سرورققومی خبریں

سپریم کورٹ سے راہل گاندھی کو عبوری راحت، غیر متناسب اثاثہ کیس میں الہ آباد ہائیکورٹ کی کارروائی پر روک

غیر متناسب اثاثہ کیس میں راہل گاندھی کو عبوری راحت

نئی دہلی، 17 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے پیر کو کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو مبینہ غیر متناسب اثاثہ کیس میں عبوری راحت دیتے ہوئے الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ میں جاری کارروائی آگے بڑھانے سے روک دیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں جسٹس جویملیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ نے الہ آباد ہائیکورٹ کو مزید کارروائی مؤخر کرنے کی ہدایت دی۔ اس معاملے میں 20 اگست کو ہونے والی مجوزہ سماعت بھی اس حکم سے متاثر ہوگی۔

سپریم کورٹ نے مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کو بھی مزید احکامات تک اس معاملے میں کسی عدالت یا دیگر متعلقہ اتھارٹی کے سامنے تحقیقات سے متعلق رپورٹ کی تفصیلات جمع کرانے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے مرکز، سی بی آئی، ای ڈی اور اصل درخواست گزار کو نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔ یہ کارروائی راہل گاندھی کی جانب سے الہ آباد ہائیکورٹ کی کارروائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

کیس کا آغاز کیسے ہوا؟

یہ معاملہ کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کارکن ایس وگنیش شیشیر کی جانب سے الہ آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی کریمنل رِٹ پٹیشن سے شروع ہوا۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا تھا کہ راہل گاندھی کے اثاثے ان کے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں اور اس معاملے کی مرکزی ایجنسیوں سے تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔

مئی 2026 میں الہ آباد ہائیکورٹ کی لکھنؤ بنچ نے سی بی آئی اور ای ڈی کو الزامات کی جانچ کرنے اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

بعد ازاں جولائی میں ہائیکورٹ نے سی بی آئی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایک سینئر افسر سے تازہ حلف نامہ طلب کیا تھا۔ عدالت نے ای ڈی کے حوالے سے بھی کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران کسی غیر قانونی اقدام یا قابلِ اعتراض مواد کا انکشاف ہونے پر ایجنسی قانون کے مطابق کارروائی کر سکتی ہے۔

راہل گاندھی نے اگست کے اوائل میں سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الہ آباد ہائیکورٹ کے احکامات کو چیلنج کیا۔ ان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ معاملے میں ان کے خلاف ایسی تحقیقات کی جا رہی ہیں جو غیر ضروری طور پر وسیع دائرہ اختیار رکھتی ہیں۔

ان کے وکلا نے ہائیکورٹ میں ہونے والی بعض کارروائیوں، خاص طور پر چیمبر میں سماعت، پر بھی اعتراض اٹھایا اور مؤقف اپنایا کہ انہیں مناسب نوٹس اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا گیا۔ درخواست میں قدرتی انصاف کے اصولوں کے ساتھ ساتھ درخواست گزار کی قانونی حیثیت، مقدمے کے قابلِ سماعت ہونے اور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔

پیر کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ میں اختیار کیے گئے طریقہ کار اور قدرتی انصاف کے اصولوں سے متعلق نکات کا جائزہ لیا۔ مرکزی ایجنسیوں اور مرکز کی جانب سے عدالت کے سامنے اپنے دلائل پیش کیے گئے، تاہم اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے الزامات کی صحت یا راہل گاندھی کے اثاثوں سے متعلق حتمی رائے قائم نہیں کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا حکم عبوری نوعیت کا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ راہل گاندھی کے خلاف لگائے گئے غیر متناسب اثاثوں کے الزامات درست یا غلط ثابت ہوگئے ہیں۔

اصل معاملے کی قانونی حیثیت پر فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، جبکہ سپریم کورٹ اب یہ جانچ کرے گی کہ الہ آباد ہائیکورٹ میں کارروائی کس طریقے سے آگے بڑھی اور آیا اس دوران قانونی و آئینی تقاضوں، بالخصوص قدرتی انصاف کے اصولوں، کی مکمل پابندی کی گئی یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button