمقموں سے جگمگا اٹھا۔ آج ہندوستان ہی نہیں بلکہ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، جنوبی افریقہ، برطانیہ، یورپ اور دنیا کے درجنوں ممالک میں اہلِ دیوبند نے علمِ دین کا چراغ جلا رکھا ہے، جس کی روشنی سے روزانہ ہزاروں طالبانِ علومِ نبوت فیضیاب ہو رہے ہیں۔
پاکستان کا دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ ضیاء القرآن فیصل آباد، ڈربن کا مدرسہ انعامیہ اور یورپ کے بیشتر مساجد و مدارس اسی دیوبند کی ضیاپاشیوں کا پرتو ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کے فارغین نے جو تاریخ رقم کی، اسے اگر ہندوستانی تاریخ فراموش کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتی۔
مولانا محمود الحسن، مولانا عبد اللہ سندھی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے علاوہ ایسے سیکڑوں نام ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جہاں تک علمائے دیوبند کی علمی، تصنیفی اور دینی و دعوتی خدمات کا تعلق ہے، تو تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس کاندھلوی، پاکستان کے مفتی اعظم مولانا محمد شفیع، سیکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمود الحسن، مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا حسین احمد مدنی کے علاوہ ایسے سینکڑوں مفسر، محدث، فقیہ، ادیب، مصنف، داعی اور علما دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے جن کی خدمات ملتِ اسلامیہ کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔
مولانا قاسم نانوتویؒ بلاشبہ علمائے کرام کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے نہ صرف تلوار کے ذریعے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا بلکہ تعلیم کے میدان میں ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک نئی سمت اور جہت عطا کی۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔



