
چندی گڑھ، 6 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): بالی ووڈ اداکار سلمان خان ایک مرتبہ پھر قانونی تنازع میں گھر گئے ہیں۔ چندی گڑھ کی ضلعی عدالت نے 3 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ اور دھوکہ دہی سے متعلق دائر ایک شکایت پر سلمان خان، ان کی بہن الویرا خان اگنی ہوتری اور اسٹائل اینڈ کنٹینٹ جیولری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹروں سمیت دیگر ملزمان کو 5 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ منی ماجرا، چندی گڑھ کے تاجر ارون گپتا کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جن کا الزام ہے کہ Being Human Jewellery کے شوروم کے لیے انہیں بڑے منافع اور برانڈ کی مضبوط حمایت کا یقین دلایا گیا، لیکن بعد میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے، جس سے انہیں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
شکایت کے مطابق ارون گپتا نے 2018 میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے منی ماجرا میں Being Human Jewellery کا شوروم قائم کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری میں تقریباً ایک کروڑ روپے شوروم کی تعمیر، اندرونی سجاوٹ اور دیگر بنیادی اخراجات پر خرچ کیے گئے۔
ارون گپتا کا دعویٰ ہے کہ اس سے قبل ممبئی میں بگ باس کے سیٹ پر ان کی سلمان خان سے ملاقات ہوئی تھی، جہاں سلمان خان نے مبینہ طور پر چندی گڑھ میں شوروم کھولنے اور افتتاحی تقریب میں شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم افتتاح کے موقع پر سلمان خان خود نہیں آئے بلکہ ان کی جگہ اتل اگنی ہوتری نے شرکت کی۔
شکایت گزار کے مطابق انہوں نے کمپنی کے ساتھ طے شدہ تمام شرائط پوری کیں، لیکن شوروم شروع ہونے کے بعد کمپنی نے وعدے کے مطابق کاروباری تعاون فراہم نہیں کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد شوروم کے لیے جیولری اور دیگر مصنوعات کی فراہمی بھی بند کر دی گئی۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری 2020 سے بینگ ہیومن جیولری سپلائی کرنے والا آؤٹ لیٹ بند ہو گیا، جس کے باعث شوروم میں مصنوعات کی شدید قلت پیدا ہوئی اور کاروبار مکمل طور پر متاثر ہوا۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ بعد میں کمپنی کا دفتر اور ویب سائٹ بھی بند پائے گئے، جس کے بعد انہوں نے چندی گڑھ پولیس سے رجوع کیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (JMIC) نے اس مقدمے میں سلمان خان، الویرا خان اگنی ہوتری، اسٹائل اینڈ کنٹینٹ جیولری پرائیویٹ لمیٹڈ، بیئنگ ہیومن فاؤنڈیشن اور کمپنی سے وابستہ دیگر ذمہ داران کو سمن جاری کرتے ہوئے 5 اکتوبر کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
عدالت میں پیشی کے دوران تمام فریقین اپنا مؤقف پیش کریں گے، جس کے بعد عدالت آئندہ قانونی کارروائی پر فیصلہ کرے گی۔
یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل 2021 میں بھی چندی گڑھ (یو ٹی) پولیس نے اسی شکایت کے سلسلے میں سلمان خان کو نوٹس جاری کیا تھا، جس کا جواب اداکار کی جانب سے ای میل کے ذریعے جمع کرایا گیا تھا۔
دوسری جانب Style and Content Jewellery Pvt Ltd پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکی ہے۔کمپنی کا مؤقف ہے کہ سلمان خان 2018 کے فرنچائز معاہدے کا براہِ راست حصہ نہیں تھے۔ کمپنی کے مطابق Being Human برانڈ کو سلمان خان کی فاؤنڈیشن نے لائسنس کے تحت استعمال کی اجازت دی تھی، جبکہ جیولری کے کاروبار، شوروم کے انتظام، مصنوعات کی فراہمی، مارکیٹنگ اور فروخت کی تمام ذمہ داری کمپنی کے پاس تھی۔
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سلمان خان کا کردار صرف برانڈ سے وابستگی تک محدود تھا اور وہ کاروباری معاہدوں یا روزمرہ آپریشنز میں شامل نہیں تھے۔
اس مقدمے کی اگلی سماعت 5 اکتوبر کو ہوگی، جہاں سلمان خان، الویرا خان اگنی ہوتری اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہو کر اپنے خلاف عائد الزامات پر جواب دیں گے۔ عدالت اس کے بعد دستیاب شواہد اور فریقین کے مؤقف کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔



