سیاسی و مذہبی مضامین

لوگوں….حساب کا وقت قریب ہے

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں، سورت انبیا آیت نمبر ١ جس کا مفہوم ہے لوگوں حساب کا وقت قریب ہے مگر یہ غفلت میں مبتلا اپنا منہ پھیرے ہوئے ہیں، دل دہلا دینے والی یہ آیت کریمہ لوگوں سے مخاطب ہو کر کہ رہی ہے منہ نہ موڑوں غفلت میں نہ رہو تمہارے حساب کا وقت قریب ہے، یہ کس طرح کا حساب اللہ اور بندے کے مابین ہونے والا ہے، مزکورہ آیت تو تمام بنی نوع انسان سے مخاطب ہے، خواہ وہ ہندو ہو خواہ عیسائی، خواہ مسلم ہو یا سکھ ہو کسی بھی انسان کے دینی عقیدہ سے مبرا یہ منفرد آیت یاد دہانی کرتی نظر آرہی ہے۔

جس میں ایمان والے مومن و مومنات، مسلم و مسلمات، مشرک، کافر، اہل کتاب غرض ہر مزہب و دین کے پیروکار سے خطاب کیا گیا ہے، بہر کیف کیا لین دین کا معاملہ ہے کس شے کا حساب دینا ہے اس اولاد آدم کو اللہ کے حضور ؟ اللہ نے انسانوں پر بے شمار فضل ، عنایت، نیز احسانات و مہربانیوں سے نوازا ہے، انسان کو ہر شے اللہ کی طرف سے عطاء کردہ ہے، اللہ فرماتے ہیں سورہ تین آیت نمبر ٤ جس کا مفہوم ہے اللہ نے انسان کی تخلیق احسن تقویم پر کی مزید اسے اس قابل بنایا کہ اچھے برے، صحیح، غلط میں تمیز کر سکے،

نیز فرمایا سورہ الدھر آیت نمبر ٣ جس کا مفہوم ہے پھر انسان کو راستہ بتایا تو وہ شکر گزار بنے یا نا شکر گزار، اتنا کرم اتنا مہرباں، اتنی رحمت سب اللہ کی عطا کردہ ہے ، ضرورت زندگی کے تمام اسباب ہوا، پانی، غذا، مکان، سواریاں ایک طویل فہرست ہے کیا کیا بیاں کریں مہیا کیا، جب اتنی بے شمار عنایت دی گئی ہے پھر حساب تو لازماً لیا جائے گا، کرہ ارض پر موجود تمام انسانوں سے بے شک حساب ضرور لیا جائے گا۔

پوچھا جائے گا ان بے شمار فضل کا عطاء کردہ نعمتوں کا انساں کے لئے جواب دینا محال ہوجاے گا، کثیر تعداد میں انسانوں کا جم غفیر اللہ کا منکر بنا بیٹھا ہے، تاہم اللہ فرماتے ہیں ہم نے اسے ہدایت و عقل بھی عطاء کردی، اتنا کچھ عطا ہونے کے باوجود انسان گمراہ ہوگیا، نفسانی خواہشات کا شیدائی بن بیٹھا نیز اللہ کے مخالفت میں کھڑا ہو کر اللہ کی وحدانیت کا منکر بن‌ گیا۔

اللہ کے ذریعے دیا گیا نظام مصطفیٰ ﷺ کو بالائے طاق رکھ کر ایک نیا نظام اللہ کے مدمقابل لے آیا، اس نئے نظام جس کا بانی دجال ہے اس وقت دنیا کو پوری طرح سے اپنے گرفت میں لے لیا ہے، جن انسانوں نے کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا وہ ایک اللہ کی وحدانیت کو ماننے والوں کے دشمن بن گئے، ایسے لوگوں پر قران آخرت میں حجت بن جائے گا، ان لوگوں کے خلاف قرآن خود گواہی دے گا انہیں جہنم واصل کرے گا، مزید اللہ کے شکر گزار بندوں کے حق میں بھی یہی قرآن گواہی دے گا انہیں بہشت میں لے جاۓگا۔

ایسے لوگ جو ہدایت آنے کے بعد گمراہ ہو گئے ان کے لئے اللہ کہتے ہیں، سورہ مریم آیت نمبر ٨٣ آیت کا مفہوم ہے ہم نے شیطان کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے وہ ان کو اکساتا ہے حق کی مخالفت پر، کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں میں سے اکثریت شیطان کی ذد میں ہے شیطان انہیں حق کی مخالفت پر اکساتا ہے، اسلام کے پیروکاروں کے دشمن ہر ملک ہر ضلع ہر شہر اور قصبے و گاؤں میں ہے۔

بہر کیف جتنے انسان اللہ کو مان کر اسلام قبول کرکے مسلمان ہیں، یہ مسلمان مخالفیں کے مقابل میں حد درجہ کمزور بن چکے ہیں، کلمہ پڑھ کر مسلمان بن‌جانا نہایت آسان ہے، تاہم تصدیق بل قلب انتہائی دشوار گزار ہے، قران کس طرح کا مسلمان چاہتا ہے سورہ الانعام آیت نمبر ١٦٢ ترجمہ” آپ کہ دے بلاشبہ میری نماز میری عبادات، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے، جو سارے جہانوں کا رب ہے” جو مسلمان اس آیت کے لفظ بہ لفظ زندگی میں کارفرما رہا، جس نے رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا آپ کے فرمان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں زندگی گذار دیا وہ انسان حساب میں کامیاب رہا۔

ہر وہ انسان جس کا ہر قدم ہر سانس ہر کام صرف اللہ کے لئے رہا ہوگا کامیابی ایسے انسانوں کی قدم بوسی کرتی ہوگی ان کے درجات کو بلند کرتی ہوگی جنت کی بشارت ایسے ہی انسانوں کو دی جاۓ گی، رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ نے کفر و شرک کو اللہ کی دعوت دی، آپ ﷺ کی مخالفت میں کفار و مشرکین حد درجہ بڑھ گئے، رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ ظلم کے مقابلے میں  محض ٣١٣ کا لشکر ساتھ لے کر میدانِ جنگ کا رخ کر گئے، اسے ہی کہتے ہیں میرا جینا میرا مرنا خالصتاً اللہ کے لئے، یہ کیفیت آج مسلمانوں کی موقوف ہو چکی۔

اللہ کسے دوست رکھتا ہے خود اللہ فرماتے ہیں سورہ الصف آیت نمبر ٤ ترجمہ” بے شک اللہ دوست ہے ان‌ لوگوں کا جو اس کی راہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں، گویا کہ وہ ایک شیشہ پیلائ ہوئی دیوار ہے ” ہر شے کو نہایت خوبصورت اور واضح طور پر اللہ نے بیان کر دیا ہے، کیا وجہ ہے مسلمان پسپاں ہوتا چلا گیا مزید رسوائی اس کا تعاقب کرتی ہے، نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کے بتائے اصول، راستے جو صراط مستقیم ہے کہی وہ چھوٹتا نظر آ رہا ہے۔

تفرقہ نے اتحادی نظام کو درہم برہم کر دیا، رمضان میں روزوں کی دھوم خوب نظر آتی ہے زکوٰۃ فطرہ ادا ہو رہا ہے، یہ تمام ارکان بتدریج ادا ہو رہے کیا سبب ناکامی و رسوائی ہمارے حصے آ رہی ہے، یہ تمام ارکان ہمیں کیوں بذدل بنا رہے ہیں وجہ تمام ارکان اپنی نفس و ذات کے لئے نہ کہ اللہ کے لئے زندگی سے محبت نے مسلمانوں کو اللہ کی ہدایت سے دور کر دیا اللہ کا فرمان یہی ہے مسلمان کا ہر کام صرف اللہ کے لئے خامی مسلمانوں میں رہ گئی۔

اللہ کی بے شمار نعمتوں کو بڑی خوبصورتی سے اپنا حق سمجھ کر استعمال کرتے جارہے یہ کرہ ارض کے لوگ یہ بھول گئے کہ حساب کا وقت قریب ہے، ان نعمتوں کو اللہ سے نصب کرنے کی بجائے یہ گمان ہمیں لے ڈوبا کہ یہ ہماری اپنی کاوشوں ہے جس کے بدولت ہمیں یہ آرایش میسر ہوئی لہٰذا حساب میں کامیابی کیسے میسر ہوگی جب ہم نے درس و نصاب نفس کی خواہشات کا پڑھا ، یہی وجہ ہے مسلمان ہر ممالک میں پسپا ہو رہا ہے۔ بہر کیف اس غفلت کے خول سے نکل کر نظام محمد مصطفیٰ ﷺ کی جانب بڑھیں تاکہ حساب میں آسانی ہو۔
وماعالینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button