دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں انکی امداد کرنا ہر صاحب نصاب مسلمان کا دینی، ملی، واخلاقی فریضہ ہے
از:حافظ محمد الیاس
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے ایک دیرینہ نیازمند ،جو مشہور ادیب تھے انہوں نے اپنی کتاب "خون بہا میں ڈاکٹر اقبال کے بارے میں بھی اپنی بعض یادداشتیں قلمبند کی ہیں، اس کتاب میں انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک مجلس میں میں نے دینی مکاتب و مدارس کا تذکرہ کیا تو شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نےمجھے مخاطب کرتے ہوئے بڑی دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ فرمایا:جب میں تمہاری طرح جوان تھا تو میرے قلب کی کیفیت بھی ایسی ہی تھی میں بھی وہی کچھ چاہتا تھا جوتم چاہتے ہو۔ایک ایساانقلاب جوہندوستان کےمسلمانوں کومغرب کی مہذب و متمدن قوموں کے دوش بدوش کھڑا کر دے۔
لیکن یورپ کود یکھنے کے بعد میری راۓ بدل گئی ہےان مکتبوں کو اس حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مکتبوں میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اوردرویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔
اگر ہندوستان کے مسلمان ان مکتبوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کےباوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء اور باب الاخوتین کےسوااسلام کے پیروؤں اوراسلامی تہذیب کےآثار کا کوئی نقش ہی نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوامسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔(اوراق گم گشتہ،از رحیم بخش شاہین بحوالہ چراغ راه: ۹۲)
اسمیں کوئی شک اور شبہ نہیں کہ دینی مدارس ملت اسلامیہ کا دھڑ کتا دل ہے۔ وہ دل جس کی دھڑکن زندگی کی علامت اورپہچان ہے اور جس کی خاموشی موت کی خاموشی بن جاتی ہے، دل اگر پورے جسم میں خون پہنچاتا ہےاوراسےسرگرم وزندہ رکھتا ہے تو یہ دینی مدارس بھی امت مسلمہ کو دین کاخادم مبلغ و ترجمان فراہم کرتے ہیں جن کی وجہ سے امت مسلمہ کا وجود تحریک زندہ اور فعال رہتا ہے تمام دینی جماعتوں تحریکوں،اداروں تنظیموں اورسوسائٹیوں کو یہیں سےقوت و طاقت، کمک اور رسد پہنچتی ہے۔
اگر ان اداروں تحریکوں، جماعتوں اور تنظیموں کو یہاں سے یہ پاور طاقت وقوت انرجی نہ پہنچے توان کی فعالیت اور حرکت وحرارت میں کمی آجائے اور ایک طرح سے بے جان و بےحس ہوجاۓ داعی ہوں یا مبلغ دین کا خادم ہوں یا ترجمان امام ہوں یا خطیب مصنف ہوں یا مولف مرتب ہوں یا صحافی ومحرر خطیب ہوں یاواعظ استاد ہوں یامربی مفتی ہوں یا قاضی امیر ہو یا حاکم یا کوئی بھی خدمت گزاردین کے لائن سے ہوں یا سماجی ورکررکے اعتبار سے سب اس کے خوشہ چیں اسی گل کے پھول وکلی اور اسی چمن کے گلہاۓ رنگارنگ ہوتے ہیں ۔
مدارس اسلامی حفاظت دین، فروغ دین اور اشاعت اسلام کا ذریعہ ہیں،تقریبا ڈیڑھ سو سالوں سے تو خود ہندوستان بلکہ بر صغیر میں ان مدارس کے جو خدمات اورکردار ہیں وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہےموجودہ ہند میں اسلامی تہذیب کے جوبھی جلوے ہمیں نظر آتے ہیں، وہ انہی مدارس کی دین ہیں اورانہیں دینی اداروں کافیض ہے انہیں دینی اداروں نےاسلام کی فکری سرحدوں کی حفاظت کے لئے ایسے افراداور ایسی ٹیم تیار کی ہے۔
جو اپنے زمانہ کے چیلنجوں کا ڈٹ کر ،آنکھ سے آنکھ ملا کر اور سینہ سپر ہوکر مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت ہر طرح کی قربانی دے کر امت کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کا حوصلہ رکھتی ہے،آپ ماضی قریب کی تاریخ اٹھا کردیکھ لیجئے اور تاریخ کےان اوراق کا مطالعہ کرلیجئے آپ کومعلوم ہوگا کہ جب بھی اسلام کے خلاف کوئی آندھی چلی تو ان مدارس اور دینی جامعات کے فارغین اور فضلاء نے ہی اس باد سموم اورباد سرسر کامقابلہ کیا اور امت محمدی کو راہ حق کی رہنمائی کی۔
لہذا مذکورہ ساری حقیقت یہ ثابت کرتی ہے کے مدارس اسلامیہ دین کے قلعے ہیں اور ان کی حفاظت ہر صاحب نصاب مسلمان پر فرض ہے لہذا مدارس کے سفیر رمضان المبارک میں دور دراز کا سفر طئے کرکے آپ تک پہنچےگے۔
تمام امت مسلمہ سے گزارش ہے کہ معتبر مدارس کےسفیر کی دامے، درمے، قدمے، سخنے، ہر طرح سے اپنی زکوٰۃ صدقات اور عطیات کے ذریعے انکی امداد فرمائیں مدارس اسلامیہ دین کے مضبوط قلعے ہیں ان کی حفاظت اور ان کی ہر طرح سے امداد کرنا ہر صاحب نصاب مسلمان کا دینی، ملی،واخلاقی فریضہ ہے۔



