
’چوکیدار چور‘ کیس: راہل گاندھی کی درخواست مسترد، ہتک عزت کی کارروائی ختم کرنے سے بمبئی ہائی کورٹ کا انکار
چوکیدار چور‘ کیس میں راہل گاندھی کو ہائی کورٹ سے ریلیف نہیں ملا
ممبئی، 8 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز تبصروں سے متعلق مجرمانہ ہتک عزت کیس میں بمبئی ہائی کورٹ سے راحت نہیں ملی۔ عدالت نے ان کی جانب سے مجسٹریٹ عدالت کی کارروائی اور سمن کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
جسٹس نتن بورکر کی سنگل بنچ نے منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ کے حکم میں ایسی کوئی واضح قانونی خامی یا بے قاعدگی نہیں پائی گئی جس کی بنیاد پر ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 482 کے تحت ہائی کورٹ کو مداخلت کرنا ضروری ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ حالات میں مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھنے میں کوئی قانونی نقص نظر نہیں آتا۔
راہل گاندھی کی جانب سے عدالت میں بنیادی دلیل یہ دی گئی تھی کہ ایک بی جے پی کارکن کی طرف سے دائر کردہ شکایت قانونی طور پر قابل سماعت نہیں ہے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ مبینہ بیان میں نہ بی جے پی کا نام لیا گیا اور نہ ہی کسی مخصوص یا قابل شناخت طبقے کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، اس لیے شکایت کنندہ کو مجرمانہ ہتک عزت کی کارروائی شروع کرنے کا حق حاصل نہیں۔
بمبئی ہائی کورٹ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک رجسٹرڈ قومی سیاسی جماعت ہے اور اسے ایک قابل شناخت ادارہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کے رکن ہیں، اس لیے اس مرحلے پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ راہل گاندھی کا مبینہ بیان صرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک محدود تھا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مبینہ بیان کا اصل مفہوم کیا تھا، اس کے پیچھے کیا نیت تھی اور اس کا بی جے پی کے ارکان پر کیا اثر پڑا، ان سوالات کا تعین مقدمے کی سماعت کے دوران کیا جائے گا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے مجسٹریٹ کی جانب سے جاری سمن میں مداخلت سے گریز کیا۔
یہ مقدمہ بی جے پی کارکن مہیش شریشریمل نے ممبئی کی گرگاؤں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت میں دائر کیا تھا۔ شکایت کا تعلق ستمبر 2018 میں راجستھان کی ایک انتخابی ریلی کے دوران راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کیے گئے مبینہ تبصروں سے ہے۔
شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے لیے ’’چوروں کے سردار‘‘ اور ’’کمانڈر اِن تھیف‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ریمارکس صرف وزیر اعظم تک محدود نہیں رہے بلکہ ان سے بی جے پی کے ارکان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، کیونکہ انہیں بھی بالواسطہ طور پر ’’چور‘‘ قرار دیا گیا۔
مہیش شریشریمل نے عدالت میں خود کو تقریباً دو دہائیوں سے بی جے پی کا فعال رکن بتایا اور کہا کہ پارٹی کے رکن کی حیثیت سے وہ مبینہ بیان سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر انہیں مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔
شکایت پر غور کرنے کے بعد مجسٹریٹ عدالت نے اگست 2019 میں راہل گاندھی کو سمن جاری کیا تھا۔ راہل گاندھی نے بعد میں بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اس سمن اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی کارروائی کو ختم کرنے کی درخواست کی۔
ہائی کورٹ میں راہل گاندھی کی جانب سے سینئر وکیل سدیپ پاسبولا نے دلائل پیش کیے، جبکہ مہاراشٹر کے ایڈووکیٹ جنرل ڈاکٹر ملند ساٹھ نے درخواست کی مخالفت کی۔ ریاست کی جانب سے کہا گیا کہ اگر کسی مخصوص اور قابل شناخت گروہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہو تو متاثرہ شخص قانونی کارروائی شروع کر سکتا ہے اور اس مرحلے پر شکایت کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے رواں سال فروری میں تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اب عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے مجرمانہ ہتک عزت کی کارروائی کو ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تاہم، بمبئی ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کو محدود مدت کے لیے راحت بھی دی ہے۔ عدالت نے انہیں چھ ہفتے تک مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے سے تحفظ دیا ہے، تاکہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر سکیں۔
اس طرح ہائی کورٹ نے ایک طرف مجسٹریٹ کی جانب سے جاری سمن کو برقرار رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب راہل گاندھی کو سپریم کورٹ میں اپیل کے لیے چھ ہفتے کا وقت بھی دیا ہے۔



