سیاسی و مذہبی مضامین

گورنمنٹ محکموں میں چائے پانی کے نام پر لیا جانے والا پیسہ، رشوت خور اپنا حق سمجھ بیٹھے ہیں

حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی

انسان جب اپنے آپ کو اپنے نفس یا پھر نفسانی خواہشات کے حوالے کر دیتا ہے تو وہ اشرف مخلوقات کے درجے سے گر کرمحض اپنے نفس کا غلام بن کر رہ جاتا ہے اور اس دوران وہ اپنے آس پڑوس کے موجود ہر انسان چاہے وہ اس کا اپنا لہو یا پرایا ،سب پر طرح طرح سے ظلم اور جبر کرنے لگتا ہے ۔

اپنی خواہشات کی فہرست کو ہر آن لمبا کر دینے یا اس فہرست میں ہرنئے دن نیا اضافہ کرنے کا مرتکب انسان کبھی بھی چین و سکون کی زندگی نہیں گزارسکتا کیونکہ اسے اپنے نفس یا اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے دائیں بائیں ہاتھ مارنا پڑتا ہے۔

ایک انسان کی خواہشیں اور دنیاداری کی اس کی تمنا جب اس کی آمدنی کے حدودکو پھلانگتی ہے تو وہ ان خواہشات کی تکمیل کے لئے غیر اخلاقی اور ناجائز ذرائع اور طریقوں کا استعمال کرتا ہے اور انہیں ناجائز اور اخلاق سوز طریقوں میں ایک طریقہ رشوت ستانی یا رشوت خوری بھی ہے ۔

دنیا کا کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہوگا جو رشوت ستانی کے عمل کوکسی بھی درجے میں جائز ٹھہرائے یا جس میں اس قبیح عمل کی کوئی گنجائش موجود ہو ہرگز نہیں مگر اسکے باوجود بھی دنیا کے کونے کونے میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

جو دوسروں کو ان کا حق بھی ان سےرشوت لئے بغیر نہیں دیتے یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی گورنمنٹ محکمہ ایسا نہیں جہاں اس دوران رشوت کا چلن شروع نہ ہو اورنتیجہ کے طور پر گورنمنٹ ملازمین کا کام لوگوں کو سہولیات کی فراہمی سے زیادہ اپنی جیبیں بھرنے کی طرف گامزن ہو۔

اس دوران غریب لوگ ہر جگہ اور ہر وقت پیسے گئے جبکہ سرکاری محکموں کے لوگ رشوت کی آمدنی سے بڑی بڑی جائیدادیں کھڑا کردیں سماجی سطح پر بھی رشوت ستانی کے بڑھتے سیلاب کوروکنے کے لئے کوئی آواز اٹھی نہ کوئی اقدامات کئےگئے اور اس حوالےسے ایک طرح کی بےحسی سماجی منظر نامے پر چھائی رہی ہماری زندگی کا کوئی بھی شعبہ اب ایسا نہیں رہا ہے جہاں رشوت کا لین دین نہ ہو تا ہو اور اس دوران انسانیت اس وقت شرمسار ہوجاتی ہے۔

جب سرکاری و نجی ہسپتالوں کے اندر ڈاکٹر سے ملنےجانے والے مریضوں کو بھی رشوت دینا پڑتا ہے ۔ ہمارے دل اس قد رسخت اور بے رحم ہوگئے ہیں کہ چائے پانی کے نام پر ہر جگہ پر لیاجانے والا پیسہ اب رشوت نہیں راشیوں کو اپنا حق محسوس ہوتا ہے ۔

سرکاری محکمہ جات میں رشوت کا لین دین ہورہا ہے جس کے خلاف کمر کستے ہوئے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہےجو لوگ رشوت لے کر لوگوں کا خون چوسنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کی اس سمت کوشش کی سراہنا کی جانی چاہیے کہ انہوں نے دہلی میں بھی رشوت پر لگام کسی اور کئی رشوت خور افسران کو جیل بھجوا دیا تھا اب پنجاب میں بھی اعلان کیا ہے کہ اگر کسی بھی سرکاری محکمے میں کوئی آفسررشوت مانگتا ہے تو اسکی آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنگ کرو اور ایک واٹس ایپ نمبر دیا گیا جو غالباًچیف منسٹر کا ہے۔

اس پر شکایتی آڈیو ،ویڈیو سینڈکردیجئے اس کمپلینٹ پر ایکشن لیا جائے گا۔ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ سماجی سطح پر بھی رشوت خوری کےحوالے سے عوام میں بیداری پیدا کرناہوگا ہمیں ایک ایسی سماجی حس قائم کرنا ہوگی جس میں کوئی بھی شخص کسی بھی صورت میں رشوت دینے کے لئے کبھی راضی نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button