
ایم پی :اندور میں ہجوم کے ہاتھوں پیٹے گئے چوڑی بیچنے والے شخص کے خلاف ہی 9 سنگین دفعات میں مقدمہ درج
اندور، 23 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اندور میں چوڑیاں بیچنے والے ایک نوجوان پر حملے کے معاملے میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ ملزم گولو عرف تسلیم علی کے خلاف پاکسو ایکٹ سمیت 9 سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے پیر کی شام اس شخص کو ایک 13 سالہ اسکولی طالبہ کو #جنسی طور پر ہراساں کرنے اور #کاغذات جعل سازی کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ چھٹی کلاس میں پڑھنے والی ایک طالبہ نے بننگا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے کہ اتوار کی سہ پہر تسلیم علی (25) اپنا نام گولو بن موہن سنگھ بتا کر چوڑیاں بیچنے اس کے گھر آیا اور اسے اسے #خوبصورت بتاتے ہوئے بری نیت سے اس کے جسم کو چھوا۔عہدیداروں نے بتایا کہ #نابالغ لڑکی نے شکایت میں کہا کہ جب اس کی والدہ علی کے پاس پہنچی، تو اس نے اس فعل کوروکا، چوڑی بیچنے والے نے مبینہ طور پر اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے کر بھاگنے لگا لیکن پڑوسیوں نے اس کا پیچھا کیا۔
انہوں نے ایف آئی آر کے حوالے سے بتایا کہ علی کے جلدبازی میں چھوڑدئے گئے ایک بیگ میں دو #آدھار #کارڈ ملے تھے اور ان میں سے ایک میں اس کانام اسلم بن مورسنگھ چھپا ہے، جبکہ دوسرے آدھار کارڈ پر تسلیم بن مہر علی چھپا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ بچی کی شکایت پر علی پر تحفظ اطفال جنسی #جرائم ایکٹ (پاکسو ایکٹ) اور سیکشن 420 (دھوکہ دہی)، 471 (جعلی دستاویز کو اصل کے طور پر استعمال کرنا) اور تعزیرات ہند کی دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
دریں اثنا ریاستی کانگریس کے ترجمان امین خان سوری نے ٹویٹر پر 44 سیکنڈ کی ایک ویڈیو جاری کی، جو کہ اترپردیش کے ضلع ہردوئی کے رہنے والے والے چوڑی بیچنے والے کی ہے۔ اس ویڈیو میں چوڑی بیچنے والے نے کہا کہ میرے گاؤں میں برسوں پہلے بنائے گئے آدھار کارڈ میں میرا بول چال کا نام بھورا لکھا گیا تھا، جبکہ بعد میں بنائے گئے آدھار کارڈ میں میرا نام تسلیم علی لکھا گیا تھا۔ ان میں سے کوئی آدھار کارڈ جعلی نہیں ہے اور یہ دونوں حقیقی ہیں۔
چوڑی بیچنے والے کی پٹائی کامعاملہ: تیسرا ملزم گرفتار
مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں چوڑیاں بیچنے والے شخص کی پٹائی کے معاملے میں پولیس نے تیسرے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ تیسرے ملزم کا نام وویک ہے، جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس میں اس نے پیلے رنگ کا کرتہ پہنا ہوا ہے اور اس شخص پر حملہ کرتے ہوئے دکھ رہاہے۔اس معاملے میں پولیس پہلے ہی دو ملزموں کو گرفتار کر چکی ہے۔ چوڑیاں بیچنے والے نوجوانوں کی پٹائی کرنے والے ملزمان پر سنگین دفعات بھی عائد کی گئی ہیں۔ اندور کے ایس پی آشوتوش باگڑی نے کہا کہ مقدمہ درج کرکے سخت کاروائی کی جارہی ہے، قصورواروں کو بخشانہیں جائے گا۔ایک 25 سالہ شخص کو ہجوم میں شامل لوگوں کے ذریعہ مبینہ طور پر نام پوچھ کرپیٹے جانے کے واقعہ نے پیر کوطول پکڑ لیا۔
مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ کابے تکابیان،کہاوہ ہندونام رکھ کربیچ رہاتھاچوڑیاں
ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کہ ساون کے مقدس مہینے کے دوران اس شخص کے ذریعہ خودکو ہندوبتاکر خواتین کو چوڑیاں بیچنے سے تنازع شروع ہوا،جبکہ اس کا تعلق دوسری برادری سے ہے۔نروتم مشرا نے بھوپال میں کہاکہ محکمہ داخلہ کی رپورٹ ہے کہ اندور میں چوڑیاں بیچنے والے شخص(تسلیم علی) نے خود کا ایک ہندو نام بتایا تھا، جبکہ اس کا تعلق دوسری برادری سے ہے۔ اس سے دو ایسے (مشکوک) آدھار کارڈ بھی ملے ہیں۔وزیر داخلہ کے مطابق علی کے مبینہ طور پر ساون کے مقدس مہینے میں نام تبدیل کر کے خواتین کو چوڑیاں بیچنے پر تنازعہ پیدا ہوا اور جھگڑے میں ملوث دونوں فریق کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی ہے۔
دریں اثنا اندور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ منیش سنگھ نے بتایا کہ چوڑی بیچنے والوں کے حق میں اتوار کی رات دیر گئے سینٹرل کوتوالی علاقے میں بڑی تعدادمیں جمع ہوئے مظاہرین کے زبردست ہنگامہ کرکے ماحول بگاڑنے کے پیچھے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے کچھ لیڈران کے بارے میں پتہ چلاہے اوران لوگوں کی شناخت بھی ہوگئی ہے۔
ضلع مجسٹریٹ نے کہاکہ ہم اندور میں ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان تنظیموں کے عہدیداروں نے اتوار کی رات خاص طور پر سینٹرل کوتوالی علاقے میں نوجوانوں کو اکسانے کی کوشش کی۔ ان لوگوں کی یہ حرکتیں بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔



