شاعری

(نظم)’’سیاست کے شکاری ‘‘

ڈاکٹر صالحہ صدیقی (الٰہ آباد)

(نظم)’’سیاست کے شکاری ‘‘

سیاست کے اس گھنونے کھیل میں
خون بہا ہے ہمیشہ آدمی کا
شکاری کا نہ کوئی مذہب ہے نہ ہی ایمان
انسانیت کی بات کرنے والے
شکار ہے وہ بھی اس کالے کھیل کے
لہوں کے سوداگروں نے
درندگی کے انتہا پسندوں نے
ہمیشہ قتل کیا ہے انسانیت کا
وہ کچلتے ہیں
روندتے ہیں
مارتے ہیں
لڑاتے ہیں
کھیلتے ہیں
انسانی جذباتوں سے
جنھیں چمن کی حفاظت کے لیے چنا گیا تھا
وہی آج دشمن بنے ہے
پیروں سے مسل رہے ہیں ہر باغ کے پھول کو
کہیں طوفاں یہ بغاوت کا
آندھی یہ عداوت کی
برباد نہ کر ڈالے
اس ملک کی صورت کو
برسوں میں جسے سنوارا
گھنٹوں میں مٹا ڈالا
گوپال ہو کہ عبداللہ ہو
مبارک ہو کہ رتن لال ہو
انکت ہو کہ ونود ہو
ہر گوہر کو فسادیوں نے
مالا سے توڑ ڈالا
ان معصوم شہیدوں کے جانے سے
ہر آنکھ رو رہی ہے
ہر دل اداس ہے
مذہب کے تماشے میں
دہشی کامیاب ہے
اے میرے ملک والوں
ان کو ذرا پہچانو
ان کھیل تماشوں کی
حقیقت ذرا تم جانو
یہ صرف لڑاتے ہیں
یہ صرف ستاتے ہیں
آنکھیں کھولوں
اور پہچانو
ان سیاست کے شکاریوں کو

متعلقہ خبریں

Back to top button