سرورققومی خبریں

اتراکھنڈ : مسلمان دکاندار کی حمایت مہنگی پڑ گئی؟ جم مالک محمد دیپک کمار مالی بحران میں گرفتار

مسلمان دکاندار کی حمایت کے بعد دیپک کمار کا کاروبار شدید بحران میں پھنس گیا ہے۔

کوٹ دوار 26 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں “محمد دیپک” کے نام سے مشہور جم مالک دیپک کمار ان دنوں شدید مالی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل تنازعات، دھمکیوں اور سماجی دباؤ نے ان کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث وہ اپنا جم فروخت کرنے اور شہر چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

42 سالہ دیپک کمار کوٹ دوار میں “ہلک” نامی جم چلاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ سے وہ جم کا کرایہ ادا نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق ماہانہ کرایہ 40 ہزار روپے ہے اور موجودہ حالات میں اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ مالک مکان کی جانب سے انہیں آخری وارننگ بھی دی جا چکی ہے۔

دیپک کمار پہلی بار جنوری میں خبروں میں اس وقت آئے تھے جب انہوں نے ایک مسلمان دکاندار وکیل احمد کی حمایت میں آواز اٹھائی تھی۔ 26 جنوری کو بجرنگ دل کے کچھ کارکن پٹیل مارگ پر واقع 70 سالہ وکیل احمد کی کپڑوں کی دکان کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران دیپک کمار نے اپنا تعارف “محمد دیپک” کے طور پر کرایا، جس کے بعد معاملہ تیزی سے موضوع بحث بن گیا۔

بعد ازاں 31 جنوری کو صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ وکیل احمد کی دکان اور دیپک کے جم کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، سڑک پر نعرے بازی ہوئی اور راستہ بند کردیا گیا۔ پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں تین الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھیں۔

دیپک کمار کا کہنا ہے کہ ان کے جم میں اس وقت صرف 60 سے 65 ارکان باقی رہ گئے ہیں، جو بمشکل اخراجات پورے کر پا رہے ہیں۔ ان کے مطابق گرمی کے موسم اور جاری تنازعہ کی وجہ سے نئے لوگ جم جوائن کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور بجرنگ دل سے وابستہ بعض افراد ان کے گاہکوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ دیپک کے مطابق ایسے ارکان، جن کے خاندان بی جے پی سے جڑے ہیں، انہیں جم آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہم نے ان کے کاروبار کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

دوسری جانب کوٹ دوار پولیس اسٹیشن کے انچارج پردیپ نیگی نے کہا ہے کہ پولیس کو اب تک اس معاملے میں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button