جناب ضیاء السلام صاحب دہلی میں برسرکار ایک سینئر صحافی ہیں۔ سال 1996ء میں انگریزی اخبار اسٹیٹسمین میں کام کرنا شروع کیا۔ سال 2000ء میں انگریزی کے اخبار دی ہندو میں ملازمت اختیار کرلی۔ 10؍ مارچ 2022ء کو سوشیل میڈیا کے ذریعہ ضیاء السلام نے حالیہ اسمبلی انتخابات پر تبصرہ لکھا کہ ان کے ایک صحافی دوست جو کہ غیر مسلم ہیں اور جنہوں نے ان کے ساتھ اخبار اسٹیٹسمین اور دی ہندو میں کام کیاتھا اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں کے ساتھ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے موضوع پر ان کی بات ہوئی اور ضیاء صاحب کو یہ جان کر بڑی تکلیف ہوئی کہ ان کے دوست کو بی جے پی کی کامیابی پر کافی خوشی ہوئی ہے۔
حالانکہ وہی شخص کل تک بے روزگاری، مہنگائی، پٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور کرپشن پر تشویش کا اظہار کیا کرتا تھا اور تو اور یہ غیر مسلم ریٹائرڈ صحافی اپنے بچے کی گذشتہ چار برسوں سے بے روزگاری کے سبب بھی کافی پریشان تھا۔
قارئین کرام اصل اور کام کی بات تو یہ ہے کہ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جس نے ایک ریٹائرڈ صحافی کو بی جے پی کا حمایتی بنادیا اس کا جواب ضیاء السلام صاحب اپنے غیر مسلم دوست کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔
حالیہ عرصے میں وہ غیر مسلم صاحب رانچی کے سفر پر گئے تھے۔ رانچی کے سفر کے دوران ان غیر مسلم صاحب کو ایک سڑک پر 10 منٹ تک صرف اس لیے انتظار کرنا پڑا۔ کیونکہ آگے راستے میں مسلمان جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ جس سے سڑک کی ٹریفک متاثر ہوگئی تھی۔ذرا غور کیجئے ایک ہندوستانی مسلمانوں سے ناراض ہوکر بی جے پی کو ووٹ ڈالتا ہے۔
ضیاء السلام صاحب آگے لکھتے ہیں مسلمانوں کی جانب سے نماز جمعہ کی ادائیگی کی وجہ سے ہونے والی ٹریفک جام پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا غیر مسلم دوست کہتا ہے کہ ہم نے تو بی جے پی کو ووٹ دیا۔ مہنگائی، پٹرول کی قیمتیں، افراط زر، وبائی امراض سے نمٹنے میں ناکامی کو بالکل بھول کر بی جے پی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔
ضیاء السلام لکھتے ہیں کہ لوگوں کی سیاسی پسند ناپسند الگ الگ ہوسکتی ہے لیکن اسلاموفوبیاء کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس پس منظر میں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں جانے انجانے میں ہم مسلمانوں سے ایسی کوئی حرکت تو سرزد نہیں ہو رہی ہے جو دیگر برادران وطن کو مسلمانوں اور اسلام سے بدظن کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
ہریانہ کے گروگرام میں مسلمانوں کی جانب سے نماز جمعہ کی کھلے میدانوں میں ادائیگی کا مسئلہ سال 2021 اواخر میں کافی زیر بحث آیا۔ مسلمانوں نے اس حوالے سے کیا اقدامات کیے معلوم نہیں لیکن جب کوئی ووٹر یہ کہتا ہے کہ مسلمان اپنی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے سڑکوں کی ٹریفک کو متاثر کردیتے ہیں چاہے وہ راستے میں نماز پڑھ کر رکاوٹ پیدا کرنا ہو یا راستے میں گاڑیوں کی غلط پارکنگ کر کے دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنا ہو۔
دوسرے کیا کرتے ہیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مسلمان کی نماز ادائیگی سے دوسروں کو تکلیف ہو رہی ہے اور وہ اس کا برملا اظہار کر رہے ہیں تو امت مسلمہ کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ اپنا احتساب کریں اور ہر ممکنہ کوشش کریں کہ مساجد میں نمازوں کی ادائیگی کے دوران ہماری مساجد کے اطراف و اکناف کسی بھی فرد کو تکلیف نہ پہنچے۔
یہ کوئی مبالغہ آرائی یا جذبات کی بات نہیں بلکہ سونچنے والی بات ہے اگر مسلمانوں کی عوامی مقامات پر اور مساجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران ’’کچھ‘‘ لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے تو یقینا اس کا مداوا کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس پر اولین توجہ دے کر مسئلہ حل کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔
کیا اس ملک میں ہر کوئی اسلاموفوبیا کا شکار ہوگیا ہے۔ جی نہیں ایسی بات بھی نہیں ہے۔ بہت سارے غیر مسلم برادران وطن ایسے موجود ہیں جو ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کے متعلق اپنا نظریہ نہیں بناتے بلکہ اس فرق کو واضح سمجھتے ہیں جو مسلمانوں کی زندگیوں اور مذہب اسلام کی تعلیمات میں ہے۔
اب میں آپ حضرات کی توجہ ایک ایسے واقعہ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو کہ ایک غیر مسلم ہندوستانی سوشیل میڈیا کے ذریعہ پیش کیا ہے۔ سندھو مالا والی، بنگلور کی رہائشی خاتون ہیں 11؍ مارچ 2022ء کو انہوں نے بنگلور (کرناٹک) کے ایک پاش علاقے میں لگائے گھرکے ایک (To-Let) کی نوٹس کو شیئر کیا ہے۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کرایہ پر دی جانے والی عمارات ہوں یا فلیٹ ان پر واضح لکھ دیا جارہا ہے کہ یہ گھر یا فلیٹ کسی خاص طبقے یا مذہب کے لوگوں کو نہیں دیا جاسکتا ہے۔
مگر سندھو مالا والی کی ٹویٹ کے مطابق کرناٹک کے جیا نگر علاقے میں ایک فلیٹ کے مالک نے To-Let کا اشتہار کچھ یوں لکھا کہ 2BHK Semi furnished with Airconditioner. Religion and Food Does not matter” اگر کہیں پر فلیٹ یا مکان مسلمان کو نہیں دیا جاتا ہے تو اس پر ہم تشویش کا اظہار کرتے مگر ایسے واقعات اور افراد پر بالکل بھی بات نہیں ہوتی جو غلط فہمیوں کو دور کرتے ہیں۔
ہندوستانیوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں یا کر رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی انفرادی اور اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔ ایک اور واقعہ ایسا بھی ہے جس کا یہاں پر تذکرہ مناسب اور موزوں معلوم ہوتا ہے۔ 9؍ مارچ 2022ء کو انڈین ایئرفورس کے ایک ریٹائرڈ پائلیٹ راجیو تیاگی نے سوشیل میڈیا پر گروپریت سنگھ نام کے ایک ہندوستانی ایک مشاہدہ شیئر کیا ہے۔
گرو پریت سنگھ دہلی کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ خود بیان کیا ہے ۔ان کے مطابق:
ایک دن وہ دہلی میں سفر کے لیے اوبر ٹیکسی پول میں کرایہ پرحاصل کرنے کے لیے درخواست کی اور اس ٹیکسی میں سوار ہونے والے وہ پہلے فرد تھے۔ ان کے بعد اگلے پڑائو پر ایک ماں اور اس کی چھوٹی لڑکی سوار ہوئی اور تیسرے پڑائو میں کار میں ایک مسلم نوجوان سوار ہوا۔ مسلم نوجوان کی شناخت اس کے سر پر پہنی ہوئی ٹوپی سے بہ آسانی سے کی جاسکتی تھی۔
گروپریت سنگھ لکھتے ہیں کہ جیسے ہی ایک مسلم نوجوان ٹیکسی میں سوار ہوا تو جو غیر مسلم ماں بیٹی پہلے سے سوار تھی ان کے درمیان مکالمہ شروع ہوا۔
چھوٹی لڑکی اپنی ماں سے سوال کر رہی ہے ماں یہ بھیا اپنے سرپر ٹوپی کیوں پہن رکھے ہیں اب تو شام ہوگئی ہے اور سورج بھی نہیں ہے۔ غیر مسلم ماں اپنی چھوٹی بیٹی کو سمجھانے لگتی ہے۔ بیٹا کیا تم نہیں دیکھتی کہ میں جب بھی مندر جاتی ہوں تو اپنے سر پر دوپٹہ اوڑھ لیتی ہوں یا پھر ہمارے گھر پر کوئی بھی بڑے بزرگ آتے ہیں تو میں اپنے سر کو ڈھانک لیتی ہوں اور ان کے قدم چھوکر ان کی تکریم اور اکرام کرتی ہوں۔
اس طرح سر کو ڈھانپنے اور سرپر اوڑھنے کا مقصد کسی کی عزت کرنا ہے اور وہ مسلم بھیا جو کار میں ٹوپی پہن کر بیٹھے ہیں۔
غیر مسلم ماں کے جواب پر ان کی چھوٹی بیٹی مطمئن نہیں ہوتی ہے۔ اس کا اگلا سوال ہوتا ہے مگر یہ جو ٹوپی والے بھیا ہے وہ کس کی عزت کر رہے ہیں یا کس کو عزت دے رہے ہیں ۔ ہماری کار میں نہ تو مندر ہے اور نہ ہی کوئی بوڑھا فرد ہے اور نہ یہ بھیا کسی کے پیر چھو رہے ہیں تو پھر یہ بھیا کس کے لیے اپنے سر پر ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔
اپنی بچی کے معصوم سوال کا غیر مسلم ماں کے پاس پہلے سے جواب تیار تھا وہ کہتی ہے کہ بیٹا اس بھیا کے ماں باپ نے ان کو سکھایا کہ وہ ہر ملنے والے کو عزت دیں۔ ان کی عزت کریں بالکل ایسے ہی جیسے میں نے تمہیں سکھایا کہ مہمانوں کو نمستے کہنا چاہیے۔
اس لیے یہ مسلمان بھیا اپنے سر پر ٹوپی پہنے رہتے ہیں تاکہ وہ ہر ایک کی عزت کرسکیں اور ہر ایک کو عزت دے سکیں۔
قارئین کرام ایسی کئی مثالیں ہیں جو گواہی دیتی ہیں کہ ہمارے ملک ہندوستان میں بہت سارے بلکہ بے شمار ایسے ہندوستانی رہتے اور بستے ہیں جو مسلمانوں اور دیگر برادران وطن کے متعلق اچھے تاثرات اور درست معلومات رکھتے ہیں۔
ایک ایسے پس منظر میں جب رمضان المبارک کی آمد آمد ہے کیا ہم مسلمان اس بات کا تہیہ کرسکتے ہیں کہ اس مرتبہ ہم اس ماہ مبارک کے دوران اسلام کی درست تصویر اور صحیح تعلیمات کو دیگر برادران وطن تک پہنچائیں گے۔ یہ کام ہم اسلامک لٹریچر اور کتابوں کی تقسیم کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنے عمل سے اپنی پریکٹس کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کی حقیقی تصویر اور تعلیمات پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
اس ماہ مبارک کے دوران خاص کر ہماری مساجد پر دنیا بھر کے لوگوں کی نظر ہوتی ہے۔ ایسے میں ہم اپنی مساجد نمونے کے طور پر پیش کریں گے اور مسجد کے اطراف کے ماحول کو بھی اسلام کا نمائندہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
رمضان المبارک کے دوران بہت سارے مسلمان اپنے لباس کا اور سر کی ٹوپی پہننے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایسے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل سے اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ سڑک پر، بازار میں، عوامی مقامات پر جو کچھ کر رہے ہیں دنیا اس کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھ رہی ہے۔
ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیں کہ مسلمان مسجد میں عبادت کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے لیکن مسلمان مسجد کے باہر غلط پارکنگ کر کے لوگوں کو تکلیف دے رہا ہے تو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں اسلام نے مسلمانوں کو ایسا ہی سکھایا ہے۔ ذرا سونچئے اور اپنے حصہ کی شمع جلایئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



