
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر پوپ لیو کا اظہارِ تشویش، دو ریاستی حل پر زور
عالمی برادری سے فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل
روم، 17 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر پوپ لیو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے تحفظ اور خطے میں دیرپا امن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے حل کے لیے دو ریاستی فارمولے کو آگے بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔
روم کے قریب واقع کاسٹل گاندولفو میں دوپہر کی عبادت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہری آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات کا سلسلہ رکنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے عالمی برادری کو دو ریاستی حل کے قیام کی کوششوں کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
پوپ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف حملوں اور دباؤ میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق نابلس کے قریب واقع فلسطینی گاؤں قصرا میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جہاں فلسطینی خاندانوں کے گھروں کو گھیرے میں لینے اور بنیادی سہولیات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی بندش کے ساتھ فلسطینی آبادی کو محدود کرنے کی کارروائیاں مقامی سطح کے تنازعات سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ ہیں۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع فلسطینی علاقوں کو مزید تقسیم کر رہی ہے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں مشکلات بڑھا رہی ہے۔
ویٹی کن طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔ مجوزہ فلسطینی ریاست میں غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کی پالیسی پر قائم ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بزلیل سموٹریچ بھی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو مزید مضبوط بنانے کی حمایت کر چکے ہیں۔
پوپ لیو نے اپنے تازہ بیان میں کسی ایک واقعے یا فریق کو براہ راست ذمہ دار قرار دینے کے بجائے فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد ختم کرنے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت کرے جن سے اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار اور منصفانہ امن کی راہ ہموار ہو۔



