سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

سرسوں کی مختلف امراض میں طبی افادیت

حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور

سرسوں کے فوائد: سرسوں کا ساگ، تیل اور قدیم گھریلو نسخے

سرسوں مشہور پودا ہے۔ موسمِ سرما میں پنجاب، ہریانہ، یوپی اور دہلی کے لوگ اس کا ساگ کثرت سے پکا کر کھاتے ہیں۔ عام طور پر اکتوبر کے مہینے میں گندم کے ساتھ یا علیحدہ سرسوں بوئی جاتی ہے۔

جب یہ پودا بڑا ہو جاتا ہے تو اس پر باریک پھلیاں لگتی ہیں، جن میں باریک باریک دانے ہوتے ہیں۔ عام طور پر انہی دانوں کو سرسوں کہا جاتا ہے۔ اس کے رس و ذائقے میں چرچراہٹ، کچھ کڑواہٹ اور تیز گرمی ہوتی ہے۔ یہ کھجلی اور کوڑھ کے لیے مفید بتائی جاتی ہے۔ جو لال سرسوں کے فوائد ہیں، وہی سفید سرسوں کے بھی ہیں، مگر ان میں سفید سرسوں زیادہ بہتر سمجھی جاتی ہے۔

سرسوں کا ساگ درد اور سوجن کے لیے مفید بتایا جاتا ہے۔ سرسوں کا تیل تری اور گرمی پہنچاتا ہے اور جسم کو موٹا کرتا ہے۔ اس کی جسم پر مالش جلدی امراض میں مفید سمجھی جاتی ہے۔ سرسوں کو اکیلے ابٹن میں ڈال کر چہرے کا رنگ نکھارنے اور داغ دھبے دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بیج مقوی اور پیشاب لانے کے لیے مفید بتائے جاتے ہیں۔

سرسوں کے ساگ میں کیلشیم (چونا)، سوڈیم (نمک)، کلورین، فاسفورس، فولاد، پروٹین اور حیاتین الف، ب، ج پائے جاتے ہیں۔ سرسوں کے تیل میں بنائے گئے اچار لمبے عرصے تک اچھے رہتے ہیں۔ یہ تیل جلد کی خشکی دور کرنے کے لیے مالش کے کام آتا ہے۔ ٹھنڈے اور برسات کے موسم میں اس کا استعمال اور مالش بہت فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ یہ جلد کو نرم اور جسم کی جلد کو طاقتور بناتا ہے۔

سرسوں کا استعمال قدیم اطبا دواؤں میں کرتے آئے ہیں۔ دانتوں کے امراض میں سیندھا نمک اور سرسوں کا تیل ملا کر منجن کرنے کو مفید بتایا گیا ہے۔ سرسوں کے مجربات درج ذیل ہیں۔

گنٹھیا: سرسوں کے تیل 100 گرام میں 5 گرام کافور ملا کر مالش کرنے سے گنٹھیا میں آرام ملنے کا روایتی دعویٰ کیا جاتا ہے۔

کان کا درد: سرسوں کے تیل کی پانچ چھ بوندیں معمولی گرم کرکے کان میں ڈالنے سے کان کے درد میں آرام ہونے کا روایتی نسخہ بیان کیا جاتا ہے۔

ناسور: آک کے دودھ میں روئی کو بھگو کر سایہ میں خشک کر لیں۔ سوکھنے پر اس کی بتی بنا کر اسے سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا دیں اور اس کا کاجل بنا لیں۔ اس کاجل کو ناسور میں بھرنے سے ناسور بند ہونے کا روایتی دعویٰ کیا جاتا ہے۔

ابٹن: سرسوں کو دودھ میں ڈال کر پکا دیں۔ جب سارا دودھ خشک ہو جائے تو سرسوں کو سکھا کر پیس لیں اور جسم پر ابٹن کریں۔ روایتی طور پر اس سے جسم کا رنگ نکھارنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

منجن: سرسوں کا تیل عام گھریلو استعمال کی چیز ہے، جسے پنجاب اور ہریانہ کے لوگ عام طور پر سر کے بالوں میں لگاتے ہیں، بدن پر مالش کرتے ہیں اور دانتوں پر بطور منجن استعمال کرتے ہیں۔ کان میں خشکی ہونے پر بھی بعض لوگ اسے ڈالتے ہیں۔ سبزیاں، خصوصاً کریلا اور مولی وغیرہ، اس میں پکاتے ہیں۔ خصوصاً کسان لوگ اسے پکوڑے بنانے میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ مریضوں پر استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا مشورہ روایتی طور پر دیا جاتا رہا ہے۔

سر کا ایگزیما: سرسوں کا تیل 250 ملی لیٹر، کاربالک ایسڈ ایک گرام اور کافور ایک گرام، تینوں چیزوں کو ملا لیں۔ روایتی نسخے میں اسے دن میں دو تین بار لگانے، صابن استعمال نہ کرنے اور سر صرف دہی سے دھونے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اس نسخے کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس سے سر کا ایگزیما، پھوڑے، پھنسی اور سر کی خشکی وغیرہ دور ہو جاتی ہے۔

کان کا درد: پہلے سوڈا بائی کارب (میٹھا سوڈا) ایک چٹکی کان میں ڈال کر لیموں کا رس تین چار قطرے ڈالنے کا روایتی نسخہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جھاگ پیدا ہوتی ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس سے کان کا درد بند ہو سکتا ہے، کیونکہ اسے ہائیڈروجن کا بدل کہا جاتا ہے۔

سوکھا مسان: بعض بچے سوکھ کر کانٹا ہو جاتے ہیں، جنہیں لوگ سوکھا مسان وغیرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ درج ذیل تیل بنا کر بچے کی مالش کرنے کا روایتی مشورہ دیا جاتا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پندرہ بیس روز میں بچہ موٹا تازہ ہونا شروع ہو جائے گا۔

سرسوں کا تیل 50 ملی لیٹر، زیتون کا تیل 50 ملی لیٹر، مچھلی کا تیل 50 ملی لیٹر، چنبیلی کا تیل 50 ملی لیٹر اور عرقِ گلاب کی خوشبو 2 ملی لیٹر لیں۔ سب کو گرم کریں اور شیشی میں محفوظ رکھیں۔ روایتی نسخے کے مطابق صرف مندرجہ بالا تیل کی مالش سے بچے کا سوکھا مسان دور ہو کر بچہ تندرست ہو جاتا ہے۔

طبی نوٹ: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے اور کسی بیماری کی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button