
گوہاٹی ،24جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) میگھالیہ میں پولیس نے بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے نائب صدر اور سابق عسکریت پسند لیڈر برنارڈ این ماراک عرف رمپو کے خلاف مغربی گارو ہل اضلاع کے تورا میں جسم فروشی کا مقدمہ درج کیا ہے، اس کے بعد سے ان کی تلاش جار ی ہے۔ بی جے پی لیڈر نے تاہم کہا ہے کہ وہ فرار نہیں ہے اور ہمیشہ پولیس کی تفتیش میں تعاون کیا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کونراڈ سنگما پر بھی الزام لگایا کہ محکمہ پولس سے فروری کے پوکسو کیس سے کل کے چھاپے کو جوڑنے کو کہہ کر انہیں نشانہ بنایا۔ مسٹر سنگما سیاسی طور پر میدان کھو رہے ہیں اور سیاسی وجوہات کی بنا پر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ پرانے پوسکو کیس میں بھی ملزم نہیں ہیں۔ بی جے پی کی میگھالیہ یونٹ خاموش ہے اور اس نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے۔
یہ مقدمہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب برنارڈ این ماراک کی ملکیت والے ایک ریزورٹ پر چھاپے کے بعد درج کیا گیا جہاں چھ بچیگندے کیبن نما غیر صحت مند کمروں میں بند پائے گئے۔ میگھالیہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ریزورٹ سے ’کوٹھے‘ چل رہا تھا اور بی جے پی لیڈر گرفتاری سے بچ رہے ہیں۔ اس معاملے میں اب تک 73 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تمام کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔تمام بچے صدمے کی حالت میں تھے اور ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ رمپو باغان سے برآمد ہونے والے مواد کے ساتھ ساتھ عمارت کے ڈیزائن وغیرہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ کو برنارڈ ائین ماراک عرف رمپو اور اس کے ساتھی جسم فروشی کے مقصد کے لیے کوٹھے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔



