نام و نسب:اس بہادر خاتون کا نام حضرت صفیہؓ تھا اور حضور انورﷺ کے دادا، جناب عبدالمطلب کی صاحب زادی تھیں، والدہ کا نام، ہالہ بنت وہب تھا، جو آنحضرتﷺ کی والدۂ ماجدہ، حضرت بی بی آمنہؓ کی ہم شیرہ تھیں،اس بناء پر حضرت صفیہؓ، رسول اللہﷺ کی پھوپھی کے علاوہ خالہ زاد بہن بھی تھی،حضرت حمزہؓ بھی حضرت ہالہؓ کے بطن سے تھے۔
چناںچہ حضرت صفیہؓ اور حضرت حمزہؓ حقیقی بہن، بھائی تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی چھے پھوپھیاں اور 9چچا تھے، جن میں سے حضرت حمزہؓ اور حضرت عبّاسؓ مشرف بہ اسلام ہوئے حضرت صفیہؓ اور ان کے صاحب زادے، حضرت زبیرؓ ’’سابقون الاوّلون ‘‘میں سے تھےجب کہ مزید دو پھوپھیاں، حضرت عاتکہؓ اور ارویؓ بھی بعد میں مسلمان ہوگئی تھیں۔
نکاح اور اولاد:حضرت صفیہؓ کا زمانۂ جاہلیت میں ابوسفیانؓ کے بھائی، حارث بن حرب کے ساتھ نکاح ہوا تھا، جن سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا،ان کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح ،اُم المومنین، حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ کے برادرحقیقی، عوام بن خویلد سے ہوا۔ اُن سے تین بچّے زبیرؓ، سائب اور عبدالکعب پیدا ہوئے۔
تاہم، عوام بن خویلد بھی جَلد وفات پاگئےیوں حضرت صفیہؓ جوانی ہی میں بیوہ ہوگئیں اور پھر اپنے بچّوں کی پرورش کی خاطر زندگی بھر نکاح نہیں کیا ۔
صاحب زادے کی خصوصی تربیت:حضرت صفیہؓ بہادر اور بارعب سردار کی بیٹی، سیّد الشہداء حضرت حمزہؓ جیسے بھائی کی بہن، شجاعت و بے خوفی، حق گوئی و بے باکی کی پیکر، نہایت زیرک، دانش مند، پُرعزم اور مدبّر خاتون تھیں۔
حضرت زبیرؓ کو توانا، مضبوط، جرّی اور نڈر بنانے کے ساتھ ساتھ سامانِ حرب کے استعمال کی خصوصی تربیت کا انتظام کیا، چناں چہ وہ شمشیر زنی، تیر اندازی، نیزہ بازی اور شہ سواری کے ماہر تھے۔
غزوات کے دوران میدان کار زار میں ان کے کارنامے تاریخِ اسلامی کی صفحات پر سنہرے حروف سے منقّش ہیں۔ حضرت زبیرؓ کو’’ عشرۂ مبشرہ‘‘ میں شامل ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ رسول اللہﷺ نے انہیں’’ حواریٔ رسولﷺ ‘‘ کے اعلیٰ خطاب سے نوازا حضرت زبیرؓ کہتے تھے کہ یہ سب میری والدہ، حضرت صفیہؓ کی تربیت کا انعام ہے۔



