سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

مغربی بنگال کی نہایت خوبصورت اور معصوم مسکراہٹ والی اداکارہ موسمی چٹرجی

سلام بن عثمان

موسمی چٹرجی: ایک باصلاحیت اداکارہ کی داستان

بالی ووڈ میں اکثر ساؤتھ کی خوبصورت اداکاراؤں نے اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے ایک الگ مقام بنایا جس کی وجہ سے ساؤتھ سے آئیں ہوئیں اداکاراؤں کا اکثر بول بالا رہا ہے۔

وہیں مغربی بنگال سے بھی کئی خوبصورت اداکاراؤں نے بھی اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے بالی ووڈ میں اپنی شناخت کو ہمیشہ اجاگر کیا ہے۔ جی ہاں آج ہم بات کر رہے ہیں مغربی بنگال کی خوبصورت معصوم مسکراہٹ والی بہترین اداکارہ موسمی چٹرجی کے بارے میں،

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

ان کا اصلی نام اندرا ہے دوستوں نے کہا اندو، اور بالی کے ذریعے نام ملا موسمی چٹرجی۔ موسمی چٹرجی 26 اپریل 1948 کو مغربی بنگال کے شہر کلکتہ (کولکتہ) میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئی۔ والد پرونتوش چٹرجی والدہ شوبھی چٹرجی۔ پرونتوش چٹرجی فوج سے واپسی کے بعد شہر کولکتہ میں مقیم ہوگئے۔

گھر کے اطراف کئی فلم اسٹوڈیو تھے جس کی وجہ سے موسمی چٹرجی کو بھی فلموں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ وہ جب بھی اسکول سے گھر آتی یا گھر سے جب اسکول جاتی تو موسمی اپنے آپ کو اداکاراؤں کے درمیان محسوس کرتی۔ گھر والوں کے ساتھ جب کوئی فلم دیکھ کر آتی تو موسمی بھی آئینہ کے سامنے ان ہیروئین کی نقل کیا کرتی تھیں تو کبھی ڈانس کیا کرتی۔

فلمی سفر کا آغاز

اس دوران ایک روز اس وقت کے مشہور ہدایت کار ترون مجمدار نے دیکھا کہ ایک لڑکی کچھ لڑکیوں کے درمیان کھڑی ہے شرارتی انداز کے ساتھ ان کی لیڈر یا ان کی رہنمائی کر رہی ہو، ترون مجمدار بہت متاثر ہوئے وہ لڑکی تھی موسمی چٹرجی۔

ایک روز جب موسمی اسکول سے گھر آرہی تھی تو قریب کے اسٹوڈیو میں کسی فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی اس وقت ترون مجمدار کی نظر پھر ایک مرتبہ موسمی چٹرجی پر پڑی انھوں نے اس معصوم بچی سے پوچھا کیا تم فلموں میں کام کروگی موسمی نے فوراً ہاں کہا۔ مگر موسمی کے گھر کوئی فلمی ماحول نہیں تھا۔

والدین کا فلموں میں کام کے متعلق سخت اعتراض تھا۔ اس وقت کی مشہور اداکارہ سندھیا رائے نے موسمی کے والدین کو سمجھایا ہر جگہ اچھائی اور برائی ہوتی ہے ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان اچھائیوں کو اپنائے نہ کہ برائی کو، پھر کیا موسمی کے والدین نے اجازت دے دی اور اس طرح موسمی چٹرجی کا فلمی سفر 1967 کی بنگالی فلم "بالیکا بدھو” سے شروع ہوا۔ فلم کی شروعات تو ہوگئی۔

مگر موسمی چٹرجی کی شرارت سے ہدایت کار اور اسسٹنٹ بہت پریشان تھے یو بھی کہا گیا کہ پورا یونٹ پریشان تھا۔ شروعاتی وقت دو سے تین روز تک ٹھیک ٹھاک چلا مگر بعد میں موسمی کے کھیل کود شرارت پر ایک طرح سے پابندی لگ گئی تھی۔

ایک مرتبہ تو موسمی شوٹنگ کے دوران ہی اسٹوڈیو سے بھاگ گئی، پھر اس کے بعد سے شوٹنگ کے دوران موسمی کو آفس کے کمرے میں بند رکھا جاتا تھا، جب شوٹنگ کا وقت آتا تو کمرے سے باہر لایا جاتا، کبھی چہرہ کا میک اپ خراب ہو جاتا ہدایت کار موسمی سے پوچھتے یہ کیا ہوگیا۔

چہرے پر اس پر موسمی کہتی چہرہ پر کچھ کھجا رہا تھا تو میں نے کھجایا، کبھی تو ناک کی نتھنی نکال کر پھینک دیتی اس پر جب پوچھا جاتا تو کہتی ناک میں لگ رہی تھی تو میں نے پھینک دیا۔ ہدایت کار ترون مجمدار بہت پریشان تھے۔

ایک مرتبہ تو شوٹنگ روک کر کہا موسمی تم بہت پریشان کرتی ہو اب میں شوٹنگ ختم کرتا ہوں اور تمام نیگیٹیوز فلم کو جلا دیتا ہوں۔ جب جا کر موسمی کی شرارت ختم ہوئی اور فلم مکمل ہوکر جب نمائش کے لئے سنیما ہال پر آئی تو فلم سپر ڈوپر ہٹ ہوئی اور موسمی چٹرجی اپنی پہلی ہی فلم سے شہرت حاصل کی۔

ذاتی زندگی اور شادی

اسی دوران 17 سال کی عمر میں موسمی چٹرجی کی شادی اس وقت کے مشہور موسیقار اور گلوکار ہیمنت کمار کے بیٹے جیونتو مکھرجی کے ساتھ طے ہوگئی۔ جیونتو مکھرجی بھی بطور چائلڈ اداکار کئی فلموں میں کام کیا۔

شادی کے بعد دونوں ممبئی آئے اور اسی دوران شکتی سامنتا کی فلم "انوراگ” میں موقع ملا موسمی چٹرجی نے جب کہانی سنی تو فلم کے لئے انکار کردیا جس کی خاص وجہ تھی نابینا لڑکی کا کردار ادا کرنا تھا اس وقت موسمی نے بالی ووڈ میں اپنا مقام بھی نہیں بنایا تھا۔

موسمی کو ڈر محسوس ہو رہا تھا کی میرا کرئیر ختم نا ہوجائے ایک چیلینج کردار تھا اس وقت انڈسٹری میں کئی خوبصورت اداکاراؤں کی طوطی بولتی تھی جن میں پروین بابی، زینت امان، ہیما مالنی، رینا رائے، شلکھشنا پنڈت، جیا بہادری اور بھی کئی دیگر بہت مشہور اداکارائیں تھیں اور ان سبھوں کے درمیان موسمی چٹرجی کو اپنا مقام بنانا تھا۔

بڑی فلموں میں کامیابی

شکتی سامنتا کا شمار اس وقت کے بڑے ہدایت کاروں میں تھا۔ انھوں نے کہا واقعی نابینا لڑکی کا کردار دمدار ہے مگر اس کو چیلینج مت کہو آپ کو نابینا اسکول لے جاکر تربیت دی جائے گی بہت زبردست کردار ہے تم ہی اس فلم کے لئے ہو اور کسی میں یہ خوبی نہیں ہے۔

موسمی نے بہت ہی سمجھداری کے ساتھ اس فلم کے لئے ہاں کہی، فلم کی شروعات ہوئی جس میں کئی بڑے اداکاروں کو بلایا گیا۔

جس میں اشوک کمار بھی تھے فلم کا پہلا منظر ٹرائیل کے طور پر لیا گیا موسمی چٹرجی کیمرہ کے سامنے بغیر کسی نابینا اسکول کی تربیت کے کھڑی تھی جیسے ہی شاٹ ختم ہوا سب لوگوں نے تالیاں بجائیں موسمی کو مبارکباد دی گئی۔

شکتی سامنتا نے کہا آپ کو اب کسی نابینا اسکول جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ فلم مکمل ہوئی اور باکس آفس پر کامیاب رہی فلمی شائقین نے موسمی چٹرجی کے کردار کو خوب سراہا۔

فلم انوراگ کو بہترین فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا اور ساتھ ہی موسمی کو بہترین ہیروئین کے ایوارڈ کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ موسمی کے لئے فلم انوراگ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا جس میں وہ کامیاب ہوئیں اور بالی ووڈ کی بہترین ہیروئین میں شمار ہوگئی۔

مزید فلمی کامیابیاں

اس کے بعد کئی فلموں میں کام کیا اور کامیاب رہی۔ موسمی چٹرجی بنگالی ہونے کی وجہ سے ان کے ڈائیلاگ میں بنگالی جھلک نظر آتی تھی چاہے ان کی پہلی بالی ووڈ فلم انوراگ رہی ہو یا پھر بعد کی فلم دو پریمی ہو ان کے ڈائیلاگ میں اکثر بنگالی ٹچ رہا ہے مگر ان کی بہترین اداکاری کی وجہ سے فلمی شائقین کی توجہ نہیں کے برابر رہی۔

فلم انوراگ کے بعد موقع ملا ایک اور بڑے مشہور فلم ساز ہدایت کار منوج کمار کی فلم میں، منوج کمار ایک فلم بنا رہے تھے روٹی کپڑا اور مکان۔ اس فلم میں معاون ہیروئین کے کردار کے لئے موسمی کو موقع ملا اور موسمی چٹرجی نے اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے فلمی شائقین کو چونکا دیا۔ فلم سپر ڈوپر ہٹ ہوئی اور موسمی چٹرجی کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔

اس فلم میں منوج کمار، امیتابھ بچن، ششی کپور، زینت امان اور ان سب بڑے اداکاروں کے درمیان موسمی چٹرجی نے بازی ماری اور ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد امیتابھ بچن کے ساتھ فلم "بے نام” میں بطور ہیروئن کام کیا اور صرف اٹھارہ سال کی عمر میں فلم "بے نام” میں ماں کا کردار ادا کیا۔

امیتابھ بچن کے ساتھ دوسری فلم "منزل” میں موسمی نظر آئیں مگر دونوں ہی فلم اوسط رہی اور امیتابھ بچن کے ساتھ موسمی کی کیمیسٹری لوگوں کو پسند نہیں آئی۔ اس کے بعد دونوں پھر کسی فلم میں نظر نہیں آئے۔

موسمی چٹرجی نے بالی ووڈ میں رومانی، جذباتی اداکاری کے ساتھ مزاحیہ کردار کو بھی بہت ہی بہترین ادا کیا جس کی مثال فلم "انگور” تھی۔ موسمی نے 70 اور 80 کے دہائی کے تمام اسٹار اور سپر اسٹار کے ساتھ کام کیا جن میں ونود مہرہ، ونود کھنہ، سنجیو کمار، جیتیندر، امیتابھ بچن، منوج کمار، ششی کپور کے علاؤہ اور بھی کئی دیگر شامل ہیں۔ بعد میں موسمی چٹرجی نے ماں، بھابھی، اور بہن کے کردار کو بھی بہت ہی بخوبی ادا کیا اور وہ تمام فلمیں بھی کامیاب رہیں۔

شخصی زندگی اور سیاست

موسمی چٹرجی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ "وہ بہت خوش قسمت ہے کہ شادی کے بعد بھی میرے شوہر اور ساس سسر نے مجھے فلموں میں کام کرنے کی اجازت دی، انھوں نے میری فلم کو دیکھا اور کہا کہ تم میں اداکاری کا ٹیلینٹ ہے تم فلموں میں کام جاری رکھو۔”

موسمی چٹرجی کی دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی پائیل اب اس دنیا میں نہی ہے اور دوسری میگھا موسمی اور جیونتو مکھرجی یعنی والدین کے ساتھ رہتی ہے۔

موسمی چٹرجی نے ہندی اور بنگالی فلموں کے علاؤہ مراٹھی فلموں میں بھی کام کیا۔ موسمی فلموں کے ساتھ ساتھ ٹی شوز میں بھی نظر آئیں جیسے تلاش اور البیلی۔ موسمی چٹرجی کی کچھ مشہور فلمیں انوراگ، بے نام، منزل، سب سے بڑا روپیہ، عمر قید، گھر پریوار، پیار کا دیوتا، روٹی کپڑا اور مکان، دو جھوٹ، سورگ نرگ، پھاندے باز، گوتم گوندا، دو پریمی، انگور اور گھائل ہیں۔

موسمی چٹرجی نے بالی ووڈ کے بعد سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ 2004 میں کانگریس پارٹی میں شامل ہوئیں اور ممبر آف پارلیمنٹ کا الیکشن لڑا مگر کامیابی نہیں ملی۔ اس کے بعد 2019 میں موسمی نے بی جے پی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔


نرگس: بالی ووڈ کی عظیم اداکارہ کی زندگی، محبت اور جدوجہد-نثار احمد صدیقی

متعلقہ خبریں

Back to top button