ڈاکٹر جی۔ایم۔پٹیل-پونے-مہاراشٹرا
مرزا اسداللہ خاں غالبؔ برطانوی نو آبادیاتی دورِ حکومت میں ہندوستان کے ایک کلاسیکی اُردو اور فارسی کے معروف شاعر تھے۔آپ کو ’ اسداللہ خاں غالب’مرزا غالب‘ نجم الدولہ دبیرالملک بہادر نظام ان خطابات سے نوازہ گیا ۔آپ کا تخلص غالبؔ ؍ اسدؔ تھا۔آپ کی حیاتی میں ہی انگریزوں نے مغلوں کو اپنی حکمرانی سے بے دخل کر دیا اور آخر کار ۱۸۵۷ء میں ہندستانی بغاو ت ’( غدر) کی شکست کے بعد معزاول ہوگئے۔ان واقعات کے بارے میں مرزا غالبؔ نے بہت کچھ لکھا تھا لیکن ان سب میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ نے اسی زندگی کے دوارن کئی غزلیں لکھیں جن کی تشریح مختلف مصنف اور مقالہ نویسوں نے اپنی نوعیت سے تحریر کی ہے۔
یوں تو آپ بین الاقومی شہرت یافتہ شاعر ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں اُردو زبان کے مقبول ترین اور با اثر شاعروں شامل ہیں اور لاکھوں آپ کی شاعری کی آج بھی پر پرستار ہیں۔خصوصی طور سے غیر مسلم اور غیر اردو اں طبقہ نے آپ کے مطالعہ اور آپ کی شاعری کو سمجھنے کیلئے مختلف ذرایع سے اُردو زبان کو سیکھا ، اردو تعلیم حاصل کرنے بعد سابقہ کارناموں اور آپ کی شاعری پر سبقت حاصل کی ہے۔غالب کسی تعروف کے قطعی محتاج نہیں ،آپ نہ صرف ہندوستان ،پاکستاں میں بلکہ بین الاقوامی سر زمین پر اپنی مقبو لیت کے جھنڈے لہرائے ہیں۔
مرزا غالب آگرہ میں ایبک ترکوں کے خاندان میں پیدا ہوئے جو سلجوق بادشاہوں کے زوال کے بعد سمر قند چلے گئے۔آپ کے دادا مرزا قوقان بیگ خا ن سلجوق ترک تھے جو احمد شاہ کے دورَ حکومت میں سمر قند ( ازبکستان) سے ہندوستان ہجرت کر گئے تھے ۔مرزا قوقان نے لاہور ،دہلی اور جئے پور میں کام کیا۔ انہیںپہاڑی شہر (بلند شہر یوپی)کے ذیلی ضلع سے نوازہ گیااور آخر کارآگرہ یو پی میں سکونت اختیار کی۔
مرزا عبد اللہ بیگ خان اور نصراللہ بیگ خان انکے دو بیٹے تھے۔مرزا عبداللہ بیگ خان (مرزا غالب کے والد) انکی شادی عزت النساء بیگم (غالب کی والدہ) سے ہوئی اور انہوں نے پہلے لکھنؤ کے نواب اور بعد میں حیدرآباد دکن کے نظام نے ملازمت دی اور ۱۸۰۳ء میں الور میں ایک جنگ میں مر گئے،انہیں راج گڑھ الور راجستھا ن میں دفن کیا گیا۔
اسوقت غالب کی عمر صرف پانچ سال سے کچھ زیادہ تھی۔ آپکی پرورش سب سے پہلے آپ کے چچا مرزا نصراللہ بیگ خان نے کی۔مرزا نصراللہ مرہٹوں کے ماتحت آگرہ کے گورنر تھے۔انگریزوں نے انہیں ۴۰۰ گھڑ سوارورں کا افسر مقرر کیا، تنخواہ ۱۷۰۰ روپئے ماہانہ مقرر کی اور متھرا یو پی میں انہیں ۲ پرگنوں سے نوازہ،۱۸۰۶ء میں جب انکی وفات ہوئی تو انگریزوں نے ۲ پرگنہ چھین لی اور ان کی پنشن ۰۰۰،۱۰ فی سال مقرر کی۔
اسداللہ نے ابتدائی تعلیم آگرہ میں مولوی محمد معظّم سے حاصل کی۔جب آپ ۱۴ سال کے ہوئے تو ایک ایرانی نژاد عالم ملّا عبدالصمد جن سے آپ نے دوسال تک اکتساب فیض کیا۔یہ بات واضح ہے کہ آپ باضابطہ کسی تعلیمی ادارے سے درسی تعلیم حصول نہیں کیا،آپ کا ذاتی مطالعہ، مشاہدات اور آپ اس قدر ذہین تھے کہ اشیاء ،کائنات کے باطن تک آپ کا ادب، آپکی شاعری آپکی فکر پہنچی۔
غالب کا بیاہ ۱۳ سال کی عمر میں ۱۸۱۰ء میں نواب الٰہی بخش کی صاحب زادی عمراؤ بیگم سے ہوئی ۔الٰہی بخش خان بھی معروف ایک کہنہ مشق شاعر تھے۔۱۸۱۲ء میںآپ جلد ہی اپنے چھوٹے بھائی مرزا یوسف خان کے ساتھ دہلی چلے گئے اور دہلی میں آباد ہوگئے۔ اعلیٰ طبقے کی مسلم روایت کے مطابق اپنی چھوٹی سی عمر ۱۳ سال کی شادی کے بعد سات بچوں میں سے کوئی بھی بچپن سے آگے پرورش نہ پا سکا۔اپنی ایک تحریر میں اسکا ذکر کچھ یوں کیا ہے کہ’’ اپنی شادی کی ابتدائی قید کے بعد دوسری قید قرار دیا جو خود کی زندگی تھی ۔یہ خیال کہ زندگی ایک مسلسل تکلیف دہ جدو جہد ہے جو اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب زندگی خود ختم ہوجائے ۔بہت سے سانحات کے باوجود آپ میں خوش رہنے اور ہنسنے کا فنِ کمال تھا۔
آپ کے اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات کے حوالے متضاد خبریں ملتی ہیں۔ عمراؤ بیگم متقی ،قدامت پسند اور پرہیز گار تھیں۔آپ کو اپنے اوباش، عشق باز،نفس پرست و فاسیق کے طورپر شہرت پر فخر تھا ۔غالب گیارہ سال کی عمر ہی میں اپنی فنَ سخن کا مظاہر شروع کیا۔آپ کی مادری زبان یوں تو فارسی اور ترکی تھی لیکن آپ نے اُردو ،ایک شیریں و مقبول ترین زبان کا دامن تھام لیا۔
جب غالب نو عمری میں تھے ایران کی ایک مسلم زرتشتی سیاح عبد الصمد آگرہ پہنچے قریب دو سال غالب کی ہمراہ آپکی رہائش پہ تشریف فرما رہے،وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ عالم تھے ،غالب نے ان سے فارسی، ،فلسفہ اور منطق،خوش کلامی،،خوش گفتاری ،سخن سازی سیکھی ۔اگرچہ غالب کو خود فارسی میں اپنی شاعرانہ کلام پر بہت زیادہ فخر تھا۔لیکن آج دور حاضر میں آپ کی اُردو زبان میں غزلیں ہر غزل شائقین کی دل و دماغ پر اپنی بادشاہت کرتے ہیں۔
آپ کی غزلوں کے متعدد تالیفات ارود نوازوں نے لکھی ہیں۔اس طرح پہلی تفسیر یا شرح حیدرآباد کے علی حیدر طباطبائی نے آخری نظام کے میں لکھی تھی۔غالب سے پہلے غزل بنیادی طور پر غمگین، فراق ، مفارقت کے اظہار کرتی تھیں لیکن غالب نے فلسفہ ،زندگی مصائب،اور اسرار کا اظہار کیا اور کافی موضوعات پر غزلیں لکھیں۔جس غزل کا دامن،اسکا دائرہ کافی وسیع و فراخ ہوا۔آپ نے اس نئی غزل کی ایجاد نے اردو شاعری اور اردو نثری ادب میں آپکی نمایاں خدمات ‘ اُردو تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں نقش ہیں۔
کلاسیکی غزل کی روایات کو مدِنظررکھتے ہوئے غالب اکثر اشعار میں محبوب کی شناخت ا ور ٖصنف غیر متعین ہے۔غالب کی غزلوں کی پہلا مکمل انگریزی ترجمہ ڈاکٹر سرفراز ۔کے۔ نیازی‘ نے بہ عنون ’’ Love Sonnets of Ghalb کیا۔غالب کی مقبول ترین غزلوں کے اس مجموعے میںایشیاکے مشہور مصور صادقین کی فنی پیش کشوں کے ساتھ لا زوال آیات کے جوہر کو کافی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
تخلصِ غالب کا افسانہ کچھ یوں بیاں ہے۔آپ کا اصل تخلص اسدؔ تھاجو آپ کے پیدائش ہی سے والدین سے عطا نام اسداللہ خان سے اخذ کیا گیا تھا۔اپنے شعری کارواں میں اتبدائی اوائل دور میں آپ نے اپنا تخلص غالبؔ اپنانے کا فیصلہ کیا۔اس تخلص میں مرزا غالب بلند وقار و اعلیٰ معیار کا بہترین نمونہ تمام شعرا و اکرام کے لئے قائم کیا ۔
اسی دور میں ایک اور شاعر بھی اسدؔ تخلص استعمال کرتے تھے،آپ کی نظریں اس شاعر کچھ اشعا ر پر پڑھاتو آپ کو بیحد ا فسوس ہوا کہ یک لخت کہ ااُٹھے کہ’’ جس خدا کے نیک بندے یہ شعر لکھا ہے وہ در حقیقت رب کی رحمت کا مستحق ہے ۔اگر میں تخلص اسدؔ استعمال کروں تو یقیناََ لوگ اسے میرا شعر سمجھیں گے اورمجھ پر لعنت ہوگی ’’ اور اسی لمحہ آپ نے اپنا تخلص بدل کر غالبؔ کر دیا۔اگرچہ تخلص ’اسدؔ‘ غالب کے اکثر کلام میں غالب کے مقابلے میں زیادہ کثرت سے نہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی ساری شاعری میں اپنے ان دونوں تخلص کا استعمال کیا ہے اور کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی ۔
مرزا غالب ایک ذی استعداد،ذی لیاقت خط نویس تھے۔اردو شاعری ہی نہیں بلکہ نثر بھی مرزا غالب کی مرہون منت ہے،آپ کے خطوط نے آسان و مقبول اردو کی بنیاد رکھی۔مرزا غالب سے پہلے اردوخط لکھنے کا رواج بہت کم تھا۔آپ نے الفاظ اور جملوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خطوط کو ’’ بات ‘‘ بنا دیا ،گویا آپ قاری سے گفتگو کر رہے ہیں۔بقول آپ کے، آپ کے خطوط بہت بے رسمی ہوتے تھے ،بعض اوقات آپ صرف اس شخص کا نام لکھ کر خط شروع کر دیتے ۔آپ خود خوش طبع، مزاحیہ مزاج تھے اور آپ کے خطوط بھی بے حد دلچسپ ہوتے ۔
آپ نے لکھا ہے ’ ’ میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی ایسی بات لکھوں کہ پڑھنے والے اس سے لطف اندوز ہو جائیں‘‘۔
۱۸۵۰ ء میں شہنشاہ بہادر شاہ ظفر دوم نے مرزا غالب کو ’’ دبیرالملک ‘‘ اور’’ نجم الدولہ ‘‘ کا اضافی لقب بھی عطا کیا۔ان القابات سے نوازہ جانا مرزا غالب کے دہلی امراء میں شامل ہونے کی علامت تھا۔آپ نے شہنشاہ کی طرف سے ’’مرزا نوشہ ‘‘کا خطاب بھی حاصل کیا۔اس طرح مرزا کو اپنے پہلے نام کے طورپر شامل کیا۔آپ شہنشاہ کے شاہی دربار میں اہم درباری تھے۔
چونکہ شہنشاہ خود ایک شاعر تھے اسلئے مرزا غالبؔ کو ۱۸۵۴ء میں آپ شہنشاہ کے استاد مقرر ہوئے۔ آپ بہادر شاہ ظفر دوم کے بڑے بیٹے شہزادہ فخرا لدین مرزا کے اتالیق بھی مقرر ہوئے۔ آپ کو شہنشاہ نے مغل درباری شاہی مورخ بھی مقرر کیا۔ زوال پذیر مغل شرافت اور پرانے زمیندار اشرفیہ کارکن ہونے کے ناتے آپ نے کبھی معاش کے لئے کام نہیں کیا ،یا مغل بادشاہوں کی سر پرستی ، سربراہی کے لئے نہیں بلکہ اپنے دوستوں کی سخاوت پر زندگی بسر کی ۔
آپ نے اپنی زندگی کے دوران خود ہی کہا کرتے کہ اگرچہ انکی عمر نے ان کی عظمت کو نظر انداز کیا ۔لیکن آنے والی نسلوں نے آپکی صحیح شناخت کرلی اور آپ کے وقار کو اعلیٰ و برتر رکھا ۔مغلیہ سلطنت کے زوال اور برطانوی عروج کے بہت کوششوں باوجود غالب کو مکمل پنشن نہیں مل سکی۔غالب اس ہنگامہ خیز دور کے تاریخ ساز تھے۔ایک کے بعد دیگرغالب نے دیکھا کی خاص بازار ‘ اُردو بازار‘ خرم کا بازار غائب تباہ کئے گئے۔
سارے محلے اور گلیاں ،کترے غائب ہوتے گئے ۔’’دہلی اب فوجی کیمپ بن چُکا تھا۔ یہ اس جاگیر دار اشرافیہ کا خاتمہ ہے۔جس ممتا بھری اشفیق آغوش میں ہم نے محبت ہی محبت پائی ہے۔اب دہلی کی حویلیاں زمین دوست ، برباد و مسما رکردی جارہی ہیں اور دہلی ایک خوفناک صحرا بنتا جارہا ہے۔ میرے ارد گرد خون کی لال سُرخ سمند رمیرے میرے اطراف منڈلہ رہا رہے ہیں۔
خوفناک قیا متی منظر سے دلی کی دھڑکنیں جیسے تھمتی جارہی ہیں۔یا الٰہی اس دہلی کو کس منحوس شیطان نے اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ اب ہمارا ہی نہیں ساری قوم کا مستقبل فنا ہوتا جارہا ہے۔پتہ نہیں میرے لئے اب اور کیا دن دیکھنے باقی رہ گئے ہیں ؟‘‘
غالب کی شاعری کا بڑا حصہ نعت پر مرکوز ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غالب ایک متقی مسلمان تھے۔غالب نے اپنا ’’ ابرِ گوہر‘‘ِ آپ کی نعتیہ کلام اور نعت کے لئے ۱۰۱ آیات کا قصیدہ بھی لکھا۔ غالب اپنے آپ کو ایک گنہگار کے طور پر بیان کیا جنہیں محمد ؐکے سامنے خاموش رہنا چاہیئے کیوں کہ آپ اس لائق نہیں کہ محمدؐ سے مخاطب ہو جنہیں خدا کی
تعریف عطا ہو۔ غالب نے رسمی مذہبی کے بجائے خدا کی تلاش پر زیادہ زور دیا۔غالب کہتے ہیں’’ میری عبادت کا مقصد ،تصور ، رسائی،شعور وقوف ،استعداد کی پہنچ سے باہر ہے۔مرزا غالب ایک آزاد خیال اور صوفیانہ مزاج رکھتے تھے،آپ کا مانناتھا کہ خدا کو تلاش کرنے والے کو اپنی تنگ نظر ، سے تقلید پسند، راسخالاعتبار،مروجہ،مقلد ،قدامت پسنداسلام سے آزاد کرایا جاتا ہے۔اردو دیگر معروف شعراء کی مناسبت میں غالب بھی مذہبی شاعری لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔
اسلامی نقطۂ نظر اور جنت کی دعویٰ پر آپ اپنے عزیز کو خط میں لکھا۔’’ جنت میں تو یہ سچ ہے کہ میں فجر کے وقت خالص شراب پیوں گا جس کا ذکر قرآن میں ہے۔آپ نے علماء اکرام کے طرزِ عمل کو سختی سے نفرت کی،جو اپنی نظموں ہمیشہ تنگ نظری اور منافقت کی نمائند گی کرتے ہیں ۔’’ گہرائی سے دیکھو یہ تم اکیلے ہو جو اس کے رازوں کی موسیقی نہیں بن سکتے‘‘ ۔
غالب نے اپنے خطوط میں اکثر علماء و اکرام کی تنگ نظری کو’’ بنیاؤں اور چھوکروں کو پڑھانے اور حیض اور حیض کے خون بہنے کے مسائل میں ڈوب جانا اور حقیقی روحانیت کے ساتھ متضاد کیا جس کے لئے آپ کو ’’ صوفیان ،عارفانہ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے اور ہر چیز میں خدا کی حقیقت اور سکے اظہار کے ضروری کو اپنے دل میں سمو لینا ضروری ہے۔
۱۸۲۷ء میں لکھی اپنی نظم چراغ ِ دیر‘‘ (مندر کے چراغ) ،موسمِ بہار میںبنارس کے سفر کے دوران لکھی ۔غالب نے ہندوستان برِ صغیر کے بارے میں سوچا کہ کس طرح قیامت یہاں پہنچنے میں ناکام رہی ،اس سے دو چار متعدد تنازعات کے باؤجود یہ نظم لکھی۔
غالب فارسی کو بہت اہمیت دیتے آپ کو اس کی فارسی زبان کا علم کے باعث ِ فخر تھے۔فارسی میں انکی تحریریں اُردو کے مقابلے اعلیٰ ہیں آپ خود کہتے ہیں ’’ میری فارسی اشعار اگر مطالعہ کریں اور دیکھیں آپ کو کئی رنگوں کی قوس قزح کی مانند خوش نما ،خوش رنگ ہیں۔غالب کی فارسی تصانیف مین ’ پیج آھنگ (۱۸۴۹ء) ‘ مہرِ نیمروز (۸۵۵اء)‘ کائنات کی تخلیق سے لے کر مغل شہنشاہوں کی موت کی تاریخ ،ایک تاریخی تصنیف’’ داستانبوی‘‘ ۱۸۵۷ کی بغاوت اور اس کے بعد کے واقعیات کا چشم دید گواہ تھے،فارسی میں غالب آخری اہم تصنیف ’’ قاطع برہان ‘‘ جو کہ برہان ِ قدرت کی ایک تنقیدی تحریر ‘ ان کے علاوہ درفش کاونی‘کلیاتِ غالب‘ ابرِ گوہر وغیرہ ‘‘۔ اپنی موت سے پہلے غالب نے فارسی میں ۱۱ہزار فارسی نظمیں لکھیں۔ ۲۰۱۰ء میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے غالب کی ۳۳۷،۱۱ نظموں کا ایک تالیف ’’ کلیات فارسی ‘‘ اس عنوان سے شائع کیا ۔
غالب کے قریب ترین حریف شاعر ذوق تھے جو اس وقت کے ہندوستان کے بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے جو دہلی میں اپنی نشست کے ساتھ تھے۔غالب اورذوق کے درمیان قہقہوں کے تبادلے کے کچھ دلچسپ قصے ہیں۔البتہ ایک دوسرے کی ذہانت کا باہمی احترام تھا ۔دونوں نے ۱۸ویں صدی کے اُردو شاعری کی ایک بلند پایہ شخصیت میر تقی میر کی بالادستی،اقتدارِ اعلیٰ کو بھی سراہااور تسلیم کیا۔ ایک اور شاعر مومن جن کی غزلوں میں ایک الگ شعری ذائقہ تھا۔وہ بھی غالب کے ہم عہد، ہم عصر مشہور تھے۔اور اردو کے کی بلند پایہ شخصیات میں سے ایک الطاف حسین حالی،غالب کے شاگرد تھے۔۔حالی نے یادگارِ غالب کے نام غالب کی سوانح عمری بھی لکھی ہے۔
غالب کا انقال ۱۵ فروری ۱۸۶۹ء کو دہلی میں ہوا ۔پرانی دہلی کے گلی قاسم جان ،بالی مارن، چاندنی چوک میں جس گھر میں آپ رہتے تھے اب اسے ’’ غالب میموریل‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس میں غالب کی ایک مستقیل نمائش ہے۔غالب کو نظام الدین اولیا کی قبر کے قریب دفن کیا گیا۔
’’ہندوستانی سینما ‘‘ نے مرزا غالب ۱۹۵۴ء میں ایک فلم سیپا (بلیک اینڈ وہائٹ) کے ذریعے افسانوی شاعر کو خراج تحسین پیش کی ہے جس میں میں بھارت بھوشن، کے غالب کا کردار نبھایا اور سُرّیا نے انکے درباری عشق چودویں کا کردار ادا کیا ہے۔موسیقی غلام محمدنے ترتیب دی ہے،اور غالب کی مشہور غزلوں میں آپکی کمپوزیشن کے لئے جب تک غزلاور موسیقی زندہ رہے گا یہ بھی تمام غزل شائقین کے اپنی طرف موجہ رکھیں گے !
جگجیت سنگھ ‘ مہدی حسن‘ اقبال بانو‘ فریدہ خانم، ٹینا ثانی‘ میڈم نور جہاں ‘ محمد رفیع‘ آشا بھوسلے‘ ،بیگم اختر‘ غلام علی‘ لتا منگیشکر ‘ نصرت فتح علی خان‘ راحت فتح علی خان‘ جیسے بین ا لاقوامی شہرت یافتہ غزل کے استاد مغنیوں آپکی غزلیں گائیں جو آج بھی ساری کائینات میں اپنی پوری شدت، ترانہ ،تال اور لئے ساتھ گونج رہی ہیں۔
غالب ؔکے لاکھوں اشعار میں کچھ اشعارکا انتخاب نہایت ہی مشکل ہے لیکن چند اشعار مضمون کی تقاضے کی خاطر پیش ہیں۔
ع؎ نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے
ع؎ رگوں مین دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو پھر لہو کیا ہے
ع؎ ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
ع؎ غم ہستی کا اسد ؔ کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے صحر ہونے تک
ع؎ کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں بھی مرا بھلا نہ ہوا
ع؎ یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
ع؎ موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
ع؎ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
ع؎ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالب ؔ یہ خیال اچھا ہے
٭٭٭




