ماہِ شعبان ایک بابرکت ورحمت والا مہینہ ہے۔دن رات ہفتہ ماہ وسال سب اللہ رب العزت کےبنائے ہوئے ہیں اوراللہ رب العزت نےہی ان میں سےبعض کوبعض پرفضیلت عطافرمائی ہےان ہی عظمت وفضیلت وبخشش والی راتوں میں ایک رات15/شعبان المعظم کی شب بھی ہے،جو شب برات کے نام سےجانی جاتی ہے۔
جو دراصل گناہوں وخطاؤں سےتوبہ کرکےاپنے مالک حقیقی اللہ رب العزت کوراضی کرنے کی رات ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاشعبان کو شعبان اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں رمضان المبارک کیلئے بہت زیادہ نیکیاں پھوٹتی ہیں،اور رمضان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ گناہوں کوجَلا دیتاہے۔(غنیتہ الطالبین)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے کے اکثر حصے میں روزے رکھاکر تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےرمضان المبارک کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھے ہوں۔
ایک اور حدیث میں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مہینوں سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ شعبان کے روزے رکھتے تھے شعبان کورمضان سے ملانےکیلئے۔اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے سوا لگاتار دومہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔
اللہ رب العزت کی طرف اعمال کا اٹھایاجانا
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاشعبان کا مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان کا مہینہ ہے، لوگ اس کی فضیلت سے غافل ہیں حالاں کہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ رب العزت کی طرف اٹھائے جاتے ہیں،لہٰذا میں اس بات کو پسند کرتاہوں کہ میرےاعمال بارگاہِ خداوندی میں اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزہ کی حالت میں ہوں۔
مرنے والوں کی فہرست کا ملک الموت کے حوالے ہونا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ!آپ ماہِ شعبان میں اتنی کثرت سے روزے کیوں رکھتے ہیں؟ ارشاد فرمایااس مہینے میں ہر اُس شخص کا نام ملک الموت کے حوالے کردیا جاتا ہے جن کی روحیں اس سال میں قبض کی جائیں گی لہٰذا میں اس بات کو پسند کرتاہوں کہ میرا نام اس حال میں ملک الموت کے حوالے کیا جائے کہ میں روزےکی حالت میں ہوں۔
شبِ براء ت کی فضیلت و اہمیت
ماہِ شعبان کی پندرہویں شب ”شبِ برأت“ کہلاتی ہے۔جس طرح مسلمانوں کے لیے اس روئے زمین پر عید کے دو دن (عیدالفطر وعیدالاضحیٰ) ہیں، اسی طرح فرشتوں کے لیے آسمان پر دو راتیں (شبِ براء ت وشبِ قدر) ہیں۔ مسلمانوں کی عید دن میں رکھی گئی ہے کیوں کہ وہ رات میں سوتے ہیں اور فرشتوں کی عید رات میں رکھی گئی ہے کیوں کہ وہ سوتے نہیں۔(غنیتہ الطالبین)
احادیث مبارک میں شبِ براء ت کی بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت بیان کی گئی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں میں نے ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلی تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع ( قبرستان) میں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ اےعائشہ تو یہ اندیشہ رکھتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرے ساتھ ناانصافی کریں گے؟ (یعنی میں تیری باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس چلا جاؤنگا؟)
میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ خیال ہوا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اےعائشہ!اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتاہے اور قبیلہٴ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتاہے۔
ایک دوسری روایت میں ہےحضرت علی فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن (پندرہویں تاریخ) کا روزہ رکھا کرواس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک آسمان دنیاپر نزول فرماتاہے اور ارشاد فرماتاہے کہ ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں، کیا ہے کوئی مجھ سے رزق کا طلب کرنے والا کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟
کیا ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ایسا؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ آواز دیتاہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔
شب براءت میں کون لوگ بخشش ومغفرت سےمحروم رہتے ہیں
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات روئے زمین کی طرف جھانکتاہے۔
یعنی متوجہ ہوتاہے پس اپنی تمام مخلوق کی بخشش ومغفرت فرمادیتاہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔اوردوسرے جگہ ارشاد فرمایا کہ مومنوں کو بخش دیتاہےاور کافروں کو مہلت عطا کر دیتاہے تاکہ وہ نافرمانی سے بازآجائیں،اور کینہ پرور لوگوں کو اسی حالت میں چھوڑ دیتا ہےیہاں تک کہ وہ اپنی اس حالت کو ترک کردیں۔
نصف شعبان کی رات کوقبرستان جانا
حضورصلی اللہ علیہ وسلم اس رات جنت البقیع (قبرستان)تشریف لے گئے تھے،آپ کےاِس عمل کےتحت ہمیں بھی قبرستان جانا چاہئےاور اپنے مرحومین کےلئے ایصال ثواب و دعائے مغفرت کرنا چاہئے کیونکہ اس رات اللہ کی طرف سےبخشش ومغفرت کوعام کر دیا جاتا ہےاس لئےاِس مبارک رات میں ہم اپنے مرحومین کو بھی یاد رکھیں۔
*نصف شعبان کی رات کواللہ کی رحمت وجنت کےدروازوں کاکھُل جانا*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ حضرت جبریل علیہ السلام شعبان کی پندرہویں رات میرے پاس آئےاور کہا کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم!آسمان کی طرف سراُٹھائیں،آپ فرماتےہیں میں نےمعلوم کیااےجبریل یہ کیا رات ہے؟
جبریل علیہ السلام نےجواب دیا یہ وہ رات ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کےدروازوں میں سےتین سو دروازےکھول دیتاہےاور ہر اُس شخص کوبخش دیتاہے کہ جو مشرک نہ ہو البتہ جادوگر،کاہن،شرابی،سودخوراور زناکار کی بخشش نہیں ہوتی جب تک کہ یہ لوگ توبہ نہ کرلیں۔
جب رات کاچوتھاحصہ ہواتوحضرت جبریل علیہ السلام نےپھرعرض کی اےاللہ کےرسول اپنا سر مبارک اُٹھائیے جب آپ نےاپناسر مبارک اُٹھا کر دیکھا تو جنت کے دروازے کھلے تھے۔اور پہل دروازے پرایک فرشتہ ندادے رہا تھا کہ اس رات میں رکوع کرنے والوں کیلے خوشخبری ہے۔
دوسرےدروازے پر کھڑا فرشتہ پکاررہا تھا کہ ہر اُس شخص کیلےخوشخبری ہے جس نےسجدہ کیا۔
تیسرے دروازے پر فرشتہ کہہ رہا تھا اِس رات دعا مانگنے والوں کیلےخوشخبری ہے۔
چوتھے دروازے پر فرشتہ ندادے رہا تھا کہ اس رات اللہ کا ذکر،کرنے والوں کیلےخوشخبری ہے۔
پانچویں دروازے پر فرشتہ پکار رہا تھا کہ اِس رات اللہ کےخوف سے رونے والوں کیلےخوشخبری ہے۔
چھٹے دروازے پر فرشتہ کہہ رہاتھا کہ اس رات تمام مسلمانوں کیلےخوشخبری ہے۔
ساتویں دروازے پر کھڑے فرشتے کی یہ نداتھی کیا کوئی سائل ہے کہ اُس کو اُس کے سوال کے مطابق عطا کیا جائے۔
آٹھویں دروازے پر فرشتہ پکاررہاتھا کہ کوئی بخشش کا طلب گار ہےکہ اُس کوبخش دیاجائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت جبریل سےمعلوم کیاکہ اےجبریل یہ دروازےکب تک کھلےرہیں گے؟
جبریل علیہ السلام نےفرمایارات کےشروع سےطلوع فجر تک۔پھرکہاکہ اےمحمدصلی اللہ علیہ وسلم اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کےبالوں کی برابرلوگوں کوجہنم سےآزادفرماتاہے۔(غنیتہ الطالبین)
شب برات کو مسلمانوں نے اجتماعی عبادت کی رات بنا دیاہے ، جبکہ یہ رات انفرادی عبادت کی رات ہے ناکہ اجتماعی عبادت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رات میں کسی بھی اجتماعی عبادت کا کرنا ثبوت کے ساتھ نہیں ملتا جو ہمارے لیے حجت ہو، اس لیے ہمیں بھی انفرادی عبادت کرنے کو ترجیح دینی چاہیے اور اجتماعی عبادت سے بچنا چاہیے۔
بہت سے ثواب کے کام جو اس رات سے منسوب کردیے گئے ہیں ان کا دور تک شب برات سے تعلق نہیں، وہ غیر ضروری کام ہیں جنہیں ناکرنا چاہیے اور نا ہی ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،جیسے حلوا پکانا،آتش بازی کرنا( اور یہ صریح فضول خرچی ہے) اجتماع کی شکل میں قبرستان جانا،گھروں کی ڈیکوریشن کرنا اور قبروں پر چادریں چڑھاناوغیرہ ( قبر پر چادر چڑھانا کسی بھی وقت صحیح نہیں) شب برات اعمال صالحہ کی رات ہے لہذا رب کو راضی کیجیے اور ایسے کاموں سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں جن سے پیارے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو۔



