حرام مال کی ممانعت – باطل طریقہ سے مال نہ کھاؤ
مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی۔ حیدرآباد
🔹 باطل طریقہ سے مال نہ کھاؤ
اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو تاکید فرمائی کہ وہ باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال نہ کھائیں۔ باطل طریقے سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جو شریعت کے خلاف ہوں، جیسے دھوکہ، فریب، رشوت، جوا، سود، ذخیرہ اندوزی اور جھوٹی قسمیں۔ یہ تمام طریقے ناجائز اور ایمان کے منافی ہیں۔
🔹 لین دین میں رضا مندی ضروری
اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی کاروبار یا مالی معاملے میں دونوں فریقوں کی مکمل رضا مندی ضروری ہے۔ سودی لین دین بظاہر رضا مندی پر مبنی لگتا ہے مگر دراصل اس میں جبر اور ناانصافی شامل ہوتی ہے۔ جبکہ ملازمت یا اجرت کے معاملات میں حقیقی رضا مندی پائی جاتی ہے، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے مفاد کا خیال رکھتے ہیں۔
🔹 نبی کریم ﷺ کے ارشادات
-
اللہ اس شخص پر رحم کرے جو خرید و فروخت اور قرض میں نرمی برتے۔ (بخاری)
-
جو شخص فریب دے وہ مجھ سے نہیں۔ (مسلم)
-
اللہ قیامت کے دن رعایت کرے گا جس نے معاملات میں مسلمانوں سے رعایت کی۔ (ابو داؤد)
-
تنگ دست کو مہلت دینے والا قیامت کی تکالیف سے نجات پائے گا۔ (مسلم)
-
شہید کے سب گناہ معاف ہیں سوائے قرض کے۔ (مسلم)
-
جس نے زمین ظلم سے حاصل کی، قیامت کے دن سات زمینوں کا بوجھ اس کے گلے میں ہوگا۔
-
احتکار کرنے والا ملعون ہے۔ (ابن ماجہ)
🔹 اپنے آپ کو قتل نہ کرو
اسلام خودکشی کو سخت حرام قرار دیتا ہے۔ معاشی مشکلات، نقصان یا مایوسی کے باعث خود کو ہلاک کرنا ایمان کے منافی ہے۔ اہل ایمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ مشکلات میں صبر کرتے ہیں اور اللہ پر توکل رکھتے ہیں۔
مولانا محمد شفیعؒ نے فرمایا کہ "ولا تقتلوا انفسکم” کے معنی یہ ہیں کہ خودکشی نہ کرو اور ایک دوسرے کو ناحق قتل نہ کرو۔
(معارف القرآن، جلد دوم، صفحہ 381)
🔹 اللہ تعالیٰ کی مہربانی
آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "اللہ تم پر مہربان ہے”۔ یعنی یہ تمام احکامات بندوں کی بھلائی کے لیے ہیں تاکہ وہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کریں۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ بندے حلال کمائی اختیار کریں اور حرام ذرائع سے بچیں۔
🔹 حاصل کلام
اسلام چاہتا ہے کہ اہل ایمان حرام کمائی اور ناجائز ذرائع سے مکمل اجتناب کریں۔ تجارت اور کاروبار ہمیشہ دیانت داری، رضا مندی اور انصاف پر مبنی ہوں۔ جو لوگ حرام ذرائع سے کماتے ہیں، وہ نہ صرف دنیاوی نظام کو بگاڑتے ہیں بلکہ آخرت میں سخت عذاب کے مستحق بن جاتے ہیں۔



