قومی خبریں

بیوی کی مرضی کے بغیر جنسی تعلق، کیا یہ ریپ ہے؟ سپریم کورٹ میں جلد ہوگی سماعت

کیا شادی کے رشتے میں بیوی کی مرضی کے بغیر جنسی تعلق ریپ کے زمرے میں آئے گا؟

نئی دہلی، 7 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) شادی کے رشتے میں بیوی کی رضامندی کے بغیر جنسی تعلق قائم کرنے کو ریپ کے دائرے میں لانے کا معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ازدواجی عصمت دری کو جرم قرار دینے سے متعلق درخواستوں پر باقاعدہ سماعت کی تاریخ طے کرنے سے پہلے وہ مرکزی حکومت کا مؤقف جاننا چاہے گی۔

ازدواجی عصمت دری سے مراد ایسی صورت حال ہے جب شوہر اپنی بیوی کی مرضی کے خلاف اسے جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرے۔ اس میں جبری جنسی عمل کے علاوہ بعض حالات میں غیر فطری جنسی عمل بھی شامل ہو سکتا ہے۔ بھارت میں بالغ بیوی کے ساتھ شوہر کی جانب سے جبری جنسی تعلق کو موجودہ فوجداری قانون کے تحت عام طور پر ریپ کے جرم کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

پرانے تعزیرات ہند یعنی آئی پی سی کی دفعہ 375 میں موجود استثنیٰ کے تحت بالغ بیوی کے ساتھ شوہر کے جنسی تعلق کو ریپ کی تعریف سے باہر رکھا گیا تھا۔ اب نئے فوجداری قانون میں بھی اسی نوعیت کی استثنیٰ کی شق برقرار ہے، جس کے مطابق 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کی بیوی کے ساتھ شوہر کا جنسی تعلق ریپ کے جرم میں شمار نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے سے متعلق درخواستوں پر پہلے بھی مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ ان درخواستوں میں ازدواجی عصمت دری سے متعلق قانونی استثنیٰ کو چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شادی کے رشتے کو بیوی کی رضامندی کے بنیادی حق سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔

 سماعت کے دوران سینئر وکیل اندرا جیسنگ نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملہ اٹھاتے ہوئے درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی اپیل کی۔ بنچ میں جسٹس جویمالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہیں۔

جیسنگ نے عدالت کو بتایا کہ درخواستیں سماعت کے لیے درج ہیں، تاہم مرکزی حکومت نے ابھی تک معاملے پر اپنا تفصیلی جواب داخل نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کی جانب سے فی الحال صرف ابتدائی اعتراض سامنے آیا ہے اور وہ نومبر میں سماعت کے لیے تاریخ مقرر کیے جانے کی خواہش مند ہیں۔

بنچ نے اس پر کہا کہ معاملہ بدھ کے روز درج ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے بھی کوئی نمائندہ عدالت میں موجود ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مرکز کا جواب سننے کے بعد ہی معاملے کی سماعت کے لیے مناسب تاریخ طے کی جائے گی۔

ایک اور درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل کرونا ننڈی نے کہا کہ سماعت کی کوئی بھی مناسب تاریخ مقرر کی جا سکتی ہے تاکہ تمام فریق اپنے دلائل کی تیاری اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کا عمل مکمل کر سکیں۔

ازدواجی عصمت دری کے معاملے پر مختلف عدالتوں میں بھی اہم قانونی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک مقدمے میں شوہر کو اپنی بیوی کے خلاف ریپ اور غیر فطری جنسی تعلق کے الزامات سے قانونی استثنیٰ دیے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔ عدالت نے اس استثنیٰ کو آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت قانون کے سامنے مساوات کے حق کے تناظر میں بھی پرکھا تھا۔

دوسری جانب مرکزی حکومت ازدواجی عصمت دری کو الگ سے فوجداری جرم بنانے کے حق میں نہیں ہے۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ شادی کے رشتے میں جبری جنسی تعلق کو ریپ کے جرم کے طور پر شامل کرنے سے ایسے مقدمات کی تعداد بڑھ سکتی ہے جنہیں مبینہ طور پر ذاتی یا بدنیتی پر مبنی تنازعات میں استعمال کیا جائے۔

مرکز یہ بھی دلیل دے چکا ہے کہ خواتین کو گھریلو تشدد اور جنسی استحصال سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ملک میں پہلے ہی مختلف قانونی راستے موجود ہیں، جن میں گھریلو تشدد سے خواتین کا تحفظ کرنے والا قانون بھی شامل ہے۔

اب سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ قانونی استثنیٰ برقرار رہنا چاہیے یا بیوی کی رضامندی کے بغیر شوہر کی جانب سے جنسی تعلق قائم کرنے کو بھی فوجداری قانون کے تحت ریپ کے جرم میں شامل کیا جانا چاہیے۔ عدالت میں ہونے والی آئندہ سماعت میں مرکزی حکومت کے تفصیلی مؤقف کے بعد اس معاملے پر قانونی بحث مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button