
روس ۔ یوکرین جنگ رواں سال کی ۲۴ فروری کو شروع ہوئی۔ اب اس جنگ کو تین مہینے ہونے جا رہے ہیں۔ جنگ اب بھی شروع ہے۔ روس برابر یوکرین کے علاقوں پر حملے کئے جا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ روس یوکرین کے تمام علاقون کو کھنڈروں میں تبدیل کر دے گا۔ یوکرین نے تباہی مچی ہوئی ہے۔
یوکرین کے کئی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ روس کے حملے شہری آبادی پر ہونے سے کئی شہری جنگ کی زد میں آجانے سے کام آگئے۔ روس نے جھنجھلاہٹ میں یوکرین کے فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں یوکرین میں ہی تباہی مچی ہوئی نہیں بلکہ یوکرین کی طرف سے جوابی کارروائی میں روس کے فوجی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق یوکرین کی جوابی کارروائی میں روس کے ۰۰۰،۳۰ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اس کے علاوہ ہزاروں روسی ٹینک ، پچیس سو کے قریب فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
یوکرین کے صدر وو لو دو میر زیلینسکی نے روسی فوجیوں کو ایک ویڈیو نشریہ کے ذریعے پیغام نما دھمکی دی ہے کہ ہر روسی فوجی اپنی جان بچا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کی سرزمین پر مرنے سے بہتر ہے کہ روسی فوجی روس میں رہ کر زندہ رہیں۔
روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یوکرین کے ۲۶۰۰ سو سے زائد ٹینک ۱۱۲ ہیلی کاپٹر ناکارہ بنا دئے گئے۔ اس طرح دونوں طرفین کی جانب سے دعوے اور جوابی دعوے کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس وقت روس۔ یوکرین جنگ یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور ڈونیٹسک میں بڑے پیمانے پر لڑی جا رہی ہے۔ مذکورہ علاقوں کو ڈوبناس ریجن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ روس نے یوکرین پر ہتھیار ڈال دینے کے لئے دبائو بڑھانے کی خاطر خرکیف کے علاقے میں زبردست کوشش کی ہے۔
دنیا بھر سے روس کی مذمت کی جا رہی ہے۔ مذمت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ روس نے یوکرین پر حملہ کیوں کیا؟ کیا وہ ایک خود مختار ملک کو اپنا زیر نگیں کرنا چاہتا ہے؟ روس کا ہدف کیا ہے ؟ آخر روس چاہتا کیا ہے؟
یہ اور کئی ایسے سوالات ہیں جن کاکوئی جواب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے آج تک نہیں دیا۔ اس لئے دنیا چاہتی ہے کہ روس کو فوراً جنگ بندی کا اعلان کر دینا چاہئے۔ وہ ناحق انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے۔ اس کے برعکس ، روس نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر کسی نے یوکرین کی مدد کی تو مدد کرنے والے کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔پھر یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔ جس کی زد میں ساری دنیا آجائے گی۔ روس ایک عظیم طاقتور ملک ہے اور وہ اب واقعی دنیا پر اپنا دبدبہ بنانا چاہتا ہے۔
روس کی حرکتیں دنیا جہان ابھی تک نہیں بھولی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ۱۸ دسمبر ۱۹۸۰ء کو افغانستان نے روس کی فوج کی مدد سے خونی انقلاب آیا تھا اس وقت افغانستان میں روس کی ۰۰۰،۸۵ مسلح افواج اپنے جنگی اسلحہ کے ساتھ موجود تھیں۔ روس کی مذکورہ کارروائی کی دنیا بھر میں سخت مذمت کی گئی تھی اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں فوراً واپس بلا لے۔مگر روس نے اپنی فوجیں افغانستان سے واپس نہیں بلائی تھی۔
وہ ڈھٹائی پر اڑا رہا۔روس نے افغانستان کی مدد کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ وہ دروغ گو ہے۔ بات دراصل یہ تھی کہ روس برصغیر میں اپنے قدم جمانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ روس ایک نیو کلائی بڑی طاقت ہے۔ اسے دروغ گوئی سے کام نہیں لیناچاہئے ۔ کوئی سولہ برس بعد روس کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہونا پڑاکیونکہ اتنے برس بعد بھی روس کے ہاتھ خالی رہے۔
اس وقت افغانستا ن روس کی مدد کو دنیا نے براہِ راست حملہ قرار دیا تھا افسوس اس بات کا تھا کہ کسی نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں پیش نہیں کیا تھا اور نہ ہی اقوامِ متحدہ کو اجلاس بلانے کی توفیق ہوئی۔ اب جبکہ اقوامِ متحدہ میں موجودہ جنگ کامعاملہ پیش کیا گیا تو روس نے ویٹو کر دیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوامِ متحدہ کو فوراً دوبارہ اجلاس طلب کرنا چاہئے اور اس معاملے کا حل ڈھونڈنا چاہئے۔ یہ امر بھی تعجب خیز ہے کہ سلامتی کونسل بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔
یوں محسوس ہو رہا ہے کہ روس نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے بالکل ایسی جگی تلاش کی جو اس کا پڑوسی ملک ہے۔ شاید اس نے یوکرین کو نرم چارہ سمجھ رکھا ہے۔ کسی شکاری کو شکار کرنے کے لئے بالکل ایسی جگہ کی تلاش ہوتی ہے جہا ں وہ اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔ روس بھی ایک شکاری ہے مگر وہ کتنے برس جنگ کرتا رہے اس کے ہاتھ کچھ نہیں لگے گا۔ اسے خالہ ہاتھ ہی لوٹنا پڑے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ افغا نستان سے واپس لوٹا تھا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق روس اب صلح پر اتر آیا ہے۔ یوکرین کے صدر وو لو دو میر زیلینسکی اس کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ ولادیمیر پوتن نے مذاکرات کے لئے ایک خاکہ پیش کر دیا۔ تاس Tass کے مطابق صدر پوتن نے مغربی ممالک سے یوکرین کو ہتھیار فراہمی کا سلسلہ بند کر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یوروپی یونین نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی۔ حال ہی میں چھٹے مرحلے کا اعلان کیا گیا جس کی وجہ سے یوروپ کی طرف سے تیل کی درآمد پرمکمل پابندی ہو گی۔ پھر چاہے وہ سمندر سے نکالا جانے اوالا تیل ہو ، خام تیل ہو، یا صاف کیا ہوا تیل ہو۔ اسی طرح ایک کمیٹی قائم کر کے بینکوںکے درمیان لین دین کی سہولت ختم کر دی جائے گی۔جس کی وجہ سے صدر ولادیمیر پوتن کو نا اہل کر کے روس کے مالیاتی شعبے کو عالمی نظام سے الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔
اب تازہ ترین اطلاع کی فراہمی میں واضح کیا ہے کہ موجودہ جنگ میں کئی ہزار روسی فوجیوں کی ہلاکت کے پیش نظر روس میںنئے فوجی بھرتی کئے جا رہے ہیں مگر نئے فوجیوں میں وہ قابلیت نہیں جو جنگ کے لئے درکا رہوتی ہے۔ ادھر وولودو میرزیلینسکی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور یوکرینی فوجیوں کی ہمت افزائی کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے یوکرین کی افواج کے حوصلہ بلند ہیں۔ بلا شبہ یوکرینی عوام، فوج اور وولودو میرزیلینسکی داد کے مستحق ہیں۔



