ممبئی ، 9 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بی جے پی کی ترجمان نپور شرما پر معروف فلمی اداکار نصیرالدین شاہ نے کہا کہ حکومت نے جو کیا وہ بہت کم ہے اور جو کیا، بہت دیر سے کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ خاموش رہے۔ انہوں نے ان لوگوں کا خیال نہیں کیا جن کے جذبات کو ٹھیس لگی ہے۔نوپور نے کہا تھا کہ ہندو دیوتاؤں کے خلاف کیے گئے تبصروں کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوئی اور انہوں نے ایسی بات کہی۔
اس پر نصیر نے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا بیان/ریکارڈنگ دکھائیں جس میں مسلمانوں نے ہندو دیوی دیوتاؤں پر کچھ نازیبا تبصرہ کیا ہو۔ نصیرالدین شاہ نے کہا کہ میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ اگر سماج میں پھیلتی نفرت کو روکنا چاہتے ہیں ،تو پی ایم نریندر مودی کو آگے آنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ حالیہ دنوں میں مختلف معاملات پر دونوں طرف سے جارحانہ بیانات دینے میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی کتنی ذمہ داری ہے،اِس کے جواب میں نصیرالدین شاہ نے کہا کہ میں اس معاملے میں نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کی تمام تر ذمہ داری سمجھتا ہوں، یہ معاملہ کس نے پیدا کیا؟اس تنازعہ پر ہندو سماج سے مضبوط آواز اٹھانی چاہیے۔
نصیرالدین شاہ نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بتایا کہ اگر ایسا بیان کسی اسلامی ملک میں دیا جاتا تو بیان دینے والے کو سزائے موت دی جاتی۔ وہاں اسے توہین رسالتؐ سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن حکومت ہند اور بی جے پی کافی دیر تک خاموش رہی، اگر وہ اس بیان کے فوراً بعد نپور پر کارروائی کرتی تو یہ ہنگامہ کھڑا نہ ہوتا۔ حکومت کی خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔
نصیر نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان اپنے حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آخر ہم سب کو ہندوستانی کیوں نہیں دیکھتے؟انہوں نے کہا کہ نوپور شرما کوئی بیرونی عناصر نہیں تھیں بلکہ وہ پارٹی کی قومی ترجمان تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ پی ایم مودی ایسے نفرت کرنے والوں کو خاموش کرنے کا کام کریں گے۔انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ یہ صحیح وقت ہے جب سمجھدار ہندو مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت کے خلاف آواز اٹھائیں۔



