
راجستھان میں شادی کا جھانسہ دے کر بہار کی غریب و یتیم لڑکیوں کی اسمگلنگ، بین ریاستی گینگ بے نقاب، 4 گرفتار
14 سالہ لڑکی کی بہار سے راجستھان تک اسمگلنگ
جھالاواڑ، 29 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) راجستھان کے ضلع جھالاواڑ کی اکلیرا پولیس نے شادی کا جھانسہ دے کر غریب، یتیم اور نابالغ لڑکیوں کی اسمگلنگ کرنے والے ایک بین ریاستی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گینگ بہار اور راجستھان سے کم عمر اور بے سہارا لڑکیوں کو بہتر مستقبل اور شادی کا لالچ دے کر راجستھان لاتا تھا، جہاں بھاری رقم کے عوض ان کی شادیاں کرائی جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 7 جولائی کو اطلاع ملی کہ بہار سے شادی کے بہانے لائی گئی ایک 14 سالہ نابالغ لڑکی کو کچھ افراد زبردستی اکلیرا کے مدنپوریہ گاؤں لے جا رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے مشتبہ گاڑی کا تعاقب کیا، تاہم ملزمان فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے۔
اسی دوران رتلائی علاقے میں مقامی دیہاتیوں نے پولیس کی مدد کے لیے ٹریکٹر اور ٹرالیاں سڑک پر کھڑی کرکے راستہ بند کر دیا، جس کے باعث مشتبہ گاڑی کو روک لیا گیا۔ پولیس نے گاڑی سے نابالغ لڑکی سمیت سات افراد کو برآمد کر کے لڑکی کو تحفظ کے لیے ون اسٹاپ سینٹر منتقل کر دیا، جبکہ دیگر افراد کو امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ گینگ منظم انداز میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کرتا تھا۔ ملزمان نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ شادی کے نام پر لڑکیوں کا سودا کیا جاتا تھا۔ اگر شادی کے بعد کسی وجہ سے تنازع پیدا ہوتا یا سسرال والے لڑکی کو قبول نہ کرتے تو گینگ دوبارہ اسے اپنے قبضے میں لے کر کسی دوسرے شخص سے اس کی شادی کرا دیتا تھا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ 14 سالہ لڑکی کو بہار سے راجستھان لا کر اس کے لیے جعلی دستاویزات تیار کی گئیں، جس کے بعد اس کی شادی کرا دی گئی۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیں۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ امیت کمار کی ہدایت پر ایک ٹیم بہار کے ضلع روہتاس جبکہ دوسری جے پور روانہ کی گئی، جہاں چھاپوں کے دوران چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد میں بہار کے مہاراج شاہ (25) اور دھرمیندر کمار (44)، جھالاواڑ کے چوتھمل (43) اور جے پور کے اجے جنگڈ (36) شامل ہیں۔
چاروں ملزمان کو 28 جولائی کو پوکسو (POCSO) عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ پولیس اب اس بین ریاستی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے دیگر ارکان، نابالغ لڑکیوں کی خرید و فروخت کے دائرۂ کار، جعلی دستاویزات کی تیاری اور مالی لین دین کے تمام پہلوؤں کی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے۔



