
سوشل میڈیا کا دور ہے ہر خاص و عام استعمال کررہا ہے اسکے فوائد تو ہیں ہی پر نقصانات بھی کسی سے مخفی نہیں ہیں ۔ادھر کچھ سالوں سے دجالی تنظیموں نے شارٹ ویڈیو کے نام پر ایسا کھیل رچایا کہ ہمارے دلوں سے شرم و حیاء ختم ہوگئی ۔ نہ جانے کتنے دلوں سے ایمان کے روشن چراغ گل کر کے ارتداد کی شمعیں جلا دیں۔
اس فتنے میں دیگر اقوام کے مقابل ہماری ہی قوم زیادہ ملوث ہے کیوں کہ جب ہم شارٹ ویڈیو ٹاپ ایکٹرس کی جانب نگاہ اٹھاتے ہیں تو غیروں سے زیادہ ہماری قوم کے لڑکے اور لڑکیاں ہی نظر آتی ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے وہ بچے جو ڈھنگ سے ناک صاف کرنا نہیں جانتے انکے کروڑوں فالورز ہیں۔
حال ہی کا واقعہ ہے کہ ایک لڑکی جسکی عمر تقریبا چودہ یا پندرہ سال رہی ہوگی وہ روضئہ اقدس ﷺ کی تصویر پر تو کجا من کجا نعت کے ساتھ ایک شارٹ ویڈیو بنا کر اپلوڈ کرتی ہے۔ شومئی قسمت وہ ویڈیو وائرل ہوجاتا ہے تسبیحات کے تبصروں کے انبار لگ جاتے ہیں فالورز میں اضافہ ہوتا ہے پھر کچھ روز تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے فالورز میں مزید اضافہ ہوا اور اچھی خاصی انسٹا فیملی ہوگئی۔
کچھ لوگوں نے بذریعہ میسیج اسے یہ مشورہ دیا کہ اب آپ خود کے ویڈیوز بنائیں تو اس نے نقاب کے ساتھ ویڈیو بناکر ڈالا بد قسمتی ہی کہیں گے وہ ویڈیو بھی کافی وائرل ہوا فالورز میں اور اضافہ ہوا۔اب اس کے فالورز نے مطالبہ کردیا کہ آپ دیدار کرائیں یعنی چہرہ کھول کر ویڈیو بنائیں تو چہرہ بھی دکھا دیا اور حجاب پر اکتفاء کرتے ہوئے ویڈیو بنایا کچھ دن کے بعد حجاب بھی غائب ہوگیا ۔
آج حال یہ ہے کہ لباس تو جسم سے گیا ہی ہے پر ذہنیت یہ ہوگئی ہے کہ وہ کسی بھی مسلمان لڑکے سے شادی کرنا پسند نہیں کرے گی مطلب ان ویڈیوز کی وجہ سے ارتداد کے دہانے پر کھڑی ہے اللہ حفاظت فرمائے ۔۔
میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ خدا کے لئے اپنی اولاد کی فکر کریں انہیں اسلامی تعلیمات سے آراستہ کریں تا کہ وہ جائز و ناجائز کی تمیز کر سکیں دشمنانِ اسلام کے حربوں کو بر وقت پہچان سکیں ورنہ میدان محشر میں آپکا گریبان ہوگا اور اولاد کے ہاتھ ہوں گے۔
گر وہ بروز قیامت آپ سے کہہ بیٹھے کہ آپ نے ہمیں دینی تعلیم دی ہوتی تو آج ہمارا یہ حال نہ ہوتا آپ کیا جواب دیں گے؟
الامان والحفیظ
حذیفہ ایوبی متعلم مدرسہ عربیہ ادارہ محمودیہ محمدی لکھیم پور یوپی



