
نکاح کی ضرورت، اے نوجوانو! جو تم میں سے شادی کرنے کی سکت رکھتا ہو۔ اْسے چاہئے کہ وہ شادی کرلے۔
حافظ عزیز احمد
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے نوجوانو! جو تم میں سے شادی کرنے کی سکت رکھتا ہو۔ اْسے چاہئے کہ وہ شادی کرلے۔کیونکہ شادی (انسان) کی نظر کو نیچے اور فرج کی حفاظت کرتی ہے۔ اور جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا، اْسے چاہئے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ رکھنا اس کی شہوت کا توڑ ہے۔(صحیح البخاری)
گرامی قدر سامعین! آج کی زیر مطالعہ حدیث مبارکہ جسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بروایت جلیل القدر صحابی رسول سیّدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی صحیح میں لائے ہیں ،امت کے نوجوانوں کے لئے ترغیب نکاح میں اہم سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ مسئلہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نکاح کرنا اور بالخصوص نوجوان لوگوں کا نکاح کرنا ایک فطری اور شریعت کی نگاہ میں ضروری امر ہے۔
مرد اور عورت دونوں کا پاکدامن رہنا اور اپنی عفت کی نگہداشت کرنا اسلامی طرز معاشرت کا قابل قدر پہلو ہے۔ اور اسلام کے متعین کردہ عالی اخلاق کی فہرست میں نہایت بلند مقام کا حامل ہے۔ ہر وہ کام جو انسانی عفت کی حفاظت میں کردار ادا کرے ،دین اسلام اس کی تحسین کرتا ہے۔ مثلاً مرد وعورت کا اپنی نظر نیچے رکھنا، زیب وزینت کے اظہار میں حد درجہ احتیاط برتنا ،شادی بیاہ کے اجتماعات میں باہمی اختلاط سے گریز کرنا اور اسی طرح کے دیگر نا پسندیدہ معاشرتی رویوں سے اپنے دامن کو بچاتے رہنا تقوی اور خدا خوفی کی علامات ہیں۔اور مسلمان کے دامن عفت کو داغدار ہونے سے بچاتے ہیں۔
اور نکاح کرنا ان سب میں اہم ترین اور موثر ترین ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے نہ صرف یہ کہ نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے بلکہ تاکید کی ہے۔زیر مطالعہ حدیث بھی اسی ترغیبی اور تاکیدی حکم پر مشتمل ہے۔رسول محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوجوانان امت کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، نوجوانو! تم میں سے جس کو نکاح کی استطاعت ہو ،اْسے چاہئے کہ وہ ضرور شادی کرلے۔
کیونکہ اس سے آنکھ بد نظری سے اور شرمگاہ بدکاری سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اور جس کو اس کی سکت نہیں تو اْسے چاہئے کہ وہ روزے رکھے کہ روزہ کی وجہ سے جنسی اور سفلی جذبات مغلوب ہو جاتے ہیں اور انسان بے راہ روی کا شکار نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ ہے کہ استطاعت اور سکت سے کیا مراد ہے؟ تو اس کا جواب بھی ہمیں رسول دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کی صورت میں مل جاتا ہے اور وہ یہ کہ منکوحہ خاتون کو دینے کے لئے حق المہر کی رقم ،اس کا نان ونفقہ اور اس کی سکونت کے لئے اس کے پاس وسائل مہیا ہوں۔
اولاد ہونے کی صورت میں اپنی معاشی اور مالی ذمہ داریاں نبھانے کا اہل ہو۔ بوقت نکاح سردست ابتدائی وسائل کا مالک ہوتو سمجھا جائے گا کہ وہ صاحب استطاعت ہے اور اْسے نکاح کر لینا چاہئے۔روزہ رکھنا ثانوی عمل ہے، جب مالی استطاعت سرے سے مفقود ہو جائے گی تو تب ہی اسے عمل میں لایا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی ضروری طور پر ذہن نشین رہنا چاہئے کہ مالی استطاعت کی تشریح میں بھاری بھر کم بینک بیلنس، فضول خرچی کی حدوں کو چھوجانے والا نان ونفقہ اور کئی کنالوں پر محیط بنگلہ کا مطالبہ قطعاً ناروا ہے۔
جس طرح جہیز کا مطالبہ اسلامی ہدایات کے خلاف ہے یہ بھی دینی احکام کے منافی ہے۔سورۃ الطلاق کی آیت نمبر 7میں ارشاد ربانی ہے کہ وسعت والا آدمی اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کے ہاں رزق کے وسائل کی تنگی ہے تو وہ اْسی سے خرچ کرے جو اللہ نے اْسے دے رکھا ہے۔ اللہ پاک کسی انسان کو اتنا ہی ذمہ دار ٹھہراتا ہے جتنا کہ اْس نے اْسے عطا فرما رکھا ہے۔
عنقریب اللہ تعالیٰ مشکل کے بعد آسانی پیدا کردے گا۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نکاح کو افضل ترین نکاح قرار دیا ہے جس کے اخراجات کم سے کم ہوں۔اخراجات کم ہوں گے تو نکاح آسان ہو گا۔ نکاح آسان ہوگا تو بے راہ روی بے اعتدالی اور بدکاری کا سدباب ہو گا۔ غیر معمولی اخراجات کی وجہ سے نکاح کرنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا۔
جب مشکل یا ناممکن ہو گا تو مشتعل جنسی جذبات غلط راہوں پر نکل جائیں گے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے لمبے چوڑے دلائل کی ضرورت نہیں۔ہم آئے دن یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں کسی کی عزت محفوظ نہیں جنسی درندے عزتوں کو پامال کرتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔بتاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کہ پاک صاف ہدایات پر مشتمل دین کو ماننے والے کہاں بھٹک گئے ہیں۔کم سن اور چھوٹے بچوں اور بچیوں کی سسکیاں اور آہیں اور ان کے والدین کی درد بھری فریادیں ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کا نوحہ پڑھ رہی ہیں۔ہم ہیں کہ کی عملی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں۔ ہندوثقافت کے چنگل سے اپنے آپ کو آزاد کریں۔اسلامی شاہراہ پر واپس آئیں۔قرآن وحدیث کو حرز جان بنائیں۔اپنی شناخت کے لئے شریعت اسلامیہ کا آئینہ دیکھیں اور رسول دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ابدی ہدایات کو سر آنکھوں پر رکھیں۔ اسی پر جئیں اور اسی پر مریں۔میرے اور آپ کے بدلنے ہی سے ماحول تبدیل ہو گا۔ کسی کو تو پہل کرنا ہوگی،کسی کو تو بارش کا پہلا قطرہ بننا ہی ہو گا۔
رسول رحمت نبی ختمی مرتبت سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آج کا ارشاد پاکیزہ معاشرت کے قیام میں بڑا سنگ میل ہے کہ نوجوانو! اگر استطاعت رکھتے ہوتو شادی ضرور کرلو۔تمہاری آنکھیں جھک جائیں گی اور تمہاری شرمگاہیں قلعہ بند ہو جائیں گی۔تو ہے کوئی جو کان دھرے اور عمل کے لئے تیار ہو۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ہمارے جوانوں ،بچوں، عورتوں اور مردوں کو پاکدامنی اور عفت کا سمبل بنا دے۔آمین۔



