سیاسی و مذہبی مضامین

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضاء دیکھ-✍️محمد مصطفی علی سروری

✍️ محمد مصطفی علی سروری
 
اروند کے والد ایک کسان ہیں۔ لیکن اروند چاہتا تھا کہ وہ کھیتوں میں کام کرنے کے بجائے پڑھ لکھ کر اپنے والدین کی مدد کرے۔ اروند نے باضابطہ طور پر پوسٹ گریجویشن ایم اے اکنامکس میں داخلہ لے لیا۔ ترنویلی، تاملناڈو میں کے رہنے والے اروند کو دن میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیتوں کے کام میں بھی اپنے والدین کا ہاتھ بٹانا پڑتا تھا۔
اروند اصل میں پڑھ لکھ کر کسی دن یونیورسٹی کا پروفیسر بننا چاہتا تھا۔ لیکن گھر کے حالات ایسے بن گئے۔ اس کے لیے نوکری کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ 23 سال کی عمر میں اروند نے پولیس میں بطور کانسٹبل نوکری حاصل کرلی۔ یہ سال 2011ء کی بات ہے۔
پولیس میں نوکری مل جانے کے بعد بھی اروند نے خواب دیکھنا نہیں چھوڑا کسان کے بیٹے کا خواب تھا۔ وہ ایک دن پروفیسر بنے جب اس کو معلوم ہوا کہ پروفیسر بننے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرے۔ اروند اپنی کانسٹبل کی نوکری نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ کیونکہ اس آمدنی سے اس کے گھر والوں کی مدد ہو رہی تھی۔ 
اروند نے جب معلوم کیا تو اس کو پتہ چلا کہ وہ نوکری کے ساتھ ساتھ بھی پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کرسکتا ہے اور اس طرح کی پی ایچ ڈی کی تعلیم کو پارٹ ٹائم پی ایچ ڈی کہتے ہیں۔ تو اروند نے تاملناڈو کی ایم ایس یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی کا انٹرنس پاس کرلیا۔
جب اروند نے پولیس کے محکمے کو درخواست دی کہ وہ اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم میں پی ایچ ڈی کی تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتا ہے تو پولیس ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ اہلکاروں نے اس کو فوری طور پر اجازت بھی دے دی۔
یوں اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی 6؍ فروری 2022ء کی رپورٹ کے مطابق اروند نے پارٹ ٹائم میں پی ایچ ڈی کی تعلیم بھی شروع کردی۔ 
قارئین کرام اروند کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ اروند کے اصل خواب کی تکمیل بھی ہوتی ہے۔ جب پولیس کانسٹبل کی 11 سال کی سرویس کے بعد اس نے ناگرکویل تاملناڈو کے ایس ٹی ہندو کالج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ملازمت حاصل کرلی۔ (بحوالہ اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس ۔ 6؍ فروری 2022ء کی رپورٹ)
قارئین کرام ذرا اندازہ لگایئے ایک کسان کا لڑکا۔ پولیس میں ملازمت اختیار کرتا ہے اور پھر دو ایک نہیں پورے 11 برسوں تک بطور کانسٹبل نوکری کرتا ہے۔
اس سارے عرصے کے دوران اس کی زندگی کا مقصد بالکل بھی اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا اور پھر بالآخر وہ 11 برس کے بعد محکمہ پولیس کی نوکری چھوڑ کر باضابطہ طور پر ایک کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر نوکری حاصل کر کے پولیس کے محکمہ کو خیرباد کہہ دیتا ہے اور یہ کوئی ایسی اکلوتی مثال نہیں کہ کوئی یہ کہے کہ یہاں وہاں سے کسی کی بھی کہانی لاکر سنادی اور ترغیب دینے لگے۔
مسلم نوجوانوں کو بھی اپنی زندگی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ قارئین تعلیم کا حصول ہر ایک کی ضرورت ہے۔ 
منجولا کا تعلق شمالی کرناٹک کے ضلع باگلکوٹ سے ہے۔ اس خاتون کی عمر (35) برس ہے۔ یہ خاتون بھی Social Inclusion of Devdasi کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ریسرچ کر رہی ہے۔
منجولا نے اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کے نمائندے کو بتلایا کہ اس کا تعلق ایک دیوداسی کے گھرانے سے ہے۔ یعنی وہ گھر جہاں لڑکیوں کو جب دیو داسی بنادیا جاتا ہے تو اعلیٰ ذات کے ہندو ان لڑکیوں کا استحصال کرتے ہیں۔ 
منجولا کی ماں اور خالہ بھی دیوداسی ہیں جن کے لیے مرد حضرات ان کے گھر پر آتے تھے۔ جب خود منجولا دسویں کلاس میں تھی تو اس کو دیو داسی بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔ اور اعلیٰ ذات کے ہندو لڑکے اس کے گھر کے اطراف پھرنے لگے تھے۔ لیکن منجولا کو یہ سب بالکل بھی پسند نہیں تھا۔
اس لیے اس نے بغاوت کردی اور اعلان کردیا کہ اگر اس کو دیوداسی بننے پر مجبور کردیا گیا تو وہ اپنی زندگی ختم کردے گی۔ اس دھمکی نے اثر دکھایا اور اس کے گھر کے بڑوں نے بھی اس پر شرط لگائی ۔اس کی نانی نے کہا کہ ٹھیک ہے تو اپنی پڑھائی کر مگر تجھے اپنی ماں کا بھی دھیان رکھنا ہوگا۔
اب منجولا اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم میں جاب کرنے اور ساتھ اپنی ماں کا بھی خیال رکھنے لگی تھی۔ 
منجولا کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ منجولا ایک جگہ Receptionist کے طور پر کام کر کے 500 روپئے کمانے لگی تھی اور اس آمدنی سے اپنی پڑھائی اور اپنی ماں کی مدد کرنے لگی۔ اپنی BA کی تعلیم پوری کرنے کے بعد اس نے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا۔
کرناٹک کے ضلع اڈپی کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے منجولا کو اسکالر شپ دی جس کی بدولت وہ اپنا پوسٹ گریجویشن مکمل کرسکی اور اب پی ایچ ڈی کی ریسرچ کر رہی ہے۔
منجولا نے اپنی زندگی میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کیا ا س کاندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ ایک اسپورٹس کے مقابلہ میں حصہ لینے اپنا نام لکھانے گئی تو وہاں پر اس کو فارم بھرنے دیا گیا جس میں اس کو باپ کا نام بھی لکھنا تھا۔
چونکہ منجولا ایک دیوداسی کی بیٹی تھی تو اس کو اپنے باپ کے بارے میں کوئی پتہ نہیں تھا۔ اس طرح سے فارم میں باپ کا نام نہیں بھرنے کی وجہ سے وہ کھیل کود کے مقابلے میں بھی حصہ نہیں لے سکتی تھی۔ اتنا ہی نہیں ایک مرتبہ وہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جرمنی کا ویزہ حاصل کرنے بھی گئی تھی لیکن ویزہ کی درخواست میں اپنے والد کا نام نہیں لکھنے کی وجہ سے اس کی درخواست مسترد ہوگئی اور کوئی یہ سننے تیار نہیں تھا بلکہ اس کا مذاق بنایا جاتا کہ دیوداسی کا ایک باپ نہیں ہوتا ہے۔
ان سارے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے منجولا تعلیم کے سہارے آگے بڑھ رہی ہے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔ ایک دیوداسی نے تعلیم حاصل کرتے ہوئے سماج میں اپنا مقام خود حاصل کیا۔ آج وہ شادی شدہ خاتون کے طور پر اپنے شوہر کے ہمراہ زندگی گزار رہی ہے۔ 
تعلیم کا حصول کس طریقے سے قوموں کی تقدیر او رحالات بدلنے کا سبب بنتا ہے اس کی ایک مثال بین الاقوامی سطح پر امریکہ سے بھی لی جاسکتی ہے۔ جی ہاں امریکہ جہاں پر دنیا بھر کی ترقی کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ سیاہ فام افراد جرائم کے حوالے سے مشہور ہیں۔
ہر خراب کام اور ہر طرح کی برائی سیاہ فام لوگوں کے ساتھ جوڑی جاتی ہے۔ لیکن جب تعلیم کے حوالے سے سیاہ فام افراد میں بھی شعوربیداری کی جاتی ہے تو انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
امریکہ کی ریاست مسی سپی کے شہر Memphis سے ایک خبر 2؍ فروری 2022ء کو آئی ہے۔ اس رپورٹ کا ٹائٹل Black girls are graduating at a higher rate than any other demographic ….. ہے۔ اس عنوان کے تحت رپورٹ میں بتلایا گیا ہے کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران ہائی اسکول سے فارغ ہونے والی سیاہ فام لڑکیوں کا تناسب دیگر سبھی گروپوں سے زیادہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ حالانکہ سابق میں سفید فام طالبات سب سے نمایاں تعلیمی مظاہرہ کیا کرتی تھیں۔
ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کے حوالے سے رپورٹ میں بتلایا گیا کہ سیاہ فام لڑکیوں کی غیر معمولی تعلیمی کامیابیوں کے لیے سب سے بڑا محرک ان کے والدین کی جانب سے حصول تعلیم کے ذریعہ اپنے آپ کو خود مختار بنانے کی ترغیب کا دیا جاتا ہے۔ (بحوالہ tn-chalkbeat org) 
قارئین کرام پڑھ کر کیا کریں گے۔ ہمیں کون نوکری دینے والا ہے۔ پڑھائی اور تعلیم کچھ کام آنے والی نہیں۔ اس طرح کی سونچ اور نقطۂ نظر مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ 
خاص کر مسلم نوجوانوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم نوجوانوں کی تعلیم سے بے رغبتی کا سب سے بڑا دبائو مسلم لڑکیوں پر پڑ رہا ہے۔ جنہیں والدین اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلواکر مستقبل کے چیالنجس کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
بالالفاظ دیگر بچوں کی تعلیم سے دوری ان کو غیر ذمہ دار شوہر بھی ثابت کر رہی ہے۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے بعد ان کے مناسب جوڑے کی عدم دستیابی، بے جوڑ شادیوں کا بھی سبب بن کر طلاق کی شرح کو بڑھانے اور خاندانی جھگڑوں کا سبب بن رہی ہے۔
جو طبقہ تین طلاق پر قانون سازی کر کے مسلم خواتین کا اپنے آپ کو ہمدرد ثابت کرنے پر تلا تھا اب اپنی اصلیت پر آچکا ہے۔ لڑکیوں کے حجاب کی مخالفت دراصل مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے میدان میں آگے کے سفر کو روکنے کی بھی سازش نظر آرہی ہے۔ 
آیئے آغاز کریں اللہ اکبرکے نعرے کے ساتھ اپنے گھر، اپنے اطراف و اکناف کے ہر بچے کا تعلیم کے ساتھ رشتہ استوار کریں۔ مسلمانوں کے لیے اگر دستور کے دائرے میں جدو جہد کرنا ہی واحد راستہ باقی بچا ہے تو اس راستے پر سفرتعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے وہ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے اور نیکی کے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی ہمت و حوصلے عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button