محمد مصطفی علی سروری
رات کے بارہ بج رہے تھے۔ دہلی کے مضافاتی علاقے نوئیڈا کی ایک سڑک کا منظر ہے۔ ایک نوجوان اپنی پیٹھ پر ایک چھوٹا سا بیاگ لگائے تیزی سے دوڑ رہا تھا۔ آدھی رات کہہ لیجئے یا اگلی صبح سے پہلے کا منظر سڑکوں پر اکا دکا گاڑیاں چل رہی تھی ایسی ہی ایک گاڑی میں مشہور فلم ساز اور مصنف ونود کاپری سوار تھے۔
انہوں نے جب دیکھا کہ آدھی رات کے بعد ایک نوجوان سڑک پر دوڑے جارہا ہے تو انہوں نے فوری طور پر سونچ لیا کہ ضرور یہ کوئی پریشانی میں مبتلا ہے ۔ اس کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے اپنی کار کو اس نوجوان کے قریب کرلیا اور پھر اس نوجوان کے ساتھ بات چیت شروع کی اور ساتھ ہی ونود کاپری نے اپنی بات چیت فون پر ریکارڈ کرنا شروع کیا۔
ونود کاپری جب نوجوان کودعوت دی کہ وہ آئے اور ان کی گاڑی میں بیٹھ جائے۔ وہ لفٹ دے دیں گے لیکن ونود کاپری کی بار بار کہنے پر بھی وہ نوجوان کار میں بیٹھ کر لفٹ لینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ آدھی رات کو نوئیڈا کی سڑکوں پر دوڑنے والا یہ نوجوان کون تھا؟ آخر وہ پریشان نہیں تھا تو پھر دوڑ کیوں رہا ہے۔
یہ اور ایسے ہی بہت سارے سوالات کے جوابات ہمیں 20؍ مارچ کی شام تقریباً 7بجے پوسٹ کیے جانے والے ونود کاپری کے ایک ٹویٹ میں مل جاتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آدھی رات کو نوئیڈا کی سڑکوں پر دوڑنے والا نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ اتراکھنڈ کا رہنے والا ہے۔ اور فی الحال دہلی کے علاقے برولا کے ایک روم میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رہتا ہے۔ 19برس کے اس نوجوان کا نام پردیپ مہرا ہے۔
ونود کاپری کے مطابق پردیپ مہرا کسی ایمرجنسی کی وجہ سے نہیں یا کسی اور پریشانی کی وجہ سے نہیں دوڑ رہا تھا بلکہ اس کی دوڑ اصل میں اس کی پریکٹس تھی۔ قارئین کرام پردیپ اصل میں انڈین آرمی جوائن کرنا چاہتا تھا۔ اسی مقصد کے لیے وہ دوڑنے کی پریکٹس کر رہا تھا۔ ونود کاپری نے جب پردیپ مہرا کو کار میں بیٹھنے کو کہا تو اس نے صاف منع کردیا کہ اس کی پریکٹس کے لیے وہ بھاگ رہا ہے۔ وہ اپنی پریکٹس کو چھوڑ نہیں سکتا ہے۔
پردیپ کا تعلق اتراکھنڈ سے ہے۔ گھر میں اس کی ماں، بیمار ہے اور دواخانے میں شریک ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ برولا کے علاقے میں رہتا ہے اور دن میں نوئیڈا کے سیکٹر 16 میں میکڈونالڈ کی دوکان پر کام کرتا ہے اور رات 12 بجے دوکان کے کام سے فارغ ہوکر پردیپ دوڑنا شروع کرتا ہے۔
اس کی یہ دوڑ تقریباً 10 کیلومیٹر طویل ہے۔ رات گھر پہنچنے کے بعد وہ اپنے اور اپنے بھائی کے لیے کھانا تیار کرتا ہے اور پھر آرام کرتا ہے۔ اگلے دن صبح 8 بجے اس کی مصروفیات شروع ہوجاتی ہیں۔ کھانا پکانے کے بعد وہ دوبارہ کام پر چلا جاتا ہے۔
پردیپ مہرا اپنے گھر سے دور رہ کر نہ صرف کمارہا ہے بلکہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کمائی کے ساتھ ساتھ دوڑنے کی پریکٹس بھی کر رہا ہے تاکہ انڈین آرمی میں نوکری حاصل کرسکے۔ اس کی نوکری رات 12 بجے ختم ہو رہی ہے تو وہ رات 12 بجے ہی دوڑنے کی مشق کر رہا ہے۔
ویڈیو بنانے کے دوران فلم ساز ونود کاپری کہتے ہیں کہ پردیپ تم جو اس طرح رات میں سخت محنت کر رہے ہو اور میں تمہاری ویڈیو بنارہا ہوں تو مجھے امید ہے کہ تمہاری ویڈیو خواب وائرل ہوجائے گی تو پردیپ مہرا کا جواب بڑا دلچسپ تھا کہ میں کوئی غلط کام تھوڑی کر رہا ہوں میری ویڈیو وائرل ہوتی ہے تو ہونے دو۔
پردیپ مہرا کی اس جدو جہد بھری زندگی کی ویڈیو جب خوب وائرل ہوگئی تو کسی نے اس سے پوچھا کہ تم نوجوانوں کو کیا کہنا چاہتے ہو تو پردیپ نے کہا کہ کامیابی تو محنت کرنے والوں کو ہی ملتی ہے۔ قارئین کرام پردیپ مہرا کا خاندانی پس منظر اور دہلی میں اس کا میکڈونالڈ کی دوکان پر کام کرنا اس کے معاشی حالات کو بیان کرتا ہے۔
گھر میں ماں بھی بیمار ہے۔ لیکن عزم و حوصلہ کا پکا یہ نوجوان دن میں دوکان پر کام کرتا ہے اور رات کے اوقات میں آرمی جوائن کرنے پریکٹس کے لیے دوڑ بھی لگا رہا ہے۔قارئین سخت محنت ہمیشہ نتائج مثبت دلاتی ہے۔ مثال کے طور پر رانچی، جھارکھنڈ کی رہنے والی سواتی سنگھ عرف کی کی سنگھ کی زندگی ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ سواتی سنگھ پیدائشی طور پر معذور ہیں۔
وہ Cerebral Plasy نامی بیماری کا شکار ہیں اور گذشتہ 25 برسوں سے وھیل چیئر کی محتاج ہیں۔ اس کے باوجود سواتی نے گریجویشن کی تکمیل کی۔ اس کے بعد سال 2020 میں اس نے ایم اے پولیٹیکل سائنس کا کورس مکمل کیا۔ اپنی گریجویشن کی تعلیم کے دوران ہی سواتی سنگھ نے اپنا پہلا ناول لکھا۔
ڈائمنڈ بکس نے ’’شادی کا سپنا‘‘ نام کی اس کتاب کو شائع کیا اور بہت جلد یہ ناول امیزون پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناولوں میں شمار ہونے لگا۔ سواتی سنگھ کے والد انڈین ایئرفورس میں ملازم تھے۔ انہوں نے اپنی لڑکی کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی۔
اس طرح آج سواتی سنگھ کی تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ اور وہ وہیل چیئر کی محتاج ہونے کے باوجود مسلسل پڑھائی اور لکھائی میں مصروف ہیں۔ سواتی سنگھ پہلے تو خود تعلیم حاصل کی اور پھر لکھنے کا سفر بھی شروع کیا (بحوالہ اخبار ٹریبون انڈیا۔ 20؍ مارچ 2022ء کی رپورٹ)
قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ گھر والوں کی تربیت اور ہمت افزائی اگر بچوں کے ساتھ ہو تو بچے اپنے اپنے میدانوں میں کارہائے نماں انجام دے سکتے ہیں۔ مسائل مالی، معاشی یہاں تک کہ جسمانی معذوری کے بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن کامیابی ہر ایک حاصل کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ محنت کے لیے تیار ہو۔
16؍ مارچ 2022 کو بہار بورڈ نے انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا اعلان کردیا۔ بہار بورڈ کے بارہویں کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے وزیر تعلیم جئے چودھری نے کہا کہ گوپال گنج کے سنگم راج نے پوری ریاست میں سب سے زیادہ مارکس حاصل کرتے ہوئے ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔
رنگوں کے تہوار ہولی سے ایک دن پہلے 12 یں کے نتائج میں نمایاں کامیابی سنگم راج کے لیے بہت بڑی خوشی کا موقع ہے۔ یوں تو ہر سال سینکڑوں طلبہ ریاستی بورڈ کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں لیکن سنگم راج کی کامیابی کئی لحاظ سے غیر معمولی تھی۔
ہندی کے اخبار جاگرن کی ایک رپورٹ کے مطابق سنگم راج کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو بہت پسماندہ ہے۔ سنگم کے والد آٹو چلاکر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ اس لیے سنگم کے پاس پڑھائی کرنے کے لیے سارے ذرائع روایاتی نوعیت کے تھے۔ ان سب کے باوجود سنگم نے پوری ریاست بہار میں اول پوزیشن حاصل کی۔
اتنا ہی نہیں بارہویں جماعت کے امتحان میں کامیابی کے بعد سنگم نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ آگے پڑھ کر IAS آفیسر بننا چاہتا ہے۔ (بحوالہ جاگرن۔ 17؍ مارچ 2022)
قارئین رکاوٹوں کے متعلق بھی یہ سچ ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کے سفر میں رکاوٹیں آتی ہیں جو لوگ کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ ہمت ہار کر رک جاتے ہیں او رجو حالات کو اور رکاوٹوں کو سمجھتے ہیں وہ آگے بڑھنے کے راستے بھی تلاش کرلیتے ہیں۔
DNAindia.com نے 4 ؍ مارچ 2022ء کو ایک ایسے آئی اے ایس آفیسر کے متعلق رپورٹ شائع کی جو کہ اپنے گریجویشن کے امتحان میں ہی فیل ہوگیا تھا۔
انوراگ کمار کا تعلق بہار کے ضلع کٹیہار سے ہے۔ انوراگ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا۔ جنہوں نے اس کو ہندی میڈیم سے آٹھویں تک تعلیم دلوائی اور پھر اس کے بعد انگلش میڈیم میں ادخل کروایا۔ انوراگ کے لیے میڈیم تبدیل کرنا ایک بڑا چیالنج تھا۔ اس نے اس چیالنج کو قبول کیا اور 10ویں کے امتحان میں 90 فیصد مارکس حاصل کیے۔
لیکن بارہویں کے پری فائنل امتحان میں ناکامی سے اس نوجوان نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے پڑھنے کے طریقے کو بدل کر بورڈ کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔بارہویں کی تعلیم بہار سے مکمل کرنے کے بعد انوراگ نے گریجویشن کرنے کے لیے دہلی کے شری رام کالج آف کامرس کا رخ کیا لیکن گریجویشن ، دہلی سے کرنا بہت تکلیف دہ رہا اور انوراگ اپنے گریجویشن کے ایک سے زائد پرچوں میں فیل ہوگیا۔
جب گریجویشن ہی نہیں ہوا تو IAS بننے کا خواب تو یکھا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ انوراگ اپنے ارادہ کا پکا تھا۔ ہمت ہار کر گائوں واپس جانے کے بجائے اس نے اپنے بیاک لاگ پرچوں پر توجہ دی اور پھر گریجویشن میں کامیابی حاصل کر کے آگے پی جی میں داخلہ لے لیا ۔
سال 2017ء میں UPPSC کے امتحان میں پہلی مرتبہ شرکت کی اور 677 رینک حاصل کیا۔ گریجویشن میں فیل ہوجانے والے اس طالب علم کی خود اعتمادی کا یہ عالم تھا اس نے اگلے برس UPPSC کے امتحان میں دوبارہ شرکت کی اور اس بار 48 واں رینک حاصل کر کے آئی اے ایس کیڈر میں شمولیت اختیار کی اور فی الحال اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ آفیسر کے طور پر برسرکار ہے۔
قارئین کرام مسائل، رکاوٹیں ، پریشانیاں ہر انسان کے ساتھ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی صحیح رہبری اور رہنمائی کی جائے۔ والدین اور سرپرست اپنے بچوں کو حصول تعلیم کے حوالے سے واضح اہداف کی نشاندہی کریں۔ پھر دیکھیں یہ بچے کیسے کامیابی کے پرچم بلند کرتے ہیں۔
13 سالہ جیا رائے ایک تیراک ہے۔ حالانکہ جیا ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس سے متاثر فرد عام آدمی کی طرح نہیں گذار سکتا۔ Autism نامی بیماری ایسی پیچیدہ ہے کہ اس سے متاثرہ فرد بات چیت سے لے کر برتائو بھی عام صحت مند افراد کی طرح نہیں کرپاتا ہے۔ کیونکہ بیمار کا اصل اعصابی نظام خراب ہوجاتا ہے۔
اس بیمار لڑکی نے 20؍ مارچ 2022ء کو تیراکی کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس لڑکی نے سری لنکا کے جزیرہ Talaimannar سے ہندوستان کے دھنش کوڈی کا تک 28.5 کیلو میٹر کا سمندری راستہ مسلسل 13 گھنٹوں میں تیر کر پار کیا۔
قارئین والدین کی ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی سے جسمانی معذور اور تو اور بیمار بچے بھی کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ محنت کرنے والوں کی ہمت افزائی کی جائے۔ ان پر ترس نہیں کھایا جائے بلکہ ان سے سبق سیکھا جائے۔
ہمارے سماج کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہم محنت کرنے والے پر ایسا ترس کھاتے ہیں کہ اس کو اپنے محنت کے راستے سے ہٹاکر چھوڑ دیتے ہیں۔ ضرورت محنت کرنے والوں پر ترس کھانے کی نہیں بلکہ ان سے ترغیب لینے کی ہے۔ کاش کے کوئی سمجھائے۔
لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
مرد وہ ہیں جو زمانہ کو بدل دیتے ہیں
ہار ہوجاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے
جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ ہم سب کو حالات کا رونا رونے کے بجائے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے والا بنادے۔ (آمین۔ یارب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



