شاعری

نظم : ننّھی عفیفہ

ڈاکٹر صالحہ صدیقی ( الہ آباد)

 ننھی منی پیاری پیاری
عفیفہ ہماری گڑیا رانی
امّا ابّا کی رجدولاری
صبح سویرے جب اُٹھتی ہے
اللہ اللہ وہ پڑھتی ہے
دیکھ کر اسکو سب ہنستے ہیں
پیار سے اسکو دعا دیتے ہیں
گول مول سی آنکھیں اُسکی
بھولی بھالی پیاری پیاری
پھول کے جیسے گال ہیں اسکے
چہرہ جیسے چاند کا ٹکڑا
اس پر چھوٹی ناک ہے اس کی
دیکھ کر اسکو سب للچائے
گود میں اپنی اٹھانا چاہے
جی بھر کر کھلانا چاہے
عفیفہ ہماری گڑیا رانی
ننھی منی پیاری پیاری
دادا دادی کے آنکھ کا تارا
دادا اسکو خوب کھیلا تے
اچھی اچھی کہانی سنا تے
جن پریوں کی سیر کراتے
عفیفہ ہماری گڑیا رانی
ننھی منی پیاری پیاری
اللہ اسکو سلامت رکھے
اچّھا اور نیک انسان بنائے
خوشیاں اُسکا ساتھ نہ چھوڑے
ہمیشہ یونہی ہنستی جائیں
عفیفہ ہماری گڑیا رانی
ننھی منی پیاری پیاری

 

متعلقہ خبریں

Back to top button