سیاسی و مذہبی مضامین

بچت میں برکت بھی ہے راحت بھی ✍️محمد مصطفی علی سروری

✍️محمد مصطفی علی سروری
وی بھوپتی کی عمر 29 برس ہے۔ وہ تاملناڈو کے گاندھی میدان واقع اماں پیٹ شہر کا رہنے والا ہے۔ بھوپتی بنیادی طور پر ایک کمپیوٹر آپریٹر ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کی طرح اس کا بھی خواب ہے کہ وہ ایک بائیک خریدے۔ اس نے ایک مرتبہ ایک بائیک کو دیکھا۔ شوروم جاکر اس کی قیمت بھی معلوم کی۔ لیکن بھوپتی کے پاس اس بائیک کو خریدنے کے لیے رقم نہیں تھی۔
بھوپتی  نے ارادہ کرلیا کہ میں آج نہیں خرید سکا تو غم نہیں لیکن ایک دن ضرور یہ بائیک خریدوں گا۔ بجاج کمپنی کی تیار کردہ بائیک کی قیمت دو لاکھ تھی۔ بھوپتی نے جس وقت بائیک خریدنے کا سوچا تھا اس بات کو تین برس گذر چکے تھے۔ پھر ایک دن بھوپتی بجاج کمپنی کے شوروم کو پہنچ کر بجاج کی بائیک خریدنے کا سودا کرتا ہے اور بجاج کمپنی کے شوروم کے مالکان یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں کہ بھوپتی گاڑی کی رقم سکوں کی شکل میں ادا کرنا چاہتا ہے۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا میں 28؍ مارچ 2022ء کو شائع رپورٹ کے مطابق بھوپتی کے جذبہ کو دیکھ کر شوروم مالک نے آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ مہا وکرانت شوروم کے مالک نے اخبار کو بتلایا کہ حالانکہ بینک بھی ایک لاکھ روپئے کی گنتی کے لیے 140 روپئے کمیشن چارج کرتے ہیں لیکن بھوپتی کی بچت کر کے اسی رقم سے اپنی گاڑی خریدنے کے جذبے کو دیکھ کر ہم لوگوں نے ایک روپئے کے سکوں پر مشتمل چلر کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ 
اب ایک روپیوں کے چلر کو گننا بھی آسان نہیں تھا۔ خود بھوپتی کے علاوہ اس کے چار دوست اور شوروم کے پانچ ملازمین نے مل کر تقریباً 10 گھنٹوں کے دوران دو لاکھ ساٹھ ہزار کے سکوں کو شمار کیا اور پیر 28؍ مارچ کی رات 9 بجے بھوپتی بجاج کی نئی بائیک اپنے ساتھ گھر لے جاسکا۔
قارئین کرام آج کی نوجوان نسل میں ہر دوسرا فرد اپنے لیے ایک بائیک خریدنے کی چاہت رکھتا ہے لیکن بہت کم ایسے نوجوان ہوتے ہیں جو روزآنہ کی بنیادوں پر بچت کو معمول بناکر طویل مدت میں لاکھوں کی مالیتی اشیاء کی بھی خریداری کرلیتے ہیں۔
اگر ہم بھوپتی کے بجٹ کی بات کریں تو کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کرنے والے اس نوجوان نے روزآنہ کی بنیادوں پر تقریباً 270 روپیوں کی (سکوں کی شکل میں) بچت کو اپنا معمول بنالیا اور یوں تین برسوں کی بچت کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ ایک خوبصورت اسپورٹس بائیک کی اپنے بل پر خریداری کرسکا۔
ANI کی رپورٹ کے مطابق تین برس قبل جب بھوپتی نے بجاج کی بائیک کی قیمت پوچھی تھی تو وہ دو لاکھ تھی اور تین برس بعد جب وہ بائیک خریدنا چاہتا تھا تب تک اس کی قیمت میں 60 ہزار کا اضافہ ہوگیا تھا۔ بھوپتی کو تقریباً زائد 222 دن مزید روزآنہ کی بنیادوں پر تقریباً 270 روپیوں کی بچت جمع کرنا پڑا اور پھرپورے تین برسوں کے بعد اس نوجوان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔
قارئین کرام مسلم سماج میں بچت اور محنت کے حوالے سے بہت زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان نسل میں نہ تو بچت کے متعلق سنجیدگی ہے اور نہ محنت کرنے کی۔ ساتھ ہی محنت کرنے والے کو توہین آمیز نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ 
اس طرح کی غفلت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ شہر حیدرآباد سے ہی ایک خبر کو میڈیا نے کور کیا ہے۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ ایک ہائی اسکول کا طالب علم گاڑی دلوانے کے لیے اپنے بڑے بھائی سے ضد کرتا ہے۔
بڑا بھائی گھر کا ذمہ دار تھا اور یہ جانتا تھا کہ ہائی اسکول کے طالب علم کے لیے گاڑی ابھی ضروری نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی سچ تھا کہ کم عمر ہونے کے سبب لڑکا لائسنس بھی نہیں بنوا سکتا ہے لیکن ماحول اور صحبت کے خراب ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے بڑے بھائی نے جب گاڑی دلانے سے منع کردیا تو چھوٹا لڑکا غصہ کی حالت میں اپنے کمرے میں جاکر دروازہ بند کرلیتا ہے اور بہت دیر تک جب وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتا ہے تو گھر کے بڑے دروازے کو توڑ کر اندرجاتے ہیں تو وہاں پر انہیں چھوٹے بچے کی فیان سے لٹکتی ہوئی نعش دکھائی دیتی ہے۔
اس اندوہناک واقعہ سے بہت سارے سبق سیکھنے کو ملتے ہیں کہ کس طریقے سے ماحول میڈیا خاص کر سوشل میڈیا نے لاک ڈائون کے دوران ہماری نوخیز نسل کے معصوم ذہنوں کو پراگندہ کردیا ہے کہ ہمارے بچے ہر میدان میں ہر سوال پر اپنی بات کو منوانے اپنی ضد کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنا پسند کرنے لگے ہیں کہ ذرا سی ناگوار بات اور ناخوشگوار حالات پر اپنی زندگی ختم کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
نوجوان بچوں کی موت کس کو نہیں رلاتی ہے جو بھی خبر دیکھ اور پڑھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھی جاسکتی تھی لیکن ایک معصوم جان کو گنوا دینے کے بعد ہمارا معاشرہ اگر اس مسئلے پر توجہ مرکوز نہ کرے تو اس مسئلہ کا سدباب ممکن نہیں اور مسلم معاشرے کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑسکتی ہے۔ 
ہمارے اطراف و اکناف میں لوگ کیسے کیسے طریقوں سے سخت محنت کر رہے ہیں اس کے متعلق مسلم نوجوانوں کو بھی واقف کروانا ضروری ہے۔ بہت سارے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری نوکری مل جائے تو بڑی نعمت ہے لیکن محنت تو سرکاری ملازمین کو بھی کرنی پڑتی ہے۔ سردار ہرپال سنگھ عادل آباد کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ 
بی رجیتا کمارم بھیم آصف آباد کے کیرا میری منڈل کے ایک سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں۔ اپنے گھر سے اسکول جانے کے لیے رجیتا کو روزانہ 24 کیلو میٹر کا سفر طئے کر کے جانا اور پھرر واپسی میں 24 کیلومیٹر کا سفر طئے کر کے گھر واپس آنا پڑتا ہے۔
لیکن قارئین کرام یہ 24 کیلومیٹر کا یکطرفہ سفر بھی کس قدر مشکل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کیسے یہ سفر طئے کرتی ہیں۔ ہر پال سنگھ لکھتے ہیں کہ بی راجیتا اسکول تک سفر کے لیے تین الگ الگ سواریوں کو استعمال کرتی ہیں۔
صبح صبح آصف آباد سے بس کے ذریعہ سفر کر کے دھنورا گائوں کو پہنچتی ہیں وہاں سے بائیک پر تقریباً 4 کیلومیٹر کا سفر کرتی ہیں۔ 4 کیلومیٹر کا جنگلاتی علاقے سے سفر پورا کرنے کے بعد رجیتا اپنے اسکول پہنچنے کے لیے آخری مرحلے میں کشتی کے ذریعہ 150 میٹر کا فاصلہ طئے کرتے ہوئے اسکول پہنچنا پڑتا ہے۔ اور یہ جس طرح سے ایک طرفہ سفر کی روداد ہے واپسی بھی انہی تین الگ الگ ذرائع کو استعمال کر کے رجیتا واپس اپنے گھر پہنچتی ہیں۔
یہ ایک مثال ہے کہ سرکاری ملازمین کو بھی اپنی نوکری کے فرائض انجام دینے کے لیے سخت جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔ سعودی عرب کے حوالے سے بھی ہندوستانی معاشرے میں بہت ساری کہانیاں مشہور ہیں کہ سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے وہاں تو ڈالر اور ریال کی بس ریل پیل رہتی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن اسی سعودی عرب میں بھی لوگ سعودی ہونے اور سعودی شہریت رکھنے کے باوجود محنت سے جی نہیں چراتے اور معذوری کو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے لیے بہانہ نہیں بناتے۔
اتوار 20؍ مارچ 2022ء کو سعودی عرب کے اردو اخبار ’’اردو نیوز‘‘ نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں ایک خبر شائع کی جس کی سرخی یوں تھی’’نابینا سعودی میکانک جو چھوکر گاڑی کی خرابی بتادیتے ہیں۔‘‘
رپورٹ میں بتلایا گیا کہ سعودی نوجوان سلیمان اور صالح دونوں اپنی آنکھوں سے محروم اور نابینا ہیں۔ لیکن اس جسمانی معذوری کو بنیاد بناکر گھر بیٹھے رہنے اور اپنی معذوری کو کمائی ذریعہ بنانے کے بجائے ان لوگوں نے ورکشاپ میں جاکر گاڑیوں کی درستگی اور مرمت کا کام سیکھا۔
اب ان دونوں نابینا سعودی نوجوانوں کو اپنے پیشے کے بارے میں تمام چھوٹی بڑی باتوں کا علم ہے۔ انہوں نے مختلف ماڈل کی گاڑیوں کی خرابیوں کے بارے میں معلومات حاصل کر رکھی ہے اور گاڑیوں کی مرمت کر رہے ہیں۔ 
یہ تو آنکھوں سے معذور سعودی نوجوانوں کی خبر تھی جو محنت کر کے اپنے لیے خود معاش کے ذرائع پیدا کر رہے ہیں۔ صحتمند سعودی خواتین کی بھی یہاں پر ایک مثال موزوں معلوم ہوتی ہے۔ اس سعودی خاتون کے متعلق اردو نیوز جدہ کی ویب سائٹ نے گذشتہ برس 21؍ مارچ کو ہی خبر دی کہ اخباری رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے تبوک علاقے میں ایم الحسن نے ایک ورکشاپ میں ملازمت کر کے پہلی سعودی خاتون میکانک ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے حوالے سے اخبار نے لکھا ایم الحسن پہلے تو بے روزگاری سے پریشان تھی اور پھر اس سعودی خاتون نے بے کار رہنے کے بجائے میکانک کا کام سیکھنا شروع کیا اب وہ کمپیوٹر کی مدد سے الیکٹرانک کاروں کی خرابی کا پتہ لگانے میں ماہر بن چکی ہیں اور اپنی مدد آپ کر رہی ہے۔ 
سعودی عرب میں عورتوں کے گاڑی چلانے پر تو ہم تبصرہ کرتے ہیں مگر سعودی عرب جیسے ملک کی خواتین کی محنت اور معذوروں کی جانب سے اپنی مدد آپ کرنے کے متعلق خبروں پر ہم توجہ مرکوز نہیں کرتے اور بدستور خواب غفلت میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی حالات بدل چکے ہیں۔ تعلیم، روزگار اور معاشی حالات بھی بڑی تیزی سے بدلے ہیں۔ کرونا کی وباء نے تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کردیا ہے۔ ایسے میں یہ بچوں کے ساتھ ہرگز محبت نہیں ہے کہ ہم انہیں مہنگی مہنگی گاڑیاں خرید کر دیں۔
آج کی ضرورت یہ ہے کہ ہم بچوں کو خود بچت کرنے اور خود محنت کرنے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی زیادہ سے زیادہ ترغیب دلائیں۔ ہمت افزائی کریں۔ حلال طریقے سے محنت کر کے کمانے پر زور دیں اور حرام لقمے کی پہچان کرواکر ان سے محفوظ ہنے کی تلقین کریں تاکہ اللہ رب العزت مدد و نصرت ہمارے نوجوانوں کے ساتھ شامل حال ہوسکے۔ آمین یا رب العالمین۔ 
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button