سیاسی و مذہبی مضامین

رمضان کی تیاری ,استقبال رمضان کیوں اور کیسے؟✍️ حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمیؒ

فرمانِ الٰہی ہے: ’’رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے

Wednesday ,22 March  ramadan 2023

فرمانِ الٰہی ہے: ’’رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے، کھلی دلیل ہے اور حق وباطل میں فرق کرنے والا ہے، لہٰذا تم میں سے جو اس مہینے کو پائے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ روزہ رکھے۔

نیز فرمایا گیا ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو‘‘۔ رحمت دوعالم رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے‘‘ لوگو! تم پر بڑا ہی عظمت وبرکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے، جس شخص نے روزہ عقیدت وایمان کے ثواب حاصل کرنے کے لئے رکھا اور رمضان کی راتوں میں کھڑا ہوا، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ‘‘ روزے کی اہمیت سے متعلق آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص قصداً روزہ نہ رکھے، بغیر رخصت (مرض) کے اگر وہ تمام زندگی بھی روزے رکھے تو (رمضان) کے ایک روزے کا بدل نہیں ہوسکتا۔

روزے کو عربی میں ’’صوم‘‘ کہتے ہیں جس کے معنی رکنے کے ہیں یعنی روزے کی حالت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی سے رک جائو۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لئے اصلاحی ٹریننگ ہے جس نے پرہیزگاری اختیار کی، یعنی احکام الٰہی اور تعلیمات رسول ﷺ پر چلا، وہی شخص کامیاب ہوا۔ علماء نے کہا ہے کہ اس پورے مہینے کی ٹریننگ بندے کو متقی اورپرہیز گار بنادیتی ہے۔ یعنی وہ اللہ سے ڈرنے والا اور احکامات شریعت پر چلنے والا بن جاتا ہے۔

الحمد للہ! یہ خیر وبرکات کا مہینہ جلوہ افروز ہورہا ہے۔ عاشقوں کے چہروں پر مسرت جلوہ گر ہے کہ وہ مہینہ آگیا کہ جس کی عبادت اجر وعطا کے اعتبار سے سب مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ فرض نماز کا اجر ستر گنا اور نوافل کا اجر فرض کے برابر، پھر اس ماہ مبارک میں روزے رکھنے والوں کو یہ نوید بھی سنادی گئی کہ تم نے روزہ میرے لئے رکھا تھا ،لہٰذا اس کا اجر بھی میں ہی دوں گا۔ اللہ اکبر، کیسی عظمت وبرکت کا مہینہ ہے کہ جس کے دن اور رات رحمت ہی رحمت۔ اگر ہم نے اس مہینے کی قدر نہ کی تو بدقسمتی ہوگی، پتہ نہیں اگلے سال یہ برکتوں والا ماہ مبارک ہمیں ملتا بھی ہے یا نہیں؟

الحمد للہ، رمضان المبارک اپنی تمام تررحمتوں، مغفرتوں اور بخششوں کے ساتھ ایک بار پھر اس امت کو اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لئے سایہ فگن ہورہا ہے۔ خوش نصیب اور بخت آور ہیں وہ لوگ جو رمضان المبارک کو عام دنوں کی طرح گذارنے کے بجائے اس طرحز پر گذاریں گے جس طریقہ پر رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے  صحابہ کرام ؓ اجمعین اور متبعین نے گذارا۔

وہی راستہ ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے روزے کا اصل مقصد ’’تقویٰ‘‘ حاصل ہوسکتا ہے او رنہایت بدقسمت وبدنصیب ہیں وہ لوگ جن کی زندگیوں میں یہ رمضان بھی کوئی انقلاب برپا کئے بغیر رخصت ہوجائے ان کی زندگی اسی ڈھب سے گذرتی ہے اللہ کی ناراضی مول لئے ، اللہ کی زمین پر رسی دراز ہوئے، وہ اسی طرح اللہ کے احکام توڑتے رہیں، رشوت اور سود کی معیشت بھی جاری رہے اور ناجائز منافع خوری وذخیرہ اندوزی میں بھی کوئی تعطل پیدا نہ ہو۔

رمضان کی آمد سے قبل بھی صبح ، دوپہر اور رات تین بار کھاتے پیتے تھے اب رمضان میں بھی سحری، افطار اور رات کے کھانے کی صورت میں یہ معمولات جاری رہیں گے ۔ جھوٹ بولنا، کاروبار میں بہتری کے لئے جھوٹی قسمیں کھانا، چغلی اور غیبت کے ذریعہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا یہ تمام بدترین اعمال اور نیکیوں کی بربادی کا ذریعہ ہیں۔ ان سے اجتناب بہت ضروری ہے۔

رمضان سے پہلے رمضان کی تیاری

متعلقہ خبریں

Back to top button