
بہارمیں سیاسی بحران پیدا: وزیر اعلیٰ نتیش کمار مستعفی، نئی حکومت کی تشکیل تک رہیں گے وزیر اعلیٰ
پٹنہ،9اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) گزشتہ کئی دنوں سے جاری سیاسی ہلچل کے بعد بالآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کو ریاستی گورنر نے منظور کرلیا ہے جبکہ نئی حکومت سازی تک نتیش کمار قائم مقام وزیر اعلی رہیں گے۔نتیش کمار نے منگل کی شام چار بجے گورنر فاگو چوہان کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ نتیش نے فوری طور پر نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر دیا۔ انہوں نے 160 ایم ایل اے کی حمایت کا خط گورنر کو پیش کیا۔راج بھون میں ہی نتیش نے بی جے پی سے اتحاد توڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ایم ایل اے اور ایم پی نے این ڈی اے سے اتحاد توڑنے کے لئے ایک آواز میں بات کی ہے۔
اس کے بعد نتیش سیدھے رابڑی دیوی کے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے تیجسوی یادو سے ملاقات کی۔بہار بی جے پی کے ساتھ جے ڈی یو کے جاری تصادم کے درمیان وزیر اعلی نتیش کمار نے آج (9 اگست) اپنی پارٹی کے ایم ایل اے اور ایم پی کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس سے پہلے جے ڈی یو کے سابق صدر آر سی پی سنگھ کے استعفیٰ کے بعد این ڈی اے کے لیے جے ڈی یو کا لہجہ بدلتا ہوا دیکھا گیا تھا۔ جے ڈی یو لیڈران مسلسل بی جے پی اور این ڈی اے اتحاد کو لے کر بیان بازی کر رہے تھے۔ جس کے بعد نتیش کمار نے اپنے لیڈروں (ایم ایل اے اور ایم پیز) کی میٹنگ کی، جس کے بعد انہوں نے گورنر سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔
سی ایم نتیش کمار کی جانب سے گورنر سے وقت مانگے جانے کے بعد بی جے پی کی جانب سے ردعمل آیا تھا کہ ہمارے وزرا استعفیٰ نہیں دیں گے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو پہلے اس پر پہل کرنی چاہیے۔ اسی دوران آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کی رہائش گاہ پر آر جے ڈی ایم ایل اے کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں۔کانگریس ایم ایل اے شکیل احمد نے تو نئے وزیر اعلی کے نام کا دعویٰ بھی کر دیا ہے۔بتایا کہ نتیش کمار ہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔مرکزی وزیر اور آر ایل جے پی صدر پشوپتی پارس این ڈی اے میں برقرار رہیں گے۔
مرکزی وزیر پشوپتی پارس نے کہا کہ پہلے بھی آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے درمیان ایک تجربہ کیا گیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر تک ساتھ نہیں چل سکے۔ ایک بار پھر اس طرح کا اتحاد آنا ہے، یہ بہار کی ترقی کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہماری پارٹی این ڈی اے کا حصہ بنے گی۔آج صبح جے ڈی (یو) اور اپوزیشن آر جے ڈی نے پٹنہ میں اپنے ایم ایل اے کی الگ الگ میٹنگ کی۔ دریں اثنا، ہندی میں ایک ٹویٹ میں جے ڈی (یو) کے پارلیمانی بورڈ کے صدر اوپیندر کشواہا نے نتیش کمار کو نئی شکل میں نئے اتحاد کی قیادت کے لیے مبارکباد دی۔تاہم، راجیہ سبھا کے رکن رام ناتھ ٹھاکر کے مطابق نتیش کمار کی قیادت والی پارٹی کے دیگر لیڈروں نے کہا کہ آج کی میٹنگ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
ہماری پارٹی نے ماضی میں ایم پی اور ایم ایل اے کی ایسی کئی میٹنگیں کی ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ موجودہ اجلاس تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا ہے۔ این ڈی اے میں کسی بڑے بحران کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔بی جے پی نائب وزیر اعلیٰ ترکیشور پرساد کی رہائش گاہ پر بھی میٹنگ کر رہی ہے اور وہاں موجود لوگوں میں پارٹی کی ریاستی اکائی کے صدر سنجے جیسوال بھی شامل ہیں۔ جے ڈی (یو) میٹنگ کے ایک سے زیادہ ممکنہ شرکاء نے اس بات کی تردید کی کہ بی جے پی کے ساتھ پارٹی کے تعلقات اس حد تک خراب ہو گئے ہیں کہ دوبارہ صف بندی کا مطالبہ کیا جائے۔
ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر)، این ڈی اے کا ایک اتحادی، اور کانگریس بھی منگل کو اپنے ایم ایل اے کی میٹنگیں کر رہی ہیں۔ یہ ملاقاتیں اس فون بات چیت کے بعد بلائی گئی ہیں جو مبینہ طور پر نتیش نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ساتھ کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جے ڈی (یو) لیڈروں نے پہلے آر جے ڈی لیڈر تیجسوی پرساد یادو سے بات کی تھی۔
راجد کے ساتھ سیاسی رشتہ جوڑنے پر نتیش کمار کی وضاحت سماج میں تفرقہ کی کوشش کی جا رہی ہے، اس لئے بھاجپا سے الگ ہوئے
وزیر اعلیٰ نتیش کمار بی جے پی سے تعلقات توڑکرعظیم اتحاد میں شامل ہو گئے ہیں۔ اب نتیش کمار جلد ہی بہار میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنائیں گے۔ ساتھ ہی تمام ایم ایل ایز کی حمایت کا خط گورنر کو سونپنے کے بعد سی ایم نتیش کمار نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے استعفیٰ کی وجہ بھی بتائی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ جے ڈی یو کے تمام ایم پی اور ایم ایل ایز کی رائے تھی کہ انہیں این ڈی اے سے الگ ہونا چاہئے۔ اس دوران سی ایم نتیش کمار نے حال ہی میں جے ڈی یو سے الگ ہونے والے آر سی پی سنگھ کو نشانہ بنایا۔انہوں نے آر سی پی سنگھ کا نام لیے بغیر کہا کہ جس کو ہم نے آگے بڑھانے کا کام کیا وہ کہیں اور جا کر ٹریننگ لے رہا ہے۔ ایسے میں ایم ایل اے کی رائے تھی کہ اب انہیں بی جے پی سے الگ ہو جانا چاہیے۔
وہیں آر جے ڈی کے ساتھ جانے پر نتیش کمار نے کہا کہ سماج میں تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس لیے اب ہم نے بی جے پی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ نتیش کمار نے کہا کہ یہ صرف میرا نہیں بلکہ پوری پارٹی کا فیصلہ ہے۔سی ایم نتیش کمار نے 164 ایم ایل ایز کی حمایت کا خط گورنر کو سونپ دیا ہے۔ دوسری طرف تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار میں بی جے پی کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ نتیش کمار کی قیادت میں بی جے پی کے علاوہ تمام پارٹیاں مل کر ریاست کی ترقی کے لیے کام کریں گی۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ نتیش کمار نریندر مودی کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جے ڈی یو نے جس طرح اپنے ایم ایل اے اور ایم پی کو جلد بازی میں پٹنہ بلایا تھا، میں اس بات سے انکار نہیں کر رہا تھا کہ نتیش کمار کوئی اہم اور چونکا دینے والا فیصلہ لے سکتے ہیں اور آخر کار وہی ہوا۔خیال رہے کہ منگل کو جب جے ڈی یو نے بی جے پی سے اتحاد توڑنے کا فیصلہ کیا تو لوگ حیران رہ گئے۔ اس کے پیچھے کی وجہ یہ سامنے آئی کہ پارٹی کے ایم ایل ایز اور ایم پی نے متفقہ طور پر نتیش کمار سے یہ مطالبہ کیا اور کہا کہ اب جے ڈی یو کو بہار میں بی جے پی سے الگ ہونا چاہئے۔
بہار کی سیاست میں اُتھل پتھل:نتیش کمار نے حکومت سازی کا کیا دعویٰ، تیجسوی نے کہا، ہم چچا بھتیجے ہیں
آج بہار نے سیاسی ہلچل کا ایک اور دور دیکھا۔ تمام قیاس آرائیوں پر مہر لگاتے ہوئے نتیش کمار نے آج این ڈی اے سے تعلقات توڑنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی اور نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کردیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نتیش نے کہا کہ ہمیں 164 ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔ 164 ایم ایل ایز کی حمایت کا خط گورنر کو پیش کیا گیا ہے۔نتیش کمار نے کہاکہ سب مل کر کام کریں گے اور صوبہ بہار کو آگے لے جائیں گے۔ سماج میں تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، ہمیں یہ پسند نہیں آیا۔ ہم بہت سی چیزوں کے بارے میں بات کی جارہی تھی ، جو ہمیں پسند نہیں تھیں۔تیجسوی یادو نے کہاکہ بی جے پی جہاں رہتی ہے، جس کے ساتھ رہتی ہے، اسے برباد کرتی رہتی ہے۔
پنجاب اورمہاراشٹر اس کی مثال ہے ۔ پورے شمالی ہندوستان میں بی جے پی کے پاس اب کوئی بڑا اتحادی نہیں ہے۔ ملک میں انتشار کا ماحول پیدا ہو رہا ہے، فرقہ واریت پروان چڑھ رہی ہے، سماجی انصاف متاثر ہو رہا ہے۔معیشت اور ملکی سلامتی کو دیکھیں ، ہر ایک چیز لب ِ جان ہے۔ آج کا دن بہت اہم ہے، اسی دن ہندوستان چھوڑو تحریک شروع ہوئی تھی۔ آج بہار نے ملک کو سمت دکھانے کا کام کیا ہے کہ جو لوگ عوام کے لیے لڑتے ہیں، عوام انہیں قبول کرتے ہیں۔ لوگ متبادل چاہتے ہیں۔بہار کو خصوصی درجہ اور کوئی پیکیج نہیں ملا، جوباتیں کی جا رہی ہیں ، وہ صرف زبانی خرچ ہیں۔ نتیش کمار نے پٹنہ یونیورسٹی کی بات بھی کی،جسے قبول نہیں کیا گیا۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا یہاں آکر کہتے ہیں کہ وہ علاقائی پارٹیوں کو ختم کریں گے۔
یعنی اپوزیشن اور جمہوریت ختم کردی جائے گی۔ آئین کو بچانا ہمارا فرض ہے۔ بی جے پی کا ایک ہی کام ہے، ڈراؤاور دھمکاؤ۔ ہم فیصلہ لینے کے لیے نتیش جی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ نتیش جی نے بہار اور جمہوریت کے مفاد میں فیصلہ کیا ہے۔تیجسوی نے کہا کہ ہم سوشلسٹ ہیں، لالو جی نے اڈوانی کے رتھ کو روکا تھا۔ کیا ہمارے بڑوں کی میراث کوئی اور چھین لے گا؟ ہم چچا بھتیجے ہیں، ہم نے آپس میں لڑائی بھی کی اور باہمی الزامات بھی لگائے، لیکن یہ سب باتیں گزرتے وقت کی طرح فرسودہ ہوچکی ہیں۔ ہم سوشلسٹ لوگ ہیں۔تیجسوی کے مطابق ہم وزیر اعظم کی امیدواری کا سوال وزیر اعلیٰ پر چھوڑتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس سب سے زیادہ تجربہ کار، سمجھدار وزیر اعلیٰ ہیں، تو وہ نتیش جی ہیں۔



