
نئی دہلی،06؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک کے کچھ گورنرز کو تبادلہ کرکے دوسری ریاستوں میں بھیج دیا گیا ہے ، جبکہ کچھ نئے گورنر مقرر کیے گئے ہیں۔ منگل کو راشٹرپتی بھون کے ذریعہ جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں یہ معلومات دی گئیں۔ مرکزی وزیر کی ذمہ داری ادا کررہے تھاورچند گہلوت کو #کرناٹک کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔
ریلیز کے مطابق #میزورم کے #گورنر پی ایس شری دھرن پلے کا تبادلہ کرکے گوا کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح #ہریانہ کے گورنر ستیہ دیو نارائن آریا کو تری پورہ کا گورنر ، جبکہ تریپورہ کے گورنر رمیش بیس کو ٹرانسفرکرکے #جھارکھنڈ کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔
بنڈارو دتاتریہ کو ہماچل پردیش سے ٹرانسفرکرکے ہریانہ کا گورنر بنا یا گیا جبکہ ڈاکٹر ہری بابو کمبھاپتی کو میزورم کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ منگو بھائی چھگن بھائی پٹیل مدھیہ پردیش کے گورنر اور راجندر وشووناتھ آرلیکر #ہماچل پردیش کے گورنر ہوں گے۔ صدر کے پریس سکریٹری اجے کمار کی ریلیزکے مطابق ان تقرریوں کو دفتر میں چارج سنبھالنے کی تاریخ سے موثر سمجھا جائے گا۔
واضح ہوکہ ان دنوں وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں توسیع کے چرچے زوروں پر ہیں۔ یہ چرچے ہیں کہ اس کابینہ میں توسیع میں ایک سے زائد وزارت کا کام سنبھالنے والے وزراء کے کام کا بوجھ کم کیا جائے گا۔ نئے چہروں کو کابینہ میں جگہ دی جائے گی ، جبکہ کچھ ایسے وزراء کو ہٹایا جاسکتا ہے جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔ مرکزی کابینہ میں 81 #ارکان ہوسکتے ہیں ، لیکن اس وقت کابینہ میں صرف 53 ارکان ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ 28 ارکان کو شامل کیا جاسکتا ہے۔اپنی دوسری میعاد میں وزیر اعظم نریندر مودی پہلی بار کابینہ میں توسیع کرنے جا رہے ہیں ، لہٰذا انہیں اگلے سال پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات اور لوک سبھا #انتخابات پر توجہ ہوگی۔



