
النقب میں فلسطینی بستی پر مسماری کی کارروائی، مسجد اور 60 مکانات نشانے پر، 80 خاندان بے گھر
متاثرہ خاندانوں کا آبائی زمین پر رہنے اور بستی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ
النقب:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقے النقب میں واقع بستی الضحیہ کے محلے ابو وادی میں فلسطینیوں کے مکانات اور مقامی مسجد کو مسمار کرنے کی کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کارروائی سے 80 سے زائد خاندانوں کے تقریباً 400 افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ آبادی میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، مسماری کی کارروائی اسرائیلی پولیس کی نگرانی اور سکیورٹی حصار میں انجام دی جا رہی ہے۔ اس دوران ابو وادی خاندان کے مکانات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کو اس کارروائی سے روکنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اطلاعات کے مطابق، بئر السبع کی ضلعی عدالت نے مسماری کے احکامات معطل کرنے سے متعلق متاثرہ خاندانوں کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد حکام کی جانب سے کارروائی شروع کی گئی۔
ابو وادی خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ ان کا اس علاقے سے تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے اور یہ زمین ان کے لیے محض رہائش کی جگہ نہیں بلکہ ان کی تاریخی شناخت اور خاندانی ورثے کا حصہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی آبائی زمین پر رہنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق، متاثرہ خاندان کے پاس اس علاقے میں تقریباً 630 ڈونم زمین ہے، جس میں سے لگ بھگ 550 ڈونم رقبہ ماضی میں زرعی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ تاہم، مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ پابندیوں، دباؤ اور نقل و حرکت میں رکاوٹوں کے باعث وقت کے ساتھ ان کی زرعی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حکام نے متاثرہ خاندانوں کو رہاط شہر کے دسویں محلے میں متبادل خیموں یا عارضی رہائش اختیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، مقامی باشندوں نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بستی کو باضابطہ تسلیم کیا جائے اور وہاں بنیادی شہری سہولیات فراہم کی جائیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے گھروں اور زمینوں سے منتقل کرنے کے بجائے ایسے انتظامات کیے جانے چاہئیں جن کے ذریعے وہ اپنی آبائی بستی میں باعزت زندگی گزار سکیں۔ ان کے مطابق، مستقل رہائش، بنیادی سہولیات اور قانونی شناخت کے بغیر متبادل ٹھکانوں کی پیشکش ان کے مسائل کا دیرپا حل نہیں ہے۔
النقب کے عرب فلسطینیوں کی اعلیٰ قیادت کی کمیٹی نے ستمبر میں بھی اس بستی کے مکینوں کی حمایت میں اپیل جاری کی تھی۔ کمیٹی نے خبردار کیا تھا کہ گھروں کی مسماری سے سیکڑوں افراد کی زندگی اور مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس نے حکام سے کارروائی روکنے اور بستی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
رہاط بلدیہ نے بھی اس معاملے پر اسرائیلی حکام کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بستی کو منظم کرنے اور شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے قابل عمل حل تلاش کرنے میں رکاوٹیں موجود ہیں۔ مقامی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ مسئلے کا حل مکینوں کو بے دخل کرنے کے بجائے منصوبہ بندی اور قانونی انتظامات کے ذریعے نکالا جائے۔
النقب میں فلسطینی بدوی آبادی کی متعدد بستیاں طویل عرصے سے قانونی شناخت، رہائش اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان علاقوں میں مکانات کی تعمیر کے اجازت ناموں اور سرکاری منصوبہ بندی سے متعلق تنازعات کے باعث مسماری کے احکامات اور بے دخلی کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
مقامی عرب فلسطینی آبادی کا کہنا ہے کہ بستیوں کو قانونی حیثیت نہ ملنے کے باعث مکانات، زراعت اور روزمرہ زندگی سے متعلق مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب، متاثرہ خاندانوں اور ان کے نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی زمینوں اور رہائشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ابو وادی میں مسجد اور مکانات کی مسماری کا معاملہ اسی وسیع تنازعے کی ایک اور مثال ہے۔ اگر کارروائی جاری رہتی ہے تو درجنوں خاندانوں کو اپنے گھروں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متاثرہ مکینوں کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ انہیں اپنی آبائی زمین پر رہنے دیا جائے اور بستی کو تسلیم کرتے ہوئے وہاں ضروری شہری سہولیات فراہم کی جائیں۔



