shab e barat 2023
ماہِ شعبان کو شعبان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شعبان شَعَبَ یَشْعَبُ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے نکلنا، ظاہر ہونا، پھوٹنا چونکہ اس مہینہ میں خیر کثیر پھوٹتی اور پھیلتی ہے اور بندوں کا رزق تقسیم ہوتا ہے اور تقدیری کا م الگ ہوجاتے ہیں اس وجہ سے اس مہینہ کا نام شعبان رکھ دیا۔
شعبان اسلامی سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے، جس کا نام ہی خیر وبرکت کی تقسیم انعامات ربانی او رعطایا الٰہی کی فراوانی پر دلالت کرتا ہے۔
ماہ شعبان اور رسول خدا ﷺ
حبیب خدا ﷺ کا ارشاد عالی ہے ،شعبان میرا مہینہ ہے۔ماہ شعبان کو رسول اللہ ﷺ نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے اور اس کو اپنی جانب منسوب کیا ہے اس کے بعد شعبان کے دیگر فضائل ذکر کرنے کی حاجت نہیں رہتی، کیونکہ جو مہینہ حضور ﷺ کا ہوگا وہ عظمت بزرگی میں بھی غیر معمولی مقام رکھتا ہوگا۔آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ روزوں میں بہتر روزے کون سے ہیں؟ آپ e نے فرمایا شعبان کے روزے، رمضان کے روزوں کی تعظیم کے لئے۔ آپ e کو یہ بات بہت زیادہ پسند تھی کہ شعبان کے روزے ر کھتے رکھتے رمضان سے ملادیں۔
حضرت اسامہ بن زید کی روایت
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺسے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ آپ شعبان کے مہینے میں جتنے روزے رکھتے ہیں میں نے آپ کو کسی او رمہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رجب اور رمضان کے درمیان وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہوجاتے ہیں اور اسی مہینے میں بارگاہ رب العالمین میں اعمال لے جائے جاتے ہیں تو میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال لے جائے جائیں تو میں روزے سے ہوں۔آنحضرت e نے فرمایا شعبان کی بزرگی دوسرے مہینوں پر اسی طرح ہے جس طرح مجھے تمام نبیوں پر بزرگی دی گئی ہے۔
ماہ شعبان اور شاگردانِ رسولِ خداﷺ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بزرگ اصحاب شعبان کا چاند دیکھ کر قرآن کریم (زیادہ) پڑھا کرتے تھے، مسلمان اپنے مال سے زکوٰۃ بھی نکالا کرتے تھے تاکہ غریب اور مسکین لوگ فائدہ اٹھاسکیں اور ماہ رمضان کے روزے رکھنے کیلئے ان کا کوئی وسیلہ بن جائے، حاکم لوگ قیدیوں کو بلاکر ان میں سے جو حد جاری کرنے کے لائق ہوتے تھے ان پر حد جاری کرتے تھے، باقی قیدی رہا کردیئے جاتے تھے، کاروباری لوگ بھی اسی ماہ میں اپنا قرض ادا کیا کرتے تھے اور دوسروں سے جو کچھ وصول کرنا ہوتا تھا وصول کرلیا کرتے تھے۔
عظمتوں والی رات شب برأت
حٰمٓ۔ وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ۔ اِنَّآ اَنزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنذِرِیْنَ۔ فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ۔ اَمْرًا مِّنْ عِندِنَا اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ۔ قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) ایک برکت والی رات میں اتارا ہے (کیونکہ ) ہم بوجہ شفقت کے اپنے ارادہ میں اپنے بندوں کو آگاہ کرنے والے تھے یعنی ہم کو یہ منظور ہوا کہ ان کو مضرتوں سے بچانے کے لئے خیر وشر پر مطلع کردیں، یہ قرآن کو نازل کرنے کا مقصد تھا، آگے اس شب کی برکات ومنافع کا بیان ہے کہ اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری طرف سے حکم (صادر) ہوکر طے کیا جاتا ہے۔ یعنی سال بھر کے معاملہ جوسارے کے سارے ہی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اس طرح انجام دینے اللہ کو منظور ہوتے ہیں اس طریقے کو متعین کرکے ان کی اطلاع متعلقہ فرشتوں کو کرکے ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، چونکہ وہ رات ایسی ہے اور نزول قرآن سب سے زیادہ حکمت والا کام تھا اس لئے اس کے لئے بھی یہی رات منتخب کی گئی۔
ان آیات میں لیلۃ مبارکہ سے مراد حضرت عکرمہ اور مفسرین کی ایک جماعت کے نزدیک شب برأت ہے۔ (روح المعانی ۱۳؍۱۷۰) چنانچہ اس تفسیر پر مذکورہ آیات سے ماہ شعبان کی پندرہویں شب کی خصوصیت سے بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ eنے فرمایا شعبان کی پندرہویں رات کو میرے پاس جبرئیل ع س آئے اور کہا اے محمدﷺ! یہ ایسی رات ہے جس میں آسمان او ررحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں لہٰذا اٹھئے اور نماز پڑھئے اور اپنے سر اور دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائیے، میں نے پوچھا اے جبرئیل! یہ رات کیسی ہے؟ کہا یہ ایسی رات ہے کہ جس میں رحمت کے تین سو دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو بخش دیتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہیں ،مگر جو شخص، جادوگر ہو یا کاہن ،کینہ رکھنے والا ہو یا ہمیشہ شراب پینے والا ہو یا سود کھانے والا، والدین کا نافرمان ہو یا چغل خور ، رشتہ داری توڑنے والا، ان لوگوں کیلئے معافی نہیں ہوتی جب تک ان تمام چیزوں سے توبہ نہ کرلیں او ران برے کاموں کو چھوڑ نہ دیں۔
نظر رحمت اور شب مغفرت
حضرت معاذ بن جبلؓ نبی کریمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب اپنی مخلوق کی طر ف نظر رحمت فرماکر تمام مخلوق کی مغفرت فرمادیتے ہیں سوائے مشرک او رکینہ ور کے۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نبی کریم e سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کیا کوئی مغفرت کا طالب ہے؟ کہ میں اس کی مغفرت کردوں، کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا دامن گوہر مراد سے بھردوں، اس وقت خدا سے جو مانگتا ہے اس کو ملتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی رو ایت
حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی رو ایت ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو جنت میں بھیج کر کہلواتے ہیں کہ پوری جنت سجادی جائے ، کیونکہ آج کی رات آسمانی ستاروں، دنیا کے شب وروز، درختوں کے پتوں، پہاڑوں کے وزن، اور ریت کے ذرّوں کی تعداد کے برابر اپنے بندوں کی مغفرت کروں گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : شعبان کی درمیانی رات میں جبرئیل علیہ السّلام میرے پاس آئے اور کہا اے محمد! اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائیے، میں سر اٹھایا تو جنت کے سب دروازوں کو کھلا ہوا پایا، پہلے دروازہ پر ایک فرشتہ کھڑا پکار رہا تھا کہ جو شخص ا س رات میں رکوع کرتا ہے (نماز پڑھتا ہے اسے خوشخبری ہو،
تیسرے دروازہ پر ایک فرشتہ کہہ رہا تھا جس نے اس رات میں دعا کی اسے خوشخبری ہے ،
چوتھے دروازے پر ایک فرشتہ کہہ رہا تھا جس نے اس رات میں خدا کے خوف سے آہ وزاری کی ہو اسے خوشخبری ہو۔
پانچویں دروازہ پر ا یک فرشتہ کہہ رہا تھا کہ اس رات میں تمام مسلمانوں کو خوشخبری ہو،
چھٹے دروازے پر ایک فرشتہ کہہ رہا تھا کہ اگر کسی کو کوئی سوال کرنا ہے تو کرے اس کا سوال پورا کیا جائے گا،
ساتویں دروازے پر ایک فرشتہ کہہ رہا تھا کہ کوئی ہے جو بخشش کی درخواست کرے اس کی درخواست قبول کی جائے گی۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا، یہ دروازے کب تک کھلے رہیں گے؟ انہوں نے جواب دیا پہلی رات سے صبح ہونے تک کھلے رہیں گے، پھر کہا اے محمد! اللہ تعالیٰ اس رات میں دوزخ کی آگ سے اتنے بندوں کو نجات دیتا ہے جتنے قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بال ہیں۔
عرب کے قبائل میں سے سب سے زیادہ بنوکلب کی بکریاں تھیں، ان تمام بکریوں کے جسموں پر جتنی تعداد میں بال تھے ان سے بھی کہیں زیادہ تعداد میں اللہ تعالیٰ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں، یہاں کوئی خاص تعداد مراد نہیں بلکہ تعداد کی زیادتی بیان کرنا مقصو د ہے کہ ایک بکری کے جسم پرکتنے بے شمار بال ہوتے ہیں اور پھر ان کثیر تعداد بکریوں کے جسم پر کتنے بے حساب وبے شمار بال ہوں گے ان سے بھی بڑھ کر اللہ رب العزت اپنے بندوں کو معاف فرماتے ہیں کوئی مانگنے والا، جھولی پھیلانے والا تو ہو۔ ؎
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
فرشتوں کی عید
جس طرح زمین پر مسلمانوں کی دو عیدیں ہیں اسی طرح آسمان پر فرشتوں کی بھی دو عیدیں ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کی عیدیں عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ہوتی ہیں اور فرشتوں کی عیدیں شب برأت اور شب قدر میں ہوتی ہیں، فرشتوں کی عیدیں رات میں اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے نہیں، مسلمان چونکہ سوتے ہیں اس لئے ان کی عیدیں دن میں ہوتی ہیں۔ (غنیۃ الطالبین :۳۶۳)
فیصلے کی رات
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ r بیان فرماتی ہیں کہ سرتاج دو عالم e نے مجھ سے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ اس شب میں یعنی شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے تو معلوم نہیں، آپ ہی بتادیجئے کہ کیا ہوتا ہے؟ آپ e نے فرمایا بنی آدم میں سے ہر وہ شخص جو اس سال پیدا ہونے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھ دیا جاتا ہے اور بنی آدم میں سے ہر وہ شخص جو اس سال مرنے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھا جاتا ہے اس رات میں بندوں کے اعمال اٹھالئے جاتے ہیں اور اسی رات میں بندوں کے رزق اترتے ہیں ۔
مولانا محمد رفعت قاسمی (مدرس دارالعلوم دیوبند) رقم طراز ہیں ’’ دنیا بھر کی حکومتوں میں یہ دستور ہے کہ وہ اپنے وسائل اور پالیسی کے مطابق آمدنی واخراجات کا بجٹ ایک سال پہلے ہی تیار کرلیتی ہیں ، ان کے پارلیمانی اور وزراء کے اجلاسوں کی میٹنگ میں اس بجٹ پر مہینوں بحث رہتی ہے ، یہ بجٹ اپنی حکومت کے اغراض ومقاصد کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ آنے والے سال میں ترقی کی کن منازل کو طے کرنا ہے۔
بعینہٖ شعبان کی چودہویں اور پندرہویں تاریخوں کے درمیان ہر سال خالق کائنات اپنی وسیع ترمملکت دنیا کے بجٹ کا اعلان کرتا ہے اور یہ بجٹ زندگی کے ہر زاویے پر محیط ہوتا ہے اس رات میں یہ بھی فیصلہ ہوتا ہے کہ آنے والے سال میں کتنے لوگوں کو دنیا میں بھیجنا ہے او رکتنے لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے کے بعد واپس بلایا جائے گا ،کتنا خرچ کرنے کی اجازت ملے گی او رکس سے کتنا کچھ واپس لے لیا جائے گا، شعبان کی پندرہویں شب میں عالم بالا میں حکیم وخبیر ودانا مدبر کے حکم کے مطابق دنیا والوں کیلئے جو روز ازل میں فیصلے کئے گئے تھے ان میں سے ایک سال کا جامع بجٹ کارکنان قضا وقدر یعنی خاص مقرب فرشتوں کے سپر د کردیا جاتا ہے ، اس دنیا میں سب کچھ وہی ہوتا ہے جو فرشتوں کو پیش کیا جاتا ہے۔
شب بیداری
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب آئے تو رات کو نماز پڑھو اور اگلے دن روزہ رکھو، کیونکہ غروب شمس سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک اللہ رب العزت قریب کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں او ریوں پکارتے ہیں، کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اس کی بخشش کردوں، کیا کوئی مبتلائے مصیبت ہے جو اس مصیبت سے بچنے کی درخواست کرے، میں اس کو عافیت عطا کردوں، کیا کوئی فلاں قسم کا آدمی ہے فلاق قسم کا آدمی ہے، ایک ایک ضرورت کا نام لے کر اللہ میاں پکارتے ہیں۔
شب برأت کی عظمتوں اور فضیلتوں کا کیا ٹھکانہ؟
یہی وہ مقدس رات ہے جس میں پروردگار عالم اپنی رحمت کا ملہ اور رحمت عامہ کے ساتھ اہل دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے ،دنیا والوں کو اپنی رحمت کی طرف بلاتا ہے ان کے دامن میں رحمت وبخشش اور عطا کے خزانے بھرتا ہے، بشارت ہو ان نفوس قدسیہ کو اور ان خوش بختوں کو جو اس مقدس رات میں اپنے پروردگار کی رحمت کا سایہ ڈھونڈتے ہیں، عبادت وبندگی کرتے ہیں، اپنے مولیٰ کی بارگاہ میں اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کی درخواست پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انکی درخواستوں کو اپنی رحمت کے صدقہ میں قبول فرماتا ہے۔



