
منصوے بہت تھے، مگر موت کا وقت مقرر تھا-ڈاکٹر محمد مصطفی علی سروری
"ہم بہت کچھ سوچتے اور منصوبہ بندی کرتے ہیں، لیکن موت کب آ جائے، اس کا علم کسی کو نہیں۔"
چودہ ستمبر، پیر کا دن۔ اگرچہ گنیش چترتھی کی تعطیل تھی، لیکن کریم نگر کی سٹیزنس کالونی کے رہنے والے محمد عبدالعظیم کے لیے یہ اپنی ملازمت پر واپسی کا دن تھا۔
چونتیس سالہ محمد عظیم ایک این آر آئی تھے اور سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے۔ ان دنوں وہ اپنی چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے اور چودہ ستمبر کو ان کی دوبارہ سعودی عرب واپسی تھی۔ کریم نگر سے نکل کر ایئرپورٹ جا رہے تھے۔ سفر کی تھکن کو کم کرنے اور اپنے آگے کے سفر کی تیاری کرنے کے لیے محمد عظیم نے ایئرپورٹ جانے والے راستے پر واقع بالاجی بھون نامی ایک ہوٹل کے قریب اپنی گاڑی پارک کی اور وہاں چائے پینے چلے گئے۔
ان کے ساتھ وہ افرادِ خاندان بھی تھے جو انہیں وداع کرنے اور ایئرپورٹ تک چھوڑنے کے لیے کریم نگر سے گاڑی میں آئے تھے۔ چائے پینے کے لیے وہ لوگ بھی بالاجی ہوٹل پر رک گئے تھے۔
ناگہانی حالات، آفات اور بلائیں کب کس کو اپنی گرفت میں لے لیں، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ایسا ہی کچھ محمد عظیم کے ساتھ بھی ہوا۔
محمد عظیم اس مرتبہ جب حیدرآباد پہنچے اور پھر کریم نگر گئے تو انہیں دو خوشیاں تھیں۔ ایک تو یہ کہ طویل عرصے کی چھٹی کے بعد وہ اپنے گھر آ رہے تھے، اور دوسری خوشی یہ تھی کہ جب وہ چھٹی پر آئے تو اللہ رب العزت نے انہیں اولاد کی شکل میں ایک نئے مہمان سے بھی نوازا تھا، جسے انہوں نے اب تک صرف موبائل فون پر، ویڈیو کے ذریعے دیکھا تھا۔
حیدرآباد پہنچنے کے بعد ان کے دل کی بڑی خواہش یہی تھی کہ وہ اپنی اولاد کو اپنی گود میں لیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ چھٹیاں کیسے گزر گئیں، کچھ پتا ہی نہیں چلا۔ اب جب دوبارہ اپنے نوزائیدہ بچے سے دوری اور اپنے گھر والوں، اپنی فیملی سے جدائی کا خیال آتا تو دل کے کسی نہ کسی گوشے میں ایک عجیب سا ملال بھی تھا۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ایک ٹریول بس، جو سیون ہلز ٹریولز کی تھی، ایک کنٹینر سے ٹکرانے سے بچنے کی کوشش میں بے قابو ہو گئی اور سڑک کے کنارے کھڑی گاڑیوں کو ٹکر مارتے ہوئے بالاجی ہوٹل کے اندر جا گھسی۔ اس بس کے ہوٹل میں داخل ہونے کے نتیجے میں محمد عظیم بس کے نیچے آ گئے اور اس حادثے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔
حیدرآباد شہر سے اس واقعے اور اس حادثے کی انگریزی، اردو، تلگو اخبارات اور مختلف میڈیا ہاؤسز میں رپورٹنگ ہوئی۔ جو بھی اخبار کی خبر پڑھتا، جو بھی ناظر ٹی وی پر اس خبر کو دیکھتا یا جس کسی نے بھی اپنے موبائل فون پر اس خبر کا مشاہدہ کیا، اس کے دل میں غم کے جذبات پیدا ہوئے اور آنکھوں کے کسی نہ کسی گوشے میں نمی ضرور آئی۔
یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر ہم سب کو یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کی موت کا وقت ایک دن معین ہے، لیکن ہم نہیں جانتے کہ وہ موت کب آ دبُچائے گی اور ہمیں کب اللہ کے حضور پیش ہونا ہوگا۔
محمد عظیم کی موت سے بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ آنے والی موت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ محمد عظیم کے لواحقین کے ساتھ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں صبر عطا فرمائے اور مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
بظاہر یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ انسان بہت کچھ سوچتا ہے، بہت کچھ منصوبہ بندی کرتا ہے، لیکن موت کب اسے آ دبُچائے گی، اس سے وہ بے خبر ہوتا ہے۔ کامیاب وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی ہی میں اپنی موت کی تیاری کر لیتے ہیں۔
اسی ہفتے کے دوران ایک اور واقعہ شہر حیدرآباد سے ہی میڈیا میں رپورٹ ہوا۔ اس واقعے میں میلار دیوپلی پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک ٹِپر نے موٹر سائیکل پر سوار ایک باپ بیٹی کو ایسی ٹکر ماری کہ اس حادثے میں باپ کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی، جبکہ لڑکی کو دواخانے منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے بھی مردہ قرار دے دیا۔
اس خبر میں باپ بیٹی کی موت ہی نہیں بلکہ ایک اور دردناک پہلو بھی ہے۔
اسماعیل نامی جو شخص گاڑی چلا رہے تھے، ان کے ساتھ ان کی بیٹی پچھلی نشست پر سوار تھی۔ یہ دونوں باپ بیٹی دراصل اپنے چند عزیزوں کو شادی کا دعوت نامہ دینے کے لیے سفر کر رہے تھے۔
یہ دعوت کسی اور کی نہیں بلکہ گاڑی پر سوار بشریٰ نامی لڑکی کی شادی کی تھی۔ بشریٰ کی عمر اکیس برس بتائی گئی ہے اور اس کی شادی اگلے ماہ، دو اکتوبر کو جمعہ کے دن مقرر تھی۔ اس کے والد پینتالیس سالہ محمد اسماعیل اپنی بیٹی کی شادی اور رخصتی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسے ساتھ لے کر عزیزوں کو شادی کا دعوت نامہ دینے کے لیے سفر کر رہے تھے۔
ایک ٹِپر، جس کا ڈرائیور مبینہ طور پر نشے میں دھت تھا، نے پیچھے سے ایسی ٹکر ماری کہ محمد اسماعیل صاحب موقع ہی پر ٹرک کے ٹائر کے نیچے آ گئے اور ان کا انتقال ہو گیا، جبکہ بشریٰ بیگم کو زخمی حالت میں دواخانے منتقل کیا گیا۔
اس دل دہلا دینے والے واقعے نے جہاں محمد اسماعیل صاحب کے گھر والوں پر صدموں کا ایک بہت بڑا پہاڑ توڑ دیا، وہیں ان تمام لوگوں کے لیے، جن کی حیات اور سانسیں ابھی باقی ہیں، ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی پر غور کریں۔
محمد اسماعیل صاحب کے ایک بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ جس بیٹی کی شادی کا دعوت نامہ لے کر وہ اپنے عزیزوں کے گھر جا رہے ہیں، شاید وہ اس شادی کی تقریب دیکھنے کے لیے موجود ہی نہ ہوں گے۔
ہم چاہے لاکھ منصوبہ بندی کریں، ہم چاہے ہزاروں پروگرام بنا لیں، لیکن ہمارے منصوبوں اور ہمارے پروگراموں میں ہم خود بھی شامل ہوں گے یا نہیں، اس کا علم سوائے خدائے تعالیٰ کی ذات کے کسی کو نہیں۔
تو کیوں نہ ہم ان حادثات پر جہاں افسوس کا اظہار کریں، پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کریں اور مرنے والوں کے حق میں مغفرت اور بلند درجات کی دعا کریں، وہیں اپنی زندگیوں کا محاسبہ بھی کریں اور اپنے اعمال کا جائزہ بھی لیں۔
شاید ایسا کرنے سے ہم اس زندگی میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں اور اس ہمیشہ رہنے والی زندگی میں بھی کامیابی کا درجہ حاصل کر سکیں، جہاں ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی زندگی کی قدر کرنے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ہمیں ملنے والی مہلتِ زندگی کا صحیح استعمال کرنے والا بنائے۔آمین یا رب العالمین۔



